بحیثیت ہندوستانی مسلمان''وندے ماترم "ہمیں قبول نہیں ہے۔


✍️ :-ایم یو صدیقی

ہندوستان ہمارا وطن ہے اس کی مٹی سے ہمیں فطری انس ہے۔ کیونکہ یہ وہی سرزمین ہے جہاں ہماری تاریخ کے درخشاں باب رقم ہیں۔ جہاں قربانی، جدوجہد اور تعمیر کی ایک طویل روایت ہمیں وراثت میں ملی ہے۔ چنانچہ اس ملک کی بھلائی اور ترقی میں ہمارا کردار کسی بھی قوم سے کم نہیں ہے اور آج بھی ہندوستانی مسلمان اسی خلوصِ نیت کے ساتھ اس کے استحکام کے لیے کوشاں ہے۔
تاہم اس انس، محبت اور خلوص نیت کے معنی ہرگز یہ نہیں کہ ہم اسے پرستش کا درجہ دے دیں۔ 
ہاں یہ سچ ہے کہ ہم اس سرزمین کو احترام اور خیرخواہی کے جذبے سے دیکھتے ہیں۔ لیکن یہ بھی اٹل بات ہے کہ عقیدت و عبادت صرف اُس قادرِ مطلق کے لیے ہے جس نے ہمیں پیدا کیا۔
اسی لئے ہندوستان کا ہر مسلمان اسی بنیادی عقیدے پر قائم ہے کہ بندگی انسان یا مٹی کی نہیں بلکہ خالقِ کائنات کی ہونی چاہیے۔ کیونکہ یہی تصورِتوحید اس کے ایمان کا جوہر ہے جس سےہندوستانی مسلمان کسی بھی حال میں نہ تو پیچھے ہٹ سکتا ہےاور نہ ہی کسی بھی صورت اسے قربان کر سکتا ہے۔
آج جبکہ ملک کے سیاسی ماحول میں بعض عناصر "وندے ماترم" جیسے گیتوں کو حبِ وطن کی علامت بنا کر سب پر لازم کرنے کی کوشش کررہے ہیں ان کو میں یہ بتانا چاہوں گا کہ ایک مسلمان کے لیے ایسا گیت جس کے الفاظ اس کے مذہبی عقیدے سے متصادم ہوں کبھی بھی قابلِ قبول نہیں ہوسکتا۔ وطن سے محبت اپنی جگہ مقدس ہے لیکن یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ عقیدہ اس سے بلند تر ہے۔ حالانکہ یہاں پر پہنچ کر کچھ لوگ اس بات کا الزام ضرور لگائیں گے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے سب سے زیادہ اہم ہندوستان یا اس کا آئین نہیں بلکہ اس کا مذہب اور اس کی شریعہ ہے۔ تو میں ان احمقوں سے کہنا چاہوں گا کہ یقیناً ہندوستانی مسلمانوں کے لیے ان کی اولین ترجیح ان کا مذہب اور ان کی شریعہ ہے۔لیکن آگے کی بات یہ بھی ہے کہ یہی مذہب اور شریعہ ہی ہے جو ان کو وطن سے محبت کرنے اور اس کے لیے قربانی دینے کا حکم کرتی ہے۔ چنانچہ اگر مذہب ہی نہ ہو تو وطن سے محبت کا تصور بھی بے بنیاد ہو جائے گا۔
لہذا! ملک کے اربابِ اقتدار کو سمجھنا چاہیے کہ مذہبی آزادی کا حق ہندوستانی آئین نے ہر شہری کو برابر طور پر عطا کیا ہے۔ چنانچہ ہمیں یہ گیت گانا ہے یا نہیں ہے اس کا حق بھی ہمیں ہمارے ہندوستان کے آئین نے دیا ہے۔
 لہذا! جو اس حق کو پامال کرنے کی کوشش کریگا وہ جمہوریت کی روح کو مجروح کرنے کی کوشش سمجھی جائے گی۔ہندوستانی مسلمان ایک پرامن اور ذمہ دار شہری کے طور پر آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے حقوق کا دفاع کرے گا اور اگر ضرورت پڑی تو سڑکوں پر اپنی آواز بلند کرنے سے بھی گریز نہیں کرے گا۔