مضمون (56)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
میں ایمان اور اسلام پر ہی کیوں ہوں _ایک فکری و ایمانی مکالمہ
***************************
دنیا کا ہر انسان کبھی نہ کبھی اس
سوال سے ضرور گزرتا ہے کہ وہ جس دین، جس راستے اور جس عقیدے کا پیروکار ہے، آخر کیوں ہے؟
کیا وہ صرف ماحول اور وراثت کا نتیجہ ہے؟
یا اس کے پیچھے کوئی دلیل، کوئی شعور، کوئی فطری سچائی موجود ہے؟
یہ سوال محض علمی مباحث کا حصہ نہیں.
یہ انسان کی روحانی و فکری زندگی کا بنیادی ترین سوال ہے۔
بالخصوص ہمارے لیے یہ سوال اور بھی زیادہ اہم ہے کہ:
ہم مسلمان آخر مسلمان کیوں ہیں؟
اسلام صرف ایک مذہب نہیں، بلکہ انسان کے وجود کے ہر پہلو—ابتداء سے قبر تک اور قبر سے آخرت تک—کا مکمل ضابطۂ حیات ہےیہ سوال کسی دوسرے مذہب کی تنقیص نہیں۔ قرآن واضح حکم دیتا ہے:
"وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ" الانعام: 108
اور گالی مت دو ان کو جن کی یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہیں کیونکہ پھر وہ براہِ جہل حد سے گزر کر اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کریں گے
ہم صرف یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہم نے اسلام ہی کو شعوری طور پر کیوں چُنا؟
اسلام — انسانیت کا محافظ اور حقیقی امن کا ضامن ہے
یاد رکھیے!
اسلام صرف ایک مذہب نہیں، بلکہ انسانیت کا سب سے مضبوط محافظ اور عالمی امن کا حقیقی ضامن ہے۔
اسلام نے جس محبت، عدل اور امن کا تصور پیش کیا ہے، تاریخِ انسانی اس کی کوئی مثال پیش نہیں کر سکتی۔
حتیٰ کہ آج کی جدید ترین تہذیب، انسانی حقوق کے بلند بانگ دعوؤں کے باوجود، وہ آفاقی انصاف اور عالمگیر رحمٰت پیش کرنے سے قاصر ہے جو اسلام نے صدیوں پہلے قائم کر دیا تھا، وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ.
سورۂ الانبیاء، آیت 107
ترجمہ:"اور (اے نبی ﷺ) ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے محض رحمت بنا کر بھیجا ہے۔"
یہ آیت بتاتی ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ کی بعثت کا مقصد پوری انسانیت کے لیے رحمت، حفاظت، عدل اور حقیقی امن قائم کرنا ہے۔ اسلام کا پیغام ہی انسانیت کی خیرخواہی اور امن کا ضامن ہے۔
اسلام — اللہ کا منتخب کیا ہوا دین
قرآن کریم اعلان کرتا ہے:
"إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ" آل عمران: 19
اسلام کسی انسانی فلسفے یا تجربے کا نتیجہ نہیں_
یہ ربِ کائنات کا منتخب کردہ، نازل کردہ اور محفوظ کیا ہوا نظامِ زندگی ہے۔صرف دین اسلام ہی اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول ہے :آیت 18_20.سورۃ آل عمران. ؛اللہ تعالیٰ خود شہادت دیتا ہے بس اس کی شہادت کافی ہے وہ سب سے زیادہ سچّا شاہد ہے سب سے زیادہ سچّی بات اسی کی ہے وہ فرماتا ہے کہ تمام مخلوق اس کی غلام ہے اور اس کی پیدا کی ہوئی ہے اور اسی کی محتاج ہے وہ سب سے بے نیاز ہے الوہیت میں اللہ ہونے میں وہ یکتا لا شریک ہے اس کے سوا کوئی پوچے جانے کے لائق نہیں؛ جیسے فرمان ہے (لکن اللہ یشہد بما انزل الیک) یعنی؛؛ لیکن اللہ تعالیٰ بذریعہ اس کتاب کے جو وہ تیری طرف اپنے علم سے اتار رہا ہے گواہی دے رہا ہے اور بھی گواہی دیتے ہیں؛؛ اور اللہ تعالیٰ کی شہادت کافی ہوتی ہے_پھر اپنی شہادت کے ساتھ فرشتوں کی اور علماء کی شہادت کو ملا رہا ہے. حوالہ تفسیر ابن کثیر ص 480_
اس سے بڑھ کر اہلِ دنیا ئے دانش کو شریعتِ محمدی صل اللہ علیہ والہ سلم کو منتخب کرنے کے لیے( اسی دین و مذہب) کو اپنانے میں اور کیا اعتراض و اشکال ہوسکتا ہے جب اللہ تعالیٰ نے قرآن کے ذریعہ اپنی الوہیّت؛ یکتا لا شریک ہونے کا بطورِ چیلنج جیسے (وَإِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّن مِّثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُم مِّن دُونِ اللَّهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ)
(سورۃ البقرۃ، آیت 23اللہ تعالیٰ چیلنج دے رہے ہیں: اگر تم قرآن کو انسانی کلام سمجھتے ہو تو اس جیسی ایک سورت بنا کر دکھا دو۔
یعنی قرآن کا اعجاز ایسا ہے کہ کوئی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔
اور اس چیلنج کا مقابلہ کرنے والے مقابلہ کرتے رہے( اور مقابلہ کرتے رہیں گے) آخر ہار کر کچھ خوش نصیب مسلمان ہوئے؛ کچھ گمراہ اور کچھ بد نصیب مرتد ہوئے مگر چیلنج ہمیشہ کے لیئے باقی ہے تو لہذا ان الدین عند اللہ الاسلام
اسلام مکمل، جامع اور دلیل پر قائم دین ہے
قرآن اعلان کرتا ہے:
"اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ" (المائدہ: 3)
اسلام صرف عبادات نہیں—
اخلاق، سیاست، عدل، معاشرت، معیشت، خاندان، حقوق، انسانیت، امن—سب کا مکمل و منظم نظام ہے
سورۃ المائدہ کی اس آیت میں مؤمنین کو صبر؛ ثابت قدم؛ اور سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی سے نہ ڈرنے کی تلقین و نصیحت کے بعد.؛ اپنی زبردست بہترین اعلیٰ و افضل تر نعمت کا ذکر فرماتا ہے کہ میں نے تمہارا دین ہر طرح اور ہر حیثیّت سے کامل و مکمل کردیا تمہیں اس دین کے سوا کسی دین کی احتیاج نہیں؛ نہ اس نبی صل اللہ علیہ والہ و سلم کے سوا کسی اور نبی کی تمہیں کوئی حاجت ہے اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی صل اللہ علیہ و سلم کو خاتم النبیین کیا ہے؛ انہیں تمام جنوں اور انسانوں کی طرف بھیجا ہے؛ وتمّت کلمۃُ ربّک صدقاً وّ عدلا؛ یعنی تیرے رب کا کلمہ پورا ہوا جو خبریں دینے میں سچّا ہے اور حکم و منع میں عدل والا ہے؛؛ دین کو کامل کرنا تم پر اپنی نعمت کو بھرپور کرنا ہے چونکہ میں خود تمہارے اس دینِ اسلام پر خوش ہوں اس لیئے تم بھی اسی پر راضی رہو یہی دین اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ ہے اسی کو دیکر اس نے اپنے افضل رسول صل اللہ علیہ و سلم کو بھیجا ہے اور اپنی اشرف کتاب نازل فرمائی ہے؛ اب اس میں رہتی دنیا تک کسی کمی کا عیب نہیں اورکسی زیادتی کا محتاج نہیں؛ اسے اللہ تعالیٰ نے پورا کیا ہے؛ حوالہ سورہ المائدہ آیت 03تفسیر ابن کثیر ص 59_60.اسلام فطرتِ انسانی کے عین مطابق دین ہے
قرآن کہتا ہے:
"فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا" (الروم: 30)اللہ تعالیٰ کی وہ فطرت جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے اللہ تعالیٰ کے بنائے کو بدلنا نہیں _یہی راست دین ہے اکثر لوگ سمجھتے نہیں"؛ اسلام اعتدال، آسانی، توازن اور فطرت کا دین ہے۔
انسان کی عقل، دل اور روح اسلام کی طرف خود مائل ہوتی ہے۔
جس دین کو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئیے مقرّر کردیا ہے وہی دین (حضرت محمد صل اللہ علیہ و سلم) پر نازل کردہ دین. دینِ اسلام ہی رب تعالیٰ کی فطرتِ سلیمہ پر قائم ہے اور یہی دینِ اسلام انسانوں کا فطرت ہے
بخاری میں بروایت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرمان رسول اللہ صل اللہ علیہ و سلم ہے."کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی. نصرانی. اور مجوسی بنا دیتے ہیں جیسے بکری کا صحیح سالم ہوتا ہے جس کے کان لوگ کتر دیتے ہیں پھر آپ صل اللہ علیہ و سلم نے یہ آیت تلاوت کی سورۃ الروم آیت 30_تفسیر ابن کثیر ص 198_نمبر2.
اسلام وہ دین ہے جو انسان کی اصل فطرت سے ہم آہنگ ہے؛ فطرتِ سلیمہ خود گواہی دیتی ہے کہ اللہ کی شریعت کو مضبوطی سے تھامنا ہی سیدھا اور سچا راستہ ہے۔ مگر افسوس کہ بہت سے لوگ — چاہے وہ بے علم ہوں یا دنیاوی طور پر اعلیٰ تعلیم یافتہ _ اس نور سے دور رہ جاتے ہیں، کیونکہ ہدایت کا دروازہ دل کی بیداری سے کھلتا ہے، صرف عقل کی چمک سے نہیں۔خَتَمَ اللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ وَعَلَىٰ سَمْعِهِمْ وَعَلَىٰ أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ﴾
(سورۂ البقرہ، آیت 7)اس آیت میں اللہ تعالیٰ بتا رہے ہیں کہ بعض لوگوں نے ضد، تکبر اور حق کے انکار میں اتنی پختگی اختیار کر لی کہ ان کے دلوں پر مہر لگ گئی، ان کے کان حق کی بات سننے سے محروم ہو گئے، اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑ گیا۔
یعنی وہ حق موجود ہونے کے باوجود قبول کرنے کی توفیق سے محروم ہو گئے۔
یہ دراصل انسان کے اپنے مسلسل رویّے اور کردار کا نتیجہ ہوتا ہے—دل ہدایت سے پھر جائے تو مہر لگ جاتی ہے۔
دنیاوی علم انسان کو معلومات تو دیتا ہے، مگر سچائی کے سامنے جھکنے کا حوصلہ صرف وہی دل پاتا ہے جسے اللہ نے روشن کیا ہو۔اصل محرومی جہالت نہیں ، دل کا اندھاپن ہے؛ ورنہ اسلام تو انسان کی فطری سچائی ہے۔
اسلام کی تعلیمات صرف انسانوں کے لیے نہیں، تمام حیوانات اور جانداروں کے لیے بھی حفاظت اور رحمت کا پیغام رکھتی ہیں۔ ﴿وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ﴾
(سورۂ الانعام، آیت 38)
ترجمہ:"اور زمین میں چلنے والا کوئی جانور اور اپنے پروں سے اڑنے والا کوئی پرندہ ایسا نہیں مگر وہ سب تمہاری ہی طرح اُمتیں ہیں۔"
یہ آیت بتاتی ہے کہ اللہ کے نزدیک حیوانات بھی باقاعدہ امتیں ہیں، جن کے حقوق، نظام اور احترام ہے۔
اسی لیے اسلام انسان ہی نہیں، ساری مخلوق کا محافظ اور رحمت ہے
۔اسلام — ظلم کے ہر دروازے کو بند کرنے والا دین ہے قرآنِ کریم میں ظلم کے خلاف نہایت واضح اور طاقتور حکم موجود ہے:
﴿وَلا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ﴾
(سورۂ ہود، آیت 113)
ترجمہ:
"اور ظالموں کی طرف ہرگز نہ جھکنا، ورنہ تمہیں آگ چھو لے گی۔"
یہ آیت ظلم سے روکتی بھی ہے اور ظالموں کی کسی بھی قسم کی حمایت یا مائل ہونے کو بھی انتہائی خطرناک قرار دیتی ہے۔قرآن — برہان، دلیل اور ہدایت ہے
"قَدْ جَاءَكُم بُرْهَانٌ مِّن رَّبِّكُمْ" (النساء: 174)
اسلام جذبات نہیں
دلیل، عقل، علم اور روشن حجت کا دین ہے۔
. اسلام ہی آخری ہدایت ہے
قرآن صاف اعلان کرتا ہے:
"وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ" (آل عمران: 85)
نبوت، رسالت اور وحی کا سلسلہ ختم—
ہدایت مکمل—اسلام آخری اور کامل دین۔
6. اسلام عدل اور. مساوات کا دین ہے
"إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ" (النحل: 90)
"إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّـهِ أَتْقَاكُمْ" (الحجرات: 13)
رنگ، نسل، زبان، قوم سب ختم
انسان ایک، _معیار ایک، تقویٰ ایک۔
رسولِ اکرم ﷺ — کامل ترین نمونہ
"لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّـهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ" (الاحزاب: 21)
سیرتِ نبوی ﷺ اسلام کے ہر حکم کی زندہ، روشن اور کامل تصویر ہے۔یہ آیت بہت بڑی دلیل ہے اس امر پر کہ آنحضرت صل اللہ علیہ و سلم کے کل اقوال؛ افعال ؛احوال؛ اقتداء. پیروی اور تابعداری کے لائق ہیں. تفسیر ابن کثیر ص 262.
اسلام مقصدِ زندگی واضح کرتا ہے
"وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ" (الذاریات: 56)
اسلام بتاتا ہے کہ زندگی ایک مقصد رکھتی ہے
آزمائش بھی، ذمہ داری بھی، منزل بھی۔
اسلام — ہر انسان کا دین، ہر روح کا سکون ہے
اسلام کے حسن،سچّائی اور جامعیت کو بیان کرنے کے لیے ایک عمر بھی کم ہے۔
یہ کسی ایک قوم کا دین نہیں
یہ ہر انسان کا دین، ہر فطرت کا گھر، ہر روح کا قرار ہے۔
اسلام محبت سے پکارتا ہے: اپنے گھر لوٹ آؤ!
یہ امن، عدل، یقین اور سکون کا گھر ہے۔
ہمارا ایمان، ہمارا یقین، ہمارا انتخاب
ہم ایمان اور اسلام پر ہیں کیونکہ:
(1) یہ مکمل ضابطۂ حیات ہے
(2) یہ فطرت کے مطابق ہے
(3) یہ دلیل و عقل سے ہم آہنگ ہے
(4) یہ آخری ہدایت ہے
(5) یہ عدل، اخلاق اور انسانیت کا حسین مجموعہ ہے
(6) یہ دل، دماغ اور روح کو سکون
دیتا ہے
(7)یہ اللہ کی ہدایت اور محمد صل اللہ علیہ و سلّم کی شریعت ہے. اسلام ہمارا وراثتی دین نہیں _ہمارا شعوری انتخاب ؛ہمارا فکری فیصلہ اور ہمارا روحانی سکون ہے
قرآن کہتا ہے
"فَمَن يَهْدِيهِ مِن بَعْدِ اللَّـهِ (الجاثیہ: 23)
اور ہم نے اسی رب کی ہدایت کو تھاما ہے. اس لیئے میں مؤمن اور مسلمان ہوں
بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com