*عقل پر اسکرین کا پردہ: نوجوان نسل کی حالتِ زار*
✍️ *محمد سعد*
دنیا آج ترقی کی دوڑ میں برق رفتاری سے آگے بڑھ رہی ہے، سائنسی ایجادات میں مغربی اقوام پیش پیش ہیں، ہر دن نئی ایجادات منظر عام پر آ رہی ہیں، جنہوں نے انسانی زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے، جنگی میدان میں ایٹم بم، میزائل اور دیگر ہتھیاروں کا گراں قدر اضافہ ہوا ہے، جبکہ سفر کو سہل بنانے کے لیے طیارے، برق رفتار گاڑیاں اور آمد و رفت کے جدید زرائع میسر آئے ہیں۔
روز مرہ زندگی میں آسانی پیدا کرنے والی ان ایجادات میں ایک اہم اور نمایاں ایجاد موبائل فون ہے۔ اس آلہ نے بلاشبہ فاصلے سمیٹ دیے، دنیا کو ایک گلوبل ولیج بنا دیا، اور ایک کونے سے دوسرے کونے تک تعلقات اور رابطوں کو ممکن بنایا۔ *`لیکن اسی موبائل فون نے انسانی نفسیات ، رویّوں اور حد سے زیادہ انحصار نے ذاتی تعلقات پر بھی گہرا اثر ڈالا ہے، خاص طور سے نوجوان نسل پر۔`*
*`بسا اوقات دوستوں اور رشتےداروں کی موجودگی میں اسکرین پر وقت گزارنے اور ان کی طرف توجہ نہ دینے سے تعلقات بھی متاثر ہوتے ہیں ـ`*
حالیہ ڈیٹا کے مطابق، ایک عام شخص روزانہ اوسطاً 4 گھنٹے 37 منٹ موبائل پر صرف کرتا ہے، یہ وقت ہفتے میں ایک دن، مہینے میں چھ دن، اور سال بھر میں تقریباً 70 دن بنتا ہے، یعنی دو ماہ سے زیادہ وقت صرف ایک اسکرین پر نظر رکھنے میں گزر جاتا ہے، جو قابل افسوس ہے۔
ان لمحات میں عموماً مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے Facebook، Instagram، Twitter، Snapchat، WhatsApp، YouTube اور Telegram استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہی پلیٹ فارمز نوجوان نسل کی فکری سطح پر منفی اثر ڈال رہے ہیں۔ مسلسل اسکرین پر رہنے، تیز تر مواد کھپت، اور غیر ضروری مشغلے، نوجوانوں کی توجہ، غور و فکر، تخلیقی صلاحیت اور سنجیدہ مطالعہ کی عادت کو کمزور کر رہے ہیں، اور تشویش ناک بات یہ ہے کہ انھیں اس کا احساس بھی نہیں ہوتا۔
وقت کی ضرورت ہے کہ نوجوان اپنی توجہ اور توانائیاں ان سرگرمیوں کی طرف مرکوز کریں جو ان کی فکری، علمی اور اخلاقی ترقی میں معاون ہوں، تاکہ دنیا میں تابع کی حیثیت سے نہیں بلکہ متبوع کی حیثیت سے زندگی گذاریں، اور دیگر تحقیقات و ایجادات میں ان کی اقتداء کی جائے۔