شہر اقتدار کی جاڑے سی رات میں
قمقمے لگی حویلی کے تخت بالہ پر ملک کے سیاہ و سفید مالکوں کے ساتھ حضرت استاذ صاحب بھی ہمیشہ کی طرح رنجہ فرماتھے۔
ِجس میں امیر المؤمنین 😉 کے ساتھ ساتھ قائد لواء بھی حاضر تھے،
یہ میخانہ خاص تھا ، جس کے مینہ و جام کے متوالے شہر قائد سے لیکر دیوار چین تک سے حاضر خدمت تھے۔
بجتی تالیوں میں کچھ پرانے رسیہ بھی تھے جن سے میخانہ پوری طرح واقف تھا۔
مجرموں کی اس لمبی قطار میں کچھ لاعلم بھی تھے پر سیلفیوں کا شوق انہیں بھی کھینچ لایا تھا۔
جس سے حکم نامہ یہ جاری ہورہا تھا کہ آپ ہمیں امیر المؤمنین کا درجہ دیجیئے ۔
پرانے تو جانتے تھے مسئلہ تو سیلفی والوں کا تھا کہ مسند امارت پہ کون ہوگا حضرت شہباز یا حافظ جی۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔