معزز خواتین و حضرات:

ہمارے ملک کی زرخیزی کا یہ عالم ہے ، کہ یہاں اگر کوئی دعوۂ پیر کرے تو یہاں مرید سے زیادہ چیلے بڑی تعداد میں میسر آجاتے ہیں ، جنکی ہمہ وقت یہ کوشش ہوتی ہے کہ مضبوطی سے تھام کر کنارہ پار کرلیا جاوے ۔
ہاں پار کرنے سے یاد آیا کہ مادر ملت میں ایسی ہمہ گیر شخصیات مذہبی و غیر مذہبی رنگوں میں موجود رہیں ہیں، جن میں آج بھی موصوف اشرفی صاحب لمبر ون ہیں۔
ایک ساتھی کہنے لگے  کہ آج کل ایک پورا ادارہ ایسی روش پہ چل پڑا ہے، جہاں شب و روز یہ بات ہوتی ہے کہ آج چومنے چاٹنے کا حق کس نے ادا کیا ،
بہر حال یہ تو مسئلہ ادارے کا رہا ۔
اصل مسئلہ: امیر المؤمنین کون ہوگا ؟ 
امیر المؤمنین کی کہانی انہی سیاہ و سفید کے ابا صوفی ضیاء مرحوم نے شروع کی تھی ۔
جنہوں نے سویت یونین کے خلاف ہمارے پرکھوں کی چمڑی ادھڑوائی ،
پھر پڑوس ملک کی خانہ جنگی میں ملا جی کو امیر المؤمنین تسلیم کرنے پہ مہم جوئی ہوئی۔
 اس سارے منصوبے کی وجوہات تھیں کہ شاید کوئی ادارہ میسر آجائے
لیکن بابا جی بش نےمناسب سمجھ لیا تھا کہ پڑوسیوں کو تہہ و بالا کیا جاوے ۔
بیس سال  کے نامناسب تجربات سے سیکھ کر باباجی کی ٹیم نے واپسی کو منہ دھر لیا ہم بھی ڈیورنڈ لائن کی پرانی کہانی کے محافظ بن کر پھر پرانی امنگوں کے خواہاں تھے ، کہ کہیں کوئی استاذ صاحب میسر آجاوے ، پر پڑوسی بھی اب ہماری دغا بازی کو صحیح سمجہ چکے تھے کہ اب امیر المؤمنین کی کہانی نہ چل پاوے گی۔
اس ساری کہانی میں ٹویسٹ تب آیا کہ جب   حافظ جی  لواء امیر المؤمنین تھامے میدان کار زار میں کود پڑے ، اور استاد صاحب کے ذریعے ہمیں بتانے لگے کہ پڑوسیوں کے نونہال جو ہماری سڑکوں کی صفائی کرکے  نمک خریدتے رہے نمک حرام ہیں۔
اب کہانی کے ہیرو اور ولن بالکلیہ تبدیل ہوچکے ہیں، امیر المؤمنین اب مادر ملت میں ہی سستے داموں دستیاب ہیں ۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

از قلم : عبدالوکیل