*یہ زانیہ و زانی پیدا کہاں سے ہوتے ہیں*

معاشرے کی تاریخ گواہ ہے کہ کسی بھی جرم کا جنم اچانک نہیں ہوتا، کوئی برائی آسمان سے نہیں نازل ہوتی، کسی درخت کے پھل اچانک نہیں لگتے ظلم بھی ایک بیج ہوتا ہے جسے کوئی نہ کوئی زمین، کوئی نہ کوئی ماحول، کوئی نہ کوئی تربیت، کوئی نہ کوئی غفلت سینچتی ہے،اسی لیے دانشور کہتے ہیں کہ جرم کا علاج صرف سزا نہیں، بلکہ تربیت ہے،آج معاشرے کی حالت یہ ہے کہ ریپ، عزت دری، حوس پرستی،یہ وہ اندھیرے ہیں جن کی لپیٹ میں آنے کے بعد نہ صرف ایک عورت کی زندگی اجڑتی ہے بلکہ پورا معاشرہ خوف، بےاعتمادی اور انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔

لیکن اصل سوال یہاں سے شروع ہوتا ہے،یہ اندھیرے پیدا کہاں سے ہوتے ہیں؟ یہ ریپسٹ پیدا کون کرتا ہے؟ کون سی کوکھ، کون سی گود، کون سا ماحول، کون سی تربیت ایک انسان کو درندہ بنا دیتی ہے؟

جرم مرد کرتا ہےیہ حقیقت ہے،لیکن کیا جرم کی جڑ کو تلاش کرنا بھی ضروری نہیں؟

کیا اس معاشرتی بیماری کا علاج اس کی بنیاد تک پہنچے بغیر ممکن ہے؟

یہ یاد رہے کہ یہ تحریر کسی کو مجرم بنانے کی کوشش نہیں،بلکہ معاشرہ کس سمت جا رہا ہے؟ تربیت کے کن مراحل میں بگاڑ داخل ہو رہا ہے؟نسلیں کیوں برباد ہو رہی ہیں؟اس پر ایک دیانت دارانہ گفتگو ہے بات تلخ ضرور ہے، مگر اصلاح کا دروازہ تلخی کے اعتراف کے بعد ہی کھلتا ہے،اصل مضمون ریپسٹ(Repits)ایک لفظ نہیں، ایک زخمی معاشرے کی چیخ ہے،ایک عورت کی برباد زندگی کا ماتم ہے،ایک خاندان کے بکھرے اعتماد کی قبر ہے،ہر دو دن ایک دن کے بعد سننے کو ملتا ہے کہ وہاں زنا ہوا اسکی عزت کو چکنا چور کردیا گیا،کبھی پانچ سال کی بچی کے ساتھ درندگی، میں پوچھنا چاہتا ہوں اے عدالت وقت کے منصفوں یہ ایسا کیوں ہوتا ہے کیا تمہیں مجرم نظر نہیں آتا، آخر ان بچیوں کے ساتھ ایسا کیوں؟تمہاری آنکھیں بند ہیں،اگر نہیں آتا انصاف کرنا،نہیں جانتے انصاف کو تو فولو کرو اسلام کے قوانین کو اور کہو اگر کوئی شادی شدہ زنا کرلے تو اسکو رجم(پتھر مار مار کر ہلاک کر دیا جائے)اور کوئی غیر شادی شدہ کرلے تو اسکو اسّی کوڑے مارے جائیں گے پھر ہم منتظر ہیں اور دیکھتے ہیں کتنی بچیوں کی عزت کو چکناچور کیا جاتا ہے۔

لیکن حالت یہ ہے کہ دنیا چیختی ہے،مرد کتا ہے،مرد حرامی ہے،مرد ہوس کا پجاری ہے،نہ عمر دیکھتا ہے، نہ تقدس، نہ کمزوری،یہ سب کہا جاتا ہے اور بظاہر غلط بھی نہیں لگتا،مگر سوال پھر بھی باقی ہے،یہ ریپسٹ آتا کہاں سے ہے،آسمان سے تو نہیں اترتا،کسی جنگل سے نہیں نکلتا،بالآخر کسی گھر کی گود، کسی کوکھ، کسی تربیت کا نتیجہ تو ہوتا ہے،سائنس اور حقیقت یہ بتاتی ہے کہ،بچہ مرد کی کوکھ سے نہیں پیدا ہوتا، ہر انسان ایک عورت کی کوکھ میں پروان چڑھتا ہے،پھر کیا کہیں گے ان لوگوں کو جنہوں نے دنیا کے تخت کو پلٹ دیا وہ بھی تو کسی کی کوکھ سے ہی جنم لیے تھے وہ بھی تو کسی ماں کے تربیت یافتہ ہی تھے،صرف ایک یہودی لڑکی کی بے حرمتی پر رومن ایمپائر کو ہلا کر رکھ دیا،وہ بھی تو کسی ماں کی کوکھ کے ہی پروردہ تھے،لیکن اب ایسا کیوں، جب وقت کا عادل حضرت عمر ابن الخطاب ہو تو اپنے سگے بیٹے کو کوڑے لگوائے،اور زمانے کو بتا دے کہ اگر اسلام کی حدود کو پامال کرنے والا وقت کے امیر کا بیٹا ہو پھر بھی حدود اللہ کو پامال کرنے کی اجازت نہیں پھر آپ کس کھیت کی مولی ہو،اور میں پوچھنا چاہوں اس خنزیر خور لوگوں سے کہاں ہے تمہارا وہ نعرہ *بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاو* کیوں صرف یوپی میں ہر دن 400 سے زائد بچے گرائے جا رہے ہیں پھر کیوں رپیسٹ کا شکار ہو کر ہر دن یہ خبر ملتی ہے آج اس جگہ اس بچی کے ساتھ درندگی ہوئی اور وہ اپنی جان گنواں دی کیا مطلب ہے تمہارے اس نعرے کا کہ ریپسٹ لوگوں کو مزہ دلایا جائے بچیوں کو عظمت و حرمت کو پامال کر دیا جائے،مجھے بتاؤ،کسی کے باپ میں اتنی طاقت نہیں کہ وہ کسی کو زنا سے روک دے لیکن زنا آج ہی رک جائے شرط یہی کہ قوانین اسلام کے رکھے جائیں اور منصب عدالت پر بیٹھے ہوئے لوگ اسلام کے نظریہ فکر سے فیصلہ دیں۔

یاد رہے سوال ابھی بھی اپنی جگہ قائم ہے،اگر مرد اتنا ظالم ہے، اتنا درندہ ہے،تو ریپسٹ کی پیدائش کی ذمہ داری کہاں جائے گی؟کیا وہ ماں جس نے تربیت میں کوتاہی کی؟کیا وہ گھر جہاں خوف خدا، حیا، تربیت اور نگرانی کا چراغ بجھ چکا تھا؟کیا وہ ماحول جہاں غلطی کو بچپن اور گناہ کوجوانی کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے؟یہ تمام باتیں اس چیز پر شاہد ہیں کہ آج ہماری قوم کی ماؤں کا رویہ عمل مغربی کا پیروکار ہو گیا ہے۔

معاشرہ حقیقت سے نظریں چراتا ہے، کیونکہ اگر ریپسٹ مرد ہے،تو اس کے پیدا ہونے کا سامان عورت کی کوکھ سے ہوا ہے،اور یہ حقیقت بیان کرنا معاشرے کو کڑوی لگتی ہے،اور مجھے اس فرق نہیں پڑتا کون کیا کہتا ہے اور کیوں کہتا ہے،جو حقیقت ہے وہ حقیقت ہے،تربیت کا فرق کون سی مائیں کون سی نسلیں پیدا کرتی ہیں؟کیا ریپسٹ ان گھروں میں پیدا ہوتے ہیں جہاں بیٹیاں حیا کے ساتھ تعلیم حاصل کرتی ہیں؟

یا ان گھروں میں جہاں بدن نمائی کو آزادی سمجھا جاتا ہے؟کیا ریپسٹ ان ماؤں سے جنم لیتے ہیں جو وضو کر کے دودھ پلاتی ہیں،یا اُن سے جو بچے کو سینے سے لگا کر فحش گفتگو کرتی ہیں؟کیا ریپسٹ ان گھروں میں بنتے ہیں جہاں ماں پہلی درسگاہ ہوتی ہے؟یا اُن گھروں میں جہاں گانا، ناچ، موبائل اور گالی بچے کے پہلے استاد بن جاتے ہیں؟کیا وہ لڑکے جنہیں ماں عزت، حیا، غیرت اور حلال حرام کا فرق سکھاتی ہیں ریپسٹ بن سکتے ہیں؟

یا وہ لڑکے جن کی غلطیوں پر ماں کہتی ہےابھی بچہ ہے جوانی ہے، چلنے دو،وہی آگے جا کر بہن بیٹیوں کی عزت کو پامال کرتے ہیں۔

آپکو پسند آئے یا نہ آئے،تلخ مگر لازمی حقیقت یہی ہے کہ تربیت اچھی ہو تو مرد محافظ بنتا ہے، تربیت بگڑ جائے تو مرد درندہ بن جاتا ہے،اس لیے تحقیق کبھی نہیں ہوتی،کیونکہ معاشرہ ماننا نہیں چاہتا کہ ریپسٹ صرف مرد نہیں،ریپسٹ دراصل تربیت کی ناکامی ہے،مان لیا کہ مرد طاقتور ہے،غلط راہ پر چلنے کی قابلیت بھی اس میں زیادہ ہے،مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ مرد جنم نہیں دیتا،اسے پیدا کرنے، سنوارنے، بگاڑنے، بنانے کی بنیاد عورت کی کوکھ ہے۔

اب مسئلہ یہ ہے کہ حل کیا ہے؟ انتہائی سادہ مگر مشکل تربیت ہے،اگر اس معاشرے سے ریپ جیسے جرائم کا خاتمہ چاہتے ہو،تو یہ کام کسی حکومت، کسی عدالت، کسی ادارے سے نہیں ہو سکے گا،یہ کام ماں ہی کر سکتی ہے،اپنی کوکھ کی حفاظت کا عزم کریں،باحیا ماحول میں عزت کے ساتھ تعلیم حاصل کریں،پردہ اختیار کر کے گندی نظروں کا راستہ بند کریں،باپ، بھائی اور شوہر کے سہارے اور غیرت کو قدر و احترام دیں،اگر نوکری کریں تو حدود، وقار اور عزت کو مقدم رکھیں،اولاد کو آئے دن ’اے بی سی سے زیادہ حیا اور غیرت سکھائیں،چوری، جھوٹ اور بےحیائی پر مٹی ڈالنے کے بجائے روک تھام کریں۔

اللہ کریم ہماری ماؤں کو اچھی تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمیـــــــــــــــــن یــــا رب الــــــــعـــــــالــــــمـــــیــن بجاہ النبی الکریم ﷺ۔


*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*