امیر المؤمنین کیسا ہونا چاہئے ؟
   :معزز قارئین کرام 
مجلسِ سمع و طاعۃ میں جب اعلان ہوا کہ امیر المؤمنین قائد کے وطن میں بھی اب دستیاب ہیں، تو کچھ تو ہماری طرح 20 کے بعد کی ایجاد تھے جنہیں صوفی ضیاء مرحوم کے زمانے کے 
امیرالمؤمنین کچھ یاد نہ تھے ۔
 جبکہ بات سمجھانا مقصود تو صوفی ضیاء مرحوم کے زمانے کے لوگوں کو تھی ،  جن کے ذہن اب خلطِ مبحث کے شکار تھے ، کہ
وہ امیرالمؤمنین نہ تو سوٹڈ بوٹڈ اور نہ ہی سینے پر 80 تمغے لٹکائے ، ہاتھ میں چھڑی تھامے ، شیکسپیئر سے عمدہ  انگریزی رواں تھے ،
بلکہ وہ تو پتھر کے زمانے کی باقیات میں سے تھے کہ جن کا لباس صوف سے ،  گفتگو سادہ ، یورپ کی شاہراؤں سے نابلد ، سر پہ پگڑی ، ایک بالشت داڑھی۔
تو کون امیرالمؤمنین کے رتبے پر پورا اترتا ہے ؟
یہ سوال اب خالی سوال نہ تھا بلکہ بعضوں کے لیے شادیانے بجانے کا سبب تو بعضوں کے لئے صوفی ضیاء کے امیرالمؤمنین کو چھوڑ کر اک نئے امیرالمؤمنین کو قبول کرنا تھا ۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

از قلم : عبدالوکیل