Argument of Contingency
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الحمد للّٰہ، اس مناظرے نے اسی وقت اسلام کی فتح کا اعلان کر لیا تھا جب مفتی شمائل ندوی صاحب نے جاوید اختر سے Argument of Contingency کا جواب طلب کیا۔ وہیں جا کر واضح ہو گیا کہ مسئلہ خدا کے وجود کا نہیں بلکہ انکار کی علمی حیثیت کا ہے کیونکہ دلیلِ امکان کوئی مذہبی خطابت نہیں بلکہ خالص عقلی مقدمہ ہے جو یہ پوچھتا ہے کہ جو چیز خود سے موجود نہ ہو، جو آ سکتی ہو اور مٹ سکتی ہو، جو اپنے وجود کے لیے کسی اور کی محتاج ہو وہ خود اپنا سبب کیسے ہو سکتی ہے؟
کائنات متغیر ہے، حادث ہے، اس کا ہر جزء ممکن الوجود ہے اور ممکن الوجود اپنے وجود کی آخری توجیہ خود نہیں ہو سکتا۔ اس لیے عقلاً لازم آتا ہے کہ ممکنات کا یہ سلسلہ کسی ایسے وجود پر جا کر رکے جو خود محتاج نہ ہو، جو سبب کا محتاج نہ ہو، جو واجب الوجود ہو اور یہی وہ مقام تھا جہاں مفتی شمائل ندوی نے کسی جذباتی بات کے بجائے عقل کا آئینہ رکھا اور جاوید اختر کے پاس نہ تو infinite regress کو معقول ثابت کرنے کا راستہ بچا، نہ causality کو توڑے بغیر کوئی جواب ممکن رہا اور یہی باطل کی اصل شکست تھی کہ وہ کسی جملے سے نہیں بلکہ جواب کی عدم موجودگی سے پاش پاش ہوا۔ کیونکہ جب بنیاد گر جائے تو عمارت پر بحث فضول ہو جاتی ہے۔۔۔۔
یہ مناظرہ ہمیں ایک بار پھر یاد دلاتا ہے کہ وجودِ خدا ایمان بمقابلہ انکار کا نہیں بلکہ عقل بمقابلہ ضد کا مسئلہ ہے۔ اور Argument of Contingency کے سامنے ضد ہمیشہ خاموش ہو جاتی ہے۔ اسی لیے آخر میں کسی شور کی ضرورت نہیں پڑتی بس اتنا کافی ہوتا ہے کہ جاء الحق وزهق الباطل حق آیا اور باطل دلیل کی سطح پر خود ہی بکھر گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

✍🏻 محمد پالن پوری


https://www.facebook.com/share/1Br3kTHhx8/