*لڑکی دیکھنے پورا پریوار نہیں، صرف لڑکا جائے*

نکاح اسلام میں کوئی عام سماجی رسم نہیں، کوئی وقتی فیصلہ نہیں، اور نہ ہی کسی کی انا، حیثیت یا برتری آزمانے کا ذریعہ ہے، نکاح عبادت ہے، ذمہ داری ہے، اور ایک انسان کی پوری زندگی کا رخ متعین کرنے والا عہد ہے،مگر ہمارے معاشرے میں اس مقدس رشتے کو جس بےرحمی سے تماشہ بنا دیا گیا ہے، وہ صرف افسوسناک نہیں بلکہ شرمناک بھی ہے،آج لڑکی دیکھنے کے نام پر پورا پریوار اٹھ کر آ جاتا ہے،چچا، تایا، خالہ، پھوپھی، کزن، اور وہ لوگ بھی جن کا نکاح سے کوئی تعلق نہیں، گویا لڑکی کوئی انسان نہیں بلکہ نمائش کی چیز ہو، جسے ہر آنے والا گھورے، تولے، ناپے اور پھر اپنی رائے دینا فرض سمجھے۔اگر واقعی تم خود کو انسان کہتے ہو تو کبھی اُس لڑکی کی جگہ بیٹھ کر دیکھو، وہ خاموش بیٹھی ہوتی ہے، نظریں جھکائے، دل میں خوف، امید اور بےیقینی کا طوفان لیے،سامنے پانچ دس لوگوں کی آنکھیں ہوتی ہیں کوئی رنگ دیکھ رہا ہے،کوئی قد ناپ رہا ہے،کوئی ناک، کوئی آواز، اور کوئی اس کی خاموشی کو غرور سمجھ کر فیصلہ صادر کر رہا ہے۔لڑکی دیکھنے جاتے ہیں تو یہ نہیں لگتا یہ لڑکی دیکھنے آئے ہیں بلکہ یوں لگتا ہے جیسے اس بیٹی کے باپ کو لوٹنے آئے ہیں، اور سب کے سب بیغیرت بد تمیز بد چلن لوگ بڑی فخریہ انداز میں کہتے ہیں ذرا لڑکی کو تو کہو سامنے آئے، تمہارے باپ کی جاگیر ہے جو تمہارے سامنے آئے،اور غیرت کے تمام دروازوں کو پھلانگ کر پھر آخر میں وہ جملہ سننے کو ملتا ہے جو بظاہر نرم مگر اندر سے خنجر ہوتا ہے، *گھر جا کر فیصلہ ہوگا* یہ جملہ محض ایک رسمی بات نہیں، یہ لڑکی کی خودداری پر لگایا گیا زخم ہے،جس کو سن کر پتہ نہیں کتنے باپ کتنی مائیں کتنے بھائی کتنی بہنوں کو جھونک دیا گیا ہے،اور پھر انکے ہنستے کھیلتے وجود کو رونا مقدر بنا دیا گیا ہے، پھر وہ ہنستی کھیلتی بچی اپنے ہر قدم پر اپنے آپکو ناسور سمجھ کر اٹھانے لگتی ہے،اور خدا سے ہر لفظ میں یہی دعا کرتی ہیں خدایا میرے وجود میرے والدین پر بوجھ ہونے لگا ہے،میں خود کو اب ایک فقیر محتاج کی ہمشیرہ پر راضی ہوں لیکن میرے وجود کو زخمی نا کیا جائے، اب ایرے غیرے میرے گھر نا آئیں بلکہ مجھے بغیر بتائے پسند کر لیا جائے۔اگر غیرت کی تھوڑی سی بھی جھلک آپ کے اندر موجود ہے تو پھر ذرا اُس باپ کی جگہ بیٹھ کر دیکھو جس کی بیٹی کو تم نے ریجیکٹ کیا،وہ باپ جو عزت کے ساتھ تمہیں اپنے گھر بٹھاتا ہے،تمہاری ہر بات خاموشی سے سنتا ہے،اور دل میں بیٹی کے روشن مستقبل کے خواب سجا کر بیٹھا ہوتا ہے،تم ایک لفظ *نہیں* کہہ کر اٹھ جاتے ہو، مگر اس باپ کے دل میں جو ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے، اس کا حساب کون دے گا؟اور کبھی اُس ماں کی سوچ رکھ کر دیکھو جس نے اس بچی کو جنم دیا،نو مہینے تک تکلیفیں برداشت کیں، راتوں کو جاگ جاگ کر پالا،اور ہر نماز کے بعد یہی دعا مانگتی رہی کہ بیٹی عزت کے گھر جائے،تمہارا انکار اس ماں کے دل میں ایسی دراڑ ڈال دیتا ہے جو برسوں نہیں بھرتی،اور وہ ایک منٹ اپنی بچی کی آنکھ میں آنسو نہیں دیکھتی لیکن وہ دیکھنے کے نام پر کسی عزت نفس سے کھیلنے والے لوگ اسی ہر موڑ پر رونے کی عکاسی بنا کر چلے جاتے ہیں، خدارا خوف کھاؤ خدا آپ جانتے نہیں اگلا نمبر آپ کا بھی ممکن ہے خدا آپکو بھی بیٹی عطا کرے، آپ کے گھر بھی بہن ہو، اپکو بھی جنس عورت سے مشرف کرے،پھر کوئی آپکی بہن، بیٹی، کو اس طرح دیکھ کر ریجیکٹ کر دے پھر آپ کیا کرو گے؟ یہی نہ افسوس کے علاوہ کوئی کام نہیں پھر خدایا ہم ایسی باتیں کیوں کرتے ہیں جن کا تعلق ہمارے مذہب سے دور دور تک نہیں۔اور اگر ذرا سی بھی غیرت باقی ہے تو اس بچی سے تو پوچھو،جس کے گھر تم پورا پریوار لے کر گئے تھے، کچھ دن بات چیت چلتی رہی،امیدیں دلائی گئیں، پھر یا تو تھوڑا سا منع کر کے واپس آ گئے یا یہ کہہ کر چلے گئے کہ فیصلہ گھر جا کر ہوگا،ارے بےغیرت انسان کیا تم اس پورے پریوار کو شاپنگ کرانے لے کر گئے تھے؟ کیا یہ تمہارے باپ کی حکومت ہے؟ کیا یہ تمہارے باپ کی ملکیت ہے کہ جو جی میں آئے کرو گے اور جیسے چاہو ویسا فیصلہ سناؤ گے؟اگر تمہیں مالدار لڑکی چاہیے تھی تو شروع میں ہی بتا دیتے،خود کا منہ کسی حیثیت کا حامل نہیں اور لڑکی حسن کی ملکہ چاہیے،اور خود کے پاس کچھ نہیں لڑکی مالدار چاہیے، جاؤ انبانی یا اڈانی کی بیٹی سے شادی کرو،کسی غریب کی بیٹی کو کیوں آنسو دے رہے ہو،کسی شریف، متوسط گھر کی بچی کو کیوں اپنی شرطوں اور غرور کی بھینٹ چڑھا رہے ہو؟ یہ کون سا انصاف ہے کہ پچاس پچاس دن رشتہ باندھ کر رکھا جائے،باتوں میں یقین دلایا جائے، اور پھر یہ کہا جائے بھائی منع کر رہا ہے، باپ منع کر رہا ہے، ماں منع کر رہی ہے،تو پھر تو تھوڑی سی غیرت رکھتا تو آیا ہی کیوں تھا؟

تجھے نکاح کرنا ہے یا تماشا؟ یا رشتہ ہے یا کسی کی زندگی کے ساتھ کھیل؟ اب ذرا ریجیکٹ ہونے کے بعد اُس لڑکی کی دنیا دیکھو، جب تم لوگ چلے جاتے ہو، تو وہ کمرے میں اکیلی بیٹھ جاتی ہے،خاموش آئینے میں خود کو دیکھتی ہے اور خود سے سوال کرتی ہے،کیا میں بدصورت ہوں؟ کیا مجھ میں کوئی کمی ہے؟ میری رنگت، میرا قد، میری آواز کیا سب غلط ہے؟وہ خود کو کوستی ہے،حالانکہ قصور اس کا نہیں ہوتا،وہ سوچتی ہے شاید میں بری ہوں،شاید میں کسی کے قابل نہیں،شاید میں پسند کیے جانے کے لائق نہیں،وہ ماں کی آنکھوں میں چھپے آنسو دیکھتی ہے،باپ کی خاموشی کو محسوس کرتی ہے،اور دل ہی دل میں خود کو ذمہ دار ٹھہرانے لگتی ہے۔یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں ایک معصوم دل ٹوٹتا ہے،اور کوئی تمہاری طرح کا انسان بےفکری سے اگلے دروازے کی طرف بڑھ جاتا ہے،حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ نکاح نہیں چاہتے،یہ لوگ صرف اپنی انا کی تسکین چاہتے ہیں،ہر دن نئی لڑکی دیکھنا،ہر دن ریجیکٹ کرنا، اور پھر فخر سے کہنا، ہم بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کر رہے ہیں یہ سوچ نہیں، یہ بےحسی اور اخلاقی دیوالیہ پن ہے۔میں والدین اور بہنوں کی بارگاہ میں عرض گزار ہوں اے باپ و ماں اور ہر وہ انسان جو کسی گھر والے کو اپنے گھر بلاتے ہو، بچی دیکھنے کے لیے خدایا نہ بلائیں بہت سے ایسے مقام ہوتے ہیں جہاں ہم اپنے بچوں کو دیکھا سکتے ہیں اور دوسرے کے بچے کو دیکھ سکتے ہیں، جب آپکو کوئی لڑکی کوئی لڑکا کسی تقریب میں پسند آئے اگر لڑکے والے ہیں تو اپنی رائے کو اپنے بچے سے کہیں بیٹا ہم نے وہاں ایک لڑکی دیکھی ہے اور اب ہم چاہتے ہیں تیرے لیے ان سے بات کر لیں، یا لڑکی والے لڑکی سے کہیں بیٹی ہم وہاں تقریب میں گئے تھے آج ہمیں فلاں رشتے دار کا بچہ پسند آیا ہے اگر آپ چاہو تو بات کر لیں، اور لڑکے والوں سے شرط رکھ دیں آپ ہماری بچی کو ہمارے گھر اس وقت دیکھنے آئیں گے جب آپکو مکمل طور پر پسند ہو،اور کوئی صورت ریجیکٹ کرنے کی نہ ہو تب تو اپنے گھر بلائیں ورنہ اپنی بیٹی کو خدا کے لیے نہ دکھائیں، تاکہ آپکی بیٹی فالتو میں ڈپریشن کا شکار ہو جائے۔اب ہم اسلام کا نظریہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، اسلام نے اس معاملے کو نہایت صاف، واضح اور باوقار رکھا ہے،اسلام کہتا ہے،لڑکی کو دیکھنے کا حق صرف اسی لڑکے کو ہے جو واقعی نکاح کرنا چاہتا ہو، وہ بھی نیتِ نکاح کے ساتھ، حیا کے دائرے میں،اور ادب کے مکمل لحاظ کے ساتھ، نہ پورا پریوار، نہ تماشا، نہ بار بار دیکھنے کی اجازت،اسلام یہ بھی سکھاتا ہے کہ اگر ارادہ پختہ نہیں تو دیکھنے کا حق بھی نہیں، اور اگر دیکھ لیا تو بلا وجہ انکار اخلاقی جرم ہے، آخر میں ایک کڑوی مگر سچی بات جو لوگ دوسروں کی بیٹیوں کے دل توڑتے ہیں،وقت ایک دن ان سے بھی حساب لیتا ہے، اور جو آج ریجیکٹ کرنے کا غرور رکھتے ہیں، کل وہی غرور ان کی اپنی دہلیز پر سوال بن کر کھڑا ہوتا ہے،اس لیے اب معاشرے کو فیصلہ کرنا ہوگا،یہ تماشا بند کرنا ہوگا، یہ رویہ چھوڑنا ہوگا۔یاد رکھو: لڑکی دیکھنے پورا پریوار نہیں، صرف لڑکا جائے،کیونکہ نکاح کھیل نہیں،تماشا نہیں،بلکہ عبادت ہے،اور عبادت میں غرور کی گنجائش نہیں، بلکہ صرف حیا کی جگہ ہوتی ہے،اگر آپ یہ نہیں کر سکتے تو، بھائی خدا کے لیے کسی بہن، بیٹی کو دیکھنے بعد اس طرح ریجیکٹ نہ کریں کہ وہ اللہ کی بارگاہ میں آپکی شکایتیں کرنے لگے،اور بروز محشر بلا کسی وجہ کے ریجیکٹ کرنے کی بنیاد پر آپکو خدا کی بارگاہ میں پکڑ لے اور خدا سے تمہاری شکایت کر دے،خدارا سمجھیں بڑا سخت ہے محشر کا وہ دن جس میں انبیاء کرام علیہم السلام بھی بارگاہ خداوندی میں لرز رہے ہوں گے اور انبیاء کرام علیہم السلام وہ ہیں جو گناہوں سے پاک ہیں، پھر ہم مجرموں کا کیا حال ہوگا خدارا ڈرے اللہ رب العزت کے غضب سے اور اپنے حشر کو یاد کریں۔

نوٹ: یہ میری تفکیر ہے آپکو اختلاف کا پورا پورا حق ہے، لیکن پھر بھی وہ طرز اپنایا جائے جس کا تقاضہ اسلام کر رہا ہے۔

اللہ کریم ہمیں سوچنے سمجھنے کی توفیق بخشے اور ہماری بہنوں کے لیے بہتر سے بہتر رشتے مہیا فرمائے اور نصیبوں کو اچھا کرے آمیـــــــــــــــــن یــــا رب الــــــــعـــــــالــــــمـــــیــن بجاہ النبی الکریم ﷺ۔

*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*