پردیس میں کپڑے دھوتے وقت ماں کی یاد
✍🏻 محمد پالن پوری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پردیس کی پہلی ہی صبح انسان کو یہ احساس دلا دیتی ہے کہ ماں ایک پوری دنیا ہوتی ہے۔ جب اجنبی کمرے میں تنہا بیٹھ کر اپنے ہی ہاتھوں سے کپڑے دھوتے ہوئے انگلیوں کی پوروں میں صابن کی جلن اترتی ہے، جب استری کی گرم لوہے سے اٹھتی بھاپ آنکھوں کے کناروں کو نم کر دیتی ہے تب اچانک یاد آتا ہے کہ یہی کپڑے کبھی ماں کی گود کے سائے میں دھلتے تھے جہاں تھکن بھی آرام بن جاتی تھی۔ آج ہر شکن دار کپڑا ماں کی انگلیوں کی کمی کا اعلان کرتا ہے، ہر بے ترتیب تہہ اس کی محبت کی ترتیب کو یاد دلاتی ہے۔۔۔۔۔۔
پردیس میں انسان کام نہیں کرتا وہ ماں کی غیر موجودگی کو انجام دیتا ہے۔ وہ ہر روز خود کو یہ سکھاتا ہے کہ جینا کیسے ہے مگر دل ہر لمحہ یہ ماننے سے انکاری رہتا ہے کہ ماں کے بغیر بھی جیا جا سکتا ہے۔ تب آنکھوں کے سامنے ماں کا وہ چہرہ آ کھڑا ہوتا ہے جو کبھی شکوہ نہیں کرتا تھا، جو خاموشی سے سب کچھ سہہ لیتا تھا اور دل کے اندر کہیں بہت گہرائی میں ایک بے آواز چیخ جنم لیتی ہے کہ کاش ماں یہ جان پاتی کہ اس کے کیے ہوئے معمولی کام بھی اولاد کے لیے عبادت سے کم نہ تھے۔ ایسے لمحوں میں آنسو نہیں گرتے آنسو انسان کے اندر کہیں ٹوٹ کر بکھر جاتے ہیں اور پردیس اچانک بہت بڑا، بہت سرد اور بہت بے رحم محسوس ہونے لگتا ہے۔۔۔۔۔
اماں! کیا کہوں؟
بہت یاد ستاتی ہے۔ پردیس میں جب اپنے ہی ہاتھوں سے وہ سب کچھ کرنا پڑتا ہے جو کبھی تو خاموشی سے میرے لیے کر دیتی تھی تو دل ٹوٹ کر رہ جاتا ہے۔ تیرا بیٹا ہر پل تیرے چہرے کو یاد کر کے روتا ہے😭😭😭😭😭۔ بے آواز، تنہا اور اس امید پر کہ شاید یہ آنسو کسی دن تیری دعا بن کر اس تک پہنچ جائیں۔۔۔۔۔۔
https://www.facebook.com/share/14PuDJnGiJ3/