ہمارے مذہب اسلام کی خصوصیات
✍🏻 محمد عادل ارریاوی
__________________________________
محترم قارئین آپ کو دنیا کی ہر چیز ہر کام میں اسلام کی خصوصیات نظر آئے گی لیکن شرط اتنا ہے کہ اس کو دیکھنے والی آنکھ چاہیے اللہ ربّ العزت کسی بھی انسان کو اس کے برداشت سے زیادہ مصائب و پریشانی نہیں دیتا اسلام وہ واحد دین ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں علم اور عقل کی رہنمائی کو بنیاد بناتا ہے یہ دین انسان کو تہذیب و تمدن کی طرف بلاتا ہے اور روحانی قدروں کے ساتھ مادی ضروریات میں بھی توازن قائم کرتا ہے اسلام کی حقانیت کی گواہی مہذب دنیا کے مفکرین اور فلسفیوں نے بھی دی ہے اور اس کی صداقت کو تجربات کی روشنی میں سمجھنا آسان ہے اسلام کی بنیادی تعلیم یہ ہے کہ تمام انبیاء و رسل اور آسمانی کتابوں پر ایمان لایا جائے یہ دین انسان کی زندگی کی تمام ضروریات کا احاطہ کرتا ہے اور اس کی تعلیمات کو علمی تجربات نے درست ثابت کیا ہے اسلام میں آسانی اور لچک پائی جاتی ہے اسی لیے یہ ہر زمانے اور ہر امت کے لیے موزوں ہے اور ہر حال میں اس پر عمل کرنا ممکن ہے اسلام افراط و تفریط سے پاک ایک متوازن دین ہے اس کی مقدس کتاب قرآنِ مجید محفوظ ہے اور پوری انسانیت کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے اسلام تمام مفید علوم کے حصول کی اجازت دیتا ہے اور موجودہ تہذیب نے بھی اسلامی تعلیمات سے فائدہ اٹھایا ہے یہی دین جدید تہذیب کی خرابیوں کا درست علاج پیش کرتا ہے اور تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اسلامی تہذیب روح اور مادہ دونوں کو یکجا کرتی ہے اسلام دنیا میں امن رواداری اور باہمی ہم آہنگی قائم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اس نے طبقاتی تفریق کو ختم کیا اور تمام انسانوں کے لیے یکساں قانونی اصول متعین کیے اسلام نے سماجی انصاف کو مضبوط بنیاد فراہم کی اور اس کی تعلیمات فطرتِ انسانی کے عین مطابق ہیں یہی دین حکمرانوں اور بادشاہوں کو ظلم و جبر سے روکتا ہے اور باہمی مشورے کی تلقین کرتا ہے اسلام دشمنوں کے ساتھ بھی انصاف کرنے کا حکم دیتا ہے اور اس کی بشارت پچھلی آسمانی کتابوں میں موجود ہے اسلام نے عورت کو خواہ وہ بیوی ہو یا بیٹی عزت اور تحفظ عطا کیا اور نسل رنگ زبان اور قوم کی بنیاد پر تمام امتیازات کو ختم کیا اسلام نے انسانوں کے سیاسی حقوق کو تسلیم کیا اور تعلیم کے حصول کی بھرپور ترغیب دی حتیٰ کہ نفع بخش علم کو چھپانا حرام قرار دیا اس کے احکامات جدید طبی ایجادات کے بھی موافق ہیں اسلام نے غلاموں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کا خاتمہ کیا اور مساوات و آزادی کی ترغیب دی جس کے نتیجے میں تاریخ میں غلام بھی حکمرانی کے منصب تک پہنچے اسلام عقل کی بالادستی کو تسلیم کرتا ہے اور اس کے درست فیصلوں کی پیروی کا حکم دیتا ہے اس نے غریبوں کے لیے مالداروں کے مال میں حق مقرر کیا تاکہ معاشرے کے دونوں طبقات محفوظ رہیں اسلام نے اللہ کی حکمت کے مطابق اخلاق میں نرمی اور سختی کے مواقع متعین کیے اور تمام مخلوقات کے ساتھ حسنِ سلوک کا درس دیا یہ دین فطری اصولوں کے مطابق شہری حقوق سکھاتا ہے اور انسان کی صحت و دولت کی حفاظت کرتا ہے اسلام ہمیشہ سے انسان کے دل و دماغ اور اخلاق پر مثبت اثر ڈالتا آیا ہے اللہ رب العزت ہمیں اسلام کی عظیم نعمت کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے ہمارے علماء اور مشائخ فرماتے ہیں کہ انسان آخری وقت میں تین وجوہات کی بنا پر اسلام اور ایمان کی دولت سے محروم ہو جاتا ہے۔ یہ کہ وہ اسلامی اعمال کو اپنے لیے بوجھ سمجھنے لگے۔ یہ کہ اسے اپنے انجام کی فکر نہ ہو کہ اس کا خاتمہ کیسا ہوگا ۔ اور یہ کہ اس نے ساری زندگی اپنے ایمان پر شکر ادا نہ کیا ہو۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ایمان کے زوال سے محفوظ رکھے اور ہم سب کا خاتمہ ایمان کے ساتھ فرمائے۔ آمین یارب العالمین