عنوان: اطاعتِ رب اور خدمتِ مادر: حضرت بایزید بسطامیؒ کا سبق


قرآنی حکم:

اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:

"اور آپ کے رب نے فیصلہ فرما دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں 'اف' تک نہ کہنا اور نہ انہیں جھڑکنا، بلکہ ان سے نرمی اور عزت کے ساتھ بات کرنا۔" > (سورہ بنی اسرائیل، آیت: 23)

بایزید بسطامیؒ کا واقعہ:

تصوف کی دنیا کے عظیم ستارے حضرت بایزید بسطامیؒ کی زندگی اس آیت کی جیتی جاگتی تصویر تھی۔ ایک شدید سرد رات، جب برف باری ہو رہی تھی، آپؒ کی ضعیف والدہ نے پانی مانگا۔ آپؒ گھڑا اٹھا کر باہر گئے تو دیکھا کہ اتنی سخت سردی ہے کہ سرد سے گھڑے کا پانی جم چکا تھا۔ آپ فوراً کنویں کی طرف دوڑے، پانی بھر کر لائے، لیکن جب کمرے میں پہنچے تو دیکھا کہ والدہ دوبارہ نیند کی آغوش میں جا چکی تھیں۔

آپؒ کے پاس دو راستے تھے: یا تو پانی رکھ کر سو جاتے، یا والدہ کو جگا دیتے۔ لیکن آپؒ نے سوچا کہ اگر میں سو گیا اور والدہ کی آنکھ کھلی تو انہیں پیاس کی شدت میں انتظار کرنا پڑے گا، اور اگر میں نے انہیں جگایا تو ان کی آرام دہ نیند میں خلل پڑے گا جو کہ بے ادبی ہوگی۔

چنانچہ آپؒ پانی کا پیالہ ہاتھ میں لیے سرہانے کھڑے ہو گئے۔ پوری رات گزر گئی، سردی اتنی سخت تھی کہ پیالہ آپ ؒکے ہاتھ سے چپک گیا اور انگلیاں سن ہو گئیں۔ جب صبح صادق ہوئی اور والدہ کی آنکھ کھلی، تو اپنے بیٹے کو اسی طرح مؤدب کھڑا پایا۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ بیٹا پوری رات ٹھٹھرتی سردی میں صرف ایک پیالے کے لیے کھڑا رہا، تو ان کا دل بھر آیا۔ انہوں نے ہاتھ اٹھا کر دعا دی: "اے اللہ! میں اپنے بیٹے سے راضی ہوں، تو بھی اس سے راضی ہو جا اور اسے بلند مقام عطا فرما۔"

بزرگ فرماتے ہیں کہ بایزیدؒ کو جو مقامِ ولایت ملا، وہ ان کی راتوں کے نفلوں سے زیادہ اس ایک رات کی دعا کا صدقہ تھا۔

شعر

وہی پاتے ہیں منزلیں اور وہی پاتے ہیں قربِ خدا "مسعود"

جو اپنے والدین کی خدمت کو معراج سمجھتے ہیں

پوری رات پیالہ لیے کھڑا رہا وہ ولی بن کر

ماں کی رضا میں ہی چھپی رب کی رضا ہے

صدائے قلم کے صارفین کے نام ایک ضروری پیغام:

"میرے عزیز ساتھیو! اگر آپ کو ماں کی عظمت پر مبنی یہ تحریر اور حضرت بایزید بسطامیؒ کا یہ واقعہ پسند آیا ہو، تو اپنی محبت کا اظہار ضرور کریں۔

کمنٹ (Comment): اپنی ماں کے لیے ایک خوبصورت جملہ یا 'آمین' لکھ کر اپنی حاضری لگوائیں۔

فالو (Follow): ایسی مزید اسلامی اور اصلاحی تحریروں کے لیے مجھے فالو کریں تاکہ ہم 'صدائے قلم' کے اس سفر میں ساتھ رہیں۔

آپ کی حوصلہ افزائی ہی میرے قلم کی اصل طاقت ہے۔"

تحریر: محمد مسعود رحمانی ارریاوی (صدائے قلم)