{حالات کی سختی انابت الی االلہ کا ذریعہ }
حق وباطل کے مابین تصادم وتضاد روز ازل سے رہی ہے،ہرزمانہ میں باطل نے سر اٹھایا ہے ،اور آنکھیں دکھانے کی کوشش کی ہے-
مگر اللہ رب العزت نے بھی باطل کا قلع قمع کرنے کیلیے حق اور اہل حق کو اتاراہے،حق وباطل کے درمیان معرکہ آرائی کوئی نئی بات نہیں، بلکہ انسانی تاریخ شاہد ہےکہ حق سے لوگوں نے منھ موڑا ہے، شیطان کے بہکاوے میں آکر لوگوں نے حق کے تسلیم کرنے سے انکار کیاہے-
پہلا قتل بھی اسی وجہ سے ہواتھا کہ قابل نے اپنا مقصد پورا کرنے کیلیے ہابیل کو ناحق قتل کردیا -
کیونکہ حق انسانی طبیعت اور اسکے مزاج کے خلاف ہوتاہے ،یہ بندوں کے لیےآزمائش ہوتا ہےکہ کون انسان راہ حق کو پانے کیلئے خواہشات کو قربان کرتاہے اور کون اسکے برعکس -
موت وحیات کا مقصد بھی آزمائش و امتحان ہے-
باری تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا!
وہ خدا بڑا عالیشان ہے جس کے قبضہ میں تمام سلطنت ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون شخص عمل میں زیادہ اچھا ہے اور زبردست (اور)بخشنے والاہے
(سورۃ الملک بیان القرآن جلد 3)
امتحان چونکہ تلون مزاجی کا حامل ہے ،تغیر وتبدل اس کا خاصہ ہے ،جمود واستقلال اس میں کمیاب ہے، اسلیے جب وہ بھٹک جاتاہے ،حق سےمنھ پھیر لیتاہے،حکم خداوندی سے اعراض کرلیتا ہے ؛تو خدا چونکہ اپنے بندوں پہ مہربان ہے، اسلیے اپنے بندوں کی رشد و ہدایت کےلئے اپنے برگزیدہ فرستادہ وقاصد کو بھیجتا ہے تاکہ اسکی اصلاح ہو اور معرفت الٰہی حاصل کرلے اور فانی دنیا کی فکروں سے آزاد ہوکے باقی دنیا (عالم آخرت) کی فکر کرے-
اگر انسان اپنے نبی اور رسول کی اطاعت کرلے ،اس کے مشعل راہ کو غنیمت جان کر عمل پیرا ہوجاۓ ؛تو فقد فاز فوزا عظیما کی سند اور ڈگری مل جاتی ہے 'وألا فلا '
یعنی کہ اگر اپنے نبی کی نافرمانی کرے، اور ان کی باتوں قبول کرنے سے انکار کردے تو قرآن کریم نے سخت الفاظ میں وعید بیان کی ہے، جس کی تعبیر عذاب شدید وعذاب الیم ،فی نار جہنم خالدین فیہا،اور اس جیسے سخت ترین الفاظ سے کی گئی ہے اور انہیں دھمکایا گیا ہے-
مگر جو لوگ شقی و غبی ہوتے ہیں ؛حق بات ان میں سرایت نہیں کرتی، وہ انا اور ضد کی وجہ حق سے مفر ہوتے ہیں،
پھر یہ حق اہل حق کو مٹانے کی سعی پیہم کرتے ہیں،اور شیطانی حرکات شروع کر دیتے ہیں گویا کہ وہ انسانی شکل میں شیطان ہوتے ہیں ،جس طرح شیطان چاہتا ہے کہ جہنم میں میرا کوئی رفیق ہو اسی طرح عقل سے پیدل اسلام دشمن عناصر بھی اسی فکر میں ہے کہ جہنم میں ہمارا بھی کوئی رفیق ہو ،اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب کہ اہل حق کوان کے راستے سے ہٹاکر اپنا ہم خیال وہمنوا بنالے -
بڑی بدبختی و حرماں نصیبی ان لوگوں کےلیے جو ایسے لوگوں کے دام فریب کا شکار ہو کے خدا کے باغی بن جاتے ہیں ،اور وقتی مفاد کے لئے اپنی ابدی حیات کا سودا کرلیتے ہیں-
یہی وجہ ہے کہ آج پورے عالم یہ ں ایک شور و ہنگامہ آرائی ہے ،ساری دنیا کے لوگ پریشان ہیں ،عدل وانصاف سے کوسوں دور ہیں -
باطل طاقتیں کبر و نخوت کا لبادہ اوڑھ کر خاص طور پر ایک خدا اور نبی آخر الزماں پہ ایمان لانے والوں کو عالمی سطح پہ پریشان کررہاہے ،یہ بات کسی پہ مخفی نہیں کہ آج مسلمانوں سے زیادہ مظلوم قوم کوئی نہیں -
معاندین اسلام کو ان کا وجود گوارہ نہیں ،اس لیے ذہنی وفکری اور جسمانی یلغار سے اسلام اور ان کے متبعین کو پسپا کرنے کی لاحاصل سعی کررہے ہیں -
یورپ،اندلس ،ایران ،عراق ،فلسطین وبرما اور ہندوستان سے اسلام کو مٹانے کے لیے ہرممکن کوشش جاری ہے،حالیہ فلسطینی یلغار میں کئی ہزار معزز و عفت مآب روحیں خدا کے پاس چلی گئیں،اہل وفا میں شامل ہوکر اوہ جنت کے مکیں بن گیئں-
مگر اسلام کو بقاہے اور بقا رہےگا،اہل اسلام راہ خدا میں جانثاری کرنے میں نہ پہلے کبھی بخل کیا ہے نہ آئندہ کبھی اس کی توقع ہے ،کیونکہ یہ جان اللہ کی امانت ہے اور یہ امانت اسی کے سپرد کرناہے ،اللہ نے اس جان کو جنت کے بدلے خرید لیا ہے جیساکہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ توبہ میں
ارشاد فرمایا!
بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے ان کی جانوں کو اس بات کے عوض خرید لیاہے ان کو جنت ملے گی - الآیۃ
(سورہ توبہ آیت 111بیان القرآن جلد 2)
آج بلاد ہند میں بھی مسلمانوں کو صلیبیوں وصیہونیوں کے ایماء واشارہ پر ہنود کی طرف سے جو جارحانہ ظلم وتشدد کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہ کسی سے مخفی نہیں ہے، ہرطرح کی یورش وشورش باطل ہنود کی طرف سے جاری ہے، کبھی تو احکام الہیہ پہ قانون ،کبھی عبادت گاہوں پے حملے، نہ جانے دہلی اور اس کے مضافات میں کتنے ہی قدیم مساجد ایسے ہیں جنہیں حکومتنے بند کروادیا، مسلمانوں کو وہاں جانے کی اجازت نہیں دیاجاتا شرابی لوگ وہاں رسپیانی حرکت کرتے ہیں مرد وزن کا اختلاط جنسی عمل کرنے کی عام اجازت ہے،
ذہنی وفکری یلغار اس طرح کہ ہماری دختر ، ہمارےطفل اور بزرگ مختلف نوعیت سے راہ ارتداد اختیار کررہے ہیں ،کبھی تو قدیم مساجد کو لیکر جعلی دستاویز تیار کرکے ذیلی عدالتوں میں عرضی داخل کی جاتی ہے اور عدالت کے جج جو کہ ذہنی صلاحیت کھو چکے ہیں ،جانبین سے دلائل وشواہد کی سماعت کے بغیر ہی وہاں کے جائزہ کا حکم جاری کر دیتے ہیں ،انہیں سوچنے کی ضرورت ہے ،خدا تو ساری دنیا میں ہوتے ہیں وہ ہرجگہ موجود ہے اور انسانوں کے اعمال سے باخبر ہے،پھر وہ مسجد کو کیوں کھود رہےہیں،بلکہ بلا امتیاز ملک کے تمام اراضی کو کھودیں -
بہر حال! حالات بہت ہی ناگفتہ بہ ہیں ،لیکن ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے -
قرآن کریم میں مایوسی سے روکا گیا ،چنانچہ ارشاد ہے
ولا تأیسو من روح اللہ الآیه
ترجمہ اور تم اللہ کی رحمتوں سے مایوس مت ہو ،یقینا اللہ کی رحمتوں سے زندیق ہی مایوس ہوتے ہیں-
یہ حالات !اللہ تعالیٰ اس لیے بھی پیدا کرتاہے تاکہ ہم اللہ کی طرف رجوع کریں ، احکام الہیہ پر مواظبت کے ساتھ کاربند رہیں ،بقاۓ ایمان واسلام کے جو لوازمات اور آلۂ کار ہیں ہم اس کی طرف توجہ دیں ، اسی کی طرف کلام الٰہی میں اشارہ ہے ،
ولاتھنو ولاتحزنو ونتم الأعلون ان کنتم مؤمنین
اور تم ہمت مت ہارو ،رنج مت کرو اور تم ہی غالب رہوگے اگر تم پورے مؤمن رہے،
(بیان القرآن جلد 2 ایت 139)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابۂ کرام کی زندگی اور اسلاف واکابر سے ہمیں ایثار وقربانی کا درس ملتا ہےـ لہذا ہمیں اس سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے-
اللہ ہمیں اپنے دین پر استقامت عطا فرمائے، باطل اور اسکےپیرکاروں کو پسپا فرمائے- آمین