اسلام نے نکاح کو آسان اور سادہ عبادت قرار دیا ہے۔
جہیز کی رسم نکاح کی سادگی کے خلاف ایک بوجھ بن چکی ہے۔
قرآن کریم نکاح میں آسانی اور عدل کی تعلیم دیتا ہے، نہ کہ نمود و نمائش کی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَأَنكِحُوا الْأَيَامَىٰ مِنكُمْ﴾ (النور: 32)
یعنی تم میں سے بے نکاح لوگوں کا نکاح کر دو، رکاوٹیں نہ کھڑی کرو۔
جہیز کی شرط غریب باپ کے لیے سخت آزمائش بن جاتی ہے۔
یہ رسم بیٹی کو رحمت کے بجائے بوجھ سمجھنے کا سبب بنتی ہے۔
قرآن کہتا ہے: ﴿لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ إِلَّا وُسْعَهَا﴾ (البقرۃ: 286)
یعنی کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا جاتا۔
جہیز کی مانگ اسی اصول کے خلاف ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے سب سے بابرکت نکاح وہ بتایا جو آسان ہو۔
حدیث میں آتا ہے: «أَعْظَمُ النِّكَاحِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُ مَؤُونَةً»
یعنی سب سے زیادہ برکت والا نکاح وہ ہے جس میں خرچ کم ہو۔
جہیز خرچ بڑھاتا ہے، برکت گھٹاتا ہے۔
نبی ﷺ نے اپنی بیٹیوں کے نکاح میں جہیز کا مطالبہ نہیں کیا۔
سیدہ فاطمہؓ کے نکاح میں سادگی مثالی تھی۔
یہ امت کے لیے عملی نمونہ ہے۔
قرآن ظلم سے سختی سے روکتا ہے۔
﴿وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ﴾ (الاعراف: 85)
لوگوں کے حقوق کم نہ کرو۔
جہیز کی مانگ لڑکی کے خاندان کے حق پر ڈاکہ ہے۔
یہ معاشرتی ظلم کی ایک صورت ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ»
نہ خود نقصان اٹھاؤ اور نہ دوسروں کو نقصان پہنچاؤ۔
جہیز سے باپ قرض میں ڈوبتا ہے، بہنیں محروم رہتی ہیں۔
یہ واضح نقصان ہے، جس سے شریعت منع کرتی ہے۔
قرآن تکبر اور دکھاوے سے منع کرتا ہے۔
﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُخْتَالَ الْفَخُورَ﴾ (لقمان: 18)
جہیز اکثر فخر اور نمائش کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
اس سے حسد، مقابلہ بازی اور ریا پھیلتی ہے۔
نبی ﷺ نے عورتوں کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا۔
«اسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا»
عورتوں کے بارے میں خیر کی وصیت قبول کرو۔
جہیز کے طعنے اور مطالبے اسی حکم کی خلاف ورزی ہیں۔
قرآن نکاح کو سکون کا ذریعہ بتاتا ہے۔
﴿لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا﴾ (الروم: 21)
جہیز کی رسم سکون کے بجائے تنازع پیدا کرتی ہے۔
کئی گھروں میں جھگڑے اور طلاق کی بنیاد بنتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے آسانی پیدا کرنے کا حکم دیا۔
«يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا»
آسانی کرو، سختی نہ کرو۔
جہیز سختی اور پیچیدگی کا نام ہے۔
شریعت میں مہر مرد کی ذمہ داری ہے۔
قرآن کہتا ہے: ﴿وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً﴾ (النساء: 4)
عورتوں کو ان کے مہر خوش دلی سے دو۔
جہیز اس الٰہی حکم کو الٹ دیتا ہے۔
جہیز نہ سنت ہے، نہ فرض، نہ واجب۔
یہ محض جاہلی روایت ہے جسے اسلام نے پسند نہیں کیا۔
اس سے معاشرہ طبقاتی تقسیم کا شکار ہوتا ہے۔
غریب کی بیٹی پیچھے رہ جاتی ہے۔
اسلام عدل، مساوات اور رحم کا دین ہے۔
جہیز ان تینوں کے منافی ہے۔
ہمیں نکاح کو عبادت سمجھ کر ادا کرنا چاہیے۔
رسم و رواج کو شریعت پر غالب نہیں آنے دینا چاہیے۔
والدین، خاص طور پر لڑکے والوں کو تقویٰ اختیار کرنا چاہیے۔
بیٹی والوں پر دباؤ ڈالنا گناہ ہے۔
جہیز سے انکار کرنا ایمان کی علامت ہے۔
سادگی اختیار کرنا سنتِ نبوی ﷺ ہے۔
آئیں عہد کریں کہ جہیز کو مکمل طور پر ترک کریں گے۔
نکاح کو آسان بنائیں گے، گناہ کے دروازے بند کریں گے۔
یہی قرآن و سنت کی اصل تعلیم ہے۔
اللہ ہمیں اس لعنت سے نجات عطا فرمائے
اور ہم سب کو قرآن و حدیث کے احکامات کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے
آمین یارب العالمین
مفتی محمد صادق امین قاسمی