اسلام میں شہادت کو نہایت بلند اور عظیم مقام حاصل ہے۔ شہید وہ خوش نصیب انسان ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنی جان قربان کر دیتا ہے۔ قرآن و حدیث میں شہداء کی شان، ان کا مقام اور ان کی فضیلت نہایت واضح انداز میں بیان کی گئی ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
﴿وَلَا تَقُولُوا لِمَن يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَـٰكِن لَّا تَشْعُرُونَ﴾
(البقرۃ: 154)
ترجمہ: جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے جائیں انہیں مردہ نہ کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں، مگر تم شعور نہیں رکھتے۔
اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا:
﴿بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ﴾
(آل عمران: 169)
ترجمہ: بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں اور رزق دیے جاتے ہیں۔
یہ آیات اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ شہداء کو دنیاوی موت کے بعد بھی حقیقی زندگی عطا کی جاتی ہے، جو عام انسانوں کو نصیب نہیں۔
نبی کریم ﷺ نے شہداء کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
«مَا مِنْ أَحَدٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا إِلَّا الشَّهِيدُ، فَإِنَّهُ يَتَمَنَّى أَنْ يَرْجِعَ فَيُقْتَلَ عَشْرَ مَرَّاتٍ لِمَا يَرَى مِنَ الْكَرَامَةِ»
(بخاری، مسلم)
ترجمہ: جنت میں داخل ہونے والا کوئی شخص دنیا میں لوٹنا پسند نہیں کرے گا، سوائے شہید کے، کیونکہ وہ جو عزت و کرامت دیکھتا ہے اس کی وجہ سے چاہے گا کہ دنیا میں جا کر بار بار شہید ہو۔
ایک اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«لِلشَّهِيدِ عِنْدَ اللَّهِ سِتُّ خِصَالٍ: يُغْفَرُ لَهُ فِي أَوَّلِ دَفْعَةٍ مِنْ دَمِهِ…»
(ترمذی)
ترجمہ: شہید کے لیے اللہ کے پاس چھ خصوصیات ہیں، اس کے خون کے پہلے قطرے کے ساتھ ہی اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے…
شہید کو قبر کے عذاب سے محفوظ رکھا جاتا ہے، اسے جنت میں اعلیٰ مقام عطا کیا جاتا ہے اور اس کے اہلِ خانہ کے لیے بھی شفاعت کا حق دیا جاتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
«الشُّهَدَاءُ عِنْدَ اللَّهِ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ»
(مسلم)
ترجمہ: شہداء اللہ کے نزدیک نور کے منبروں پر ہوں گے۔
شہادت محض میدانِ جنگ میں قتل ہونے کا نام نہیں بلکہ نیت کا خالص ہونا شرط ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا:
«مَنْ قُتِلَ دُونَ دِينِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ»
(ترمذی)
ترجمہ: جو اپنے دین کی حفاظت میں قتل ہوا وہ شہید ہے۔
شہادت ایمان کی سچائی، قربانی، صبر اور اخلاص کی اعلیٰ مثال ہے۔ شہداء امت کے لیے مشعلِ راہ ہیں اور ان کا تذکرہ ایمان کو تازہ کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں شہداء کے مقام کو سمجھنے، ان کے نقشِ قدم پر چلنے اور حق و صداقت پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یارب العالمین 

مفتی محمد صادق امین قاسمی