نئے سال کا جشن اور مسلم معاشرہ
✍🏻 محمد عادل ارریاوی
_____________________________
محترم قارئین اسلام انسان کو وقت کی قدر خود احتسابی اور مقصدِ حیات پر غور و فکر کی تعلیم دیتا ہے مگر افسوس کہ آج مسلمان بھی غیروں کی تہذیب و ثقافت سے متاثر ہو کر ایسے اعمال اختیار کر رہے ہیں جو نہ صرف اسلامی اقدار کے خلاف ہیں بلکہ انہیں غفلت اور بے راہ روی کی طرف لے جاتے ہیں نئے سال کی آمد کے موقع پر منائے جانے والے مختلف رسومات اور تقریبات اسی فکری انحراف کی ایک واضح مثال ہیں جن پر سنجیدگی سے غور کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ہمارا حال یہ ہے کہ جیسے جیسے وقت گزرتا جا رہا ہے ہماری زندگی گھٹتی جا رہی ہے اور ہم موت کے مزید قریب ہوتے جا رہے ہیں لیکن اس حقیقت پر غور و فکر کرنے اور اپنا محاسبہ کرنے کے بجائے ہم خوشیاں منانے میں لگ جاتے ہیں ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری عمر میں ایک سال کا اضافہ ہو گیا ہے حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے یعنی ہماری مقررہ عمر میں سے ایک سال کم ہو چکا ہوتا ہے اس کے باوجود ہم سالگرہ مناتے ہی غیروں کی نقالی کرتے ہوئے کیک کاٹتے ہیں اور ایسی بہت سی رسومات ادا کرتے ہیں جن کا دین سے کوئی تعلق نہیں بالکل یہی صورتِ حال نئے سال کی آمد کے موقع پر بھی دیکھنے میں آتی ہے یکم جنوری سے کئی دن پہلے ہی مبارکباد کے پیغامات کارڈز اور زبانی طور پر happy new year کے الفاظ عام ہو جاتے ہیں ہر طرف نئے سال کے استقبال کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں نئے سال کے جشن کے موقع پر شہروں اور بستیوں کو رنگ برنگی روشنیوں اور قمقموں سے سجا دیا جاتا ہے 31 دسمبر کی رات بارہ بجنے کا بے چینی سے انتظار کیا جاتا ہے اور جیسے ہی گھڑی بارہ بجاتی ہے ایک دوسرے کو مبارکباد دی جاتی ہے کیک کاٹا جاتا ہے آتش بازی شروع ہو جاتی ہے اور ہر طرف happy new year کی صدائیں سنائی دیتی ہیں مختلف نائٹ کلبوں اور تفریحی مقامات پر خصوصی پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں جہاں صرف جوڑوں کو داخلے کی اجازت ہوتی ہے اس طرزِ فکر کے نتیجے میں boy friend اور girl friend کا کلچر فروغ پا رہا ہے ان تقریبات کے لیے مہینوں پہلے بکنگ کرائی جاتی ہے جہاں شراب ناچ گانا اور فحاشی کا مکمل انتظام ہوتا ہے کیونکہ ان کی تفریح کا دار و مدار زیادہ تر دو ہی چیزوں پر ہوتا ہے شراب اور عورت
ایسے پروگراموں میں شرکت کے باعث بہت سی نوجوان لڑکیاں دین سے دور ہوتی چلی جاتی ہیں اور درندہ صفت لوگوں کا شکار بن جاتی ہیں پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ نام نہاد محبت کے جال میں پھنس کر اپنے دین سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں اس مقصد کے لیے بعض فرقہ پرست تنظیمیں منظم انداز میں کام کر رہی ہیں جہاں غیر مسلم نوجوان مختلف طریقوں سے مسلم لڑکیوں کو ورغلاتے اور بہکاتے ہیں نئے سال کی یہ تقریبات ان کے لیے خاص طور پر فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں۔
افسوس کا مقام یہ ہے کہ آج بہت سے مسلمان بھی غیر مسلموں کی طرح نئے سال کے منتظر رہتے ہیں اور 31 دسمبر کا شدت سے انتظار کرتے ہیں مسلمانوں نے اپنی دینی اقدار اور روایات کو کمتر سمجھ کر نئے سال کا جشن منانا شروع کر دیا ہے۔ یکم جنوری کو لوگ شہروں اور دیہات سے نکل کر پارکوں جنگلوں اور ویران مقامات پر اجتماعی دعوتوں کا اہتمام کرتے ہیں ان تقریبات میں کھانے پینے کے ساتھ ساتھ شراب نوشی آتش بازی اور رقص و موسیقی کی محفلیں سجائی جاتی ہیں مغربی تہذیب کی اندھی تقلید کرتے ہوئے مردوں کے ساتھ نوجوان لڑکیاں بھی ان پکنکس میں شریک ہوتی ہیں حقیقت میں ایسی پکنکس موج مستی کے سوا کچھ نہیں ہوتیں اور ان میں شامل اکثر امور اسلامی تعلیمات کے خلاف ہوتے ہیں۔ نئے سال کے موقع پر آتش بازی کا منظر بھی نہایت خوفناک ہوتا ہے گھروں گلیوں چوراہوں محفلوں اور عام راستوں پر اس قدر آتش بازی کی جاتی ہے کہ جگہ جگہ حادثات پیش آتے ہیں ان مناظر میں مسلمانوں کو بھی شامل دیکھ کر انتہائی افسوس ہوتا ہے کہ دینِ محمدی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ماننے والے کفار کی نقالی میں ان کے شانہ بشانہ کیوں نظر آ رہے ہیں۔
اے اللہ ربّ العزت ہمیں ہدایت پر قائم رکھ اور ہمارے وقت میں برکت عطا فرما بےجا بدعات و رسومات سے ہم سب کی مکمل حفاظت فرما آمین یارب العالمین