تقدیر مبرم اور تقدیرِ معلّق _ عدلِ الٰہی اور انسانی اختیار کا متوازن تصور
مضمون (66) بسم اللہ الرحمن الرحیم. 
تقدیر کا مسئلہ ان بنیادی عقائد میں سے ہے جس پر غور نہ کیا جائے تو انسان فکری انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔ بعض لوگ اللہ کے ازلی علم کو جبر سمجھ لیتے ہیں اور بعض انسانی اختیار کو اتنا بڑھا دیتے ہیں کہ تقدیر کا انکار لازم آتا ہے۔ حالانکہ قرآن ایک ایسا متوازن تصور پیش کرتا ہے جس میں اللہ کا علم بھی اپنی جگہ قائم رہتا ہے اور انسان کی ذمہ داری بھی۔اسی توازن کو سمجھانے کے لیے یہ فکری توضیح پیش کی جا رہی ہے۔
اصل سوال (جس سے الجھن پیدا ہوتی ہے)
جب اللہ کو ازل سے معلوم ہے کہ بندہ آخری عمل کیا کرے گا،
تو پھر تقدیرِ معلّق (لکھنا، مٹانا، بدلنا) کی کیا ضرورت ہے؟
اور اگر سب کچھ پہلے سے طے ہے تو انسان اپنے اعمال کا ذمہ دار کیسے ہوا؟
یہ سوال محض شبہ نہیں، بلکہ ایک سنجیدہ فکری الجھن ہے۔ اور اگر اس کادرست جواب نہ سمجھا جائے تو انسان یا جبرِ محض کا شکار ہو جاتا ہے یا ذمہ داری سے فرار اختیار کر لیتا ہے۔
بات کہاں الجھتی ہے؟
اصل الجھن یہاں پیدا ہوتی ہے کہ ہم اللہ کے علم اور بندے کے عمل کو ایک ہی دائرے میں رکھ کر دیکھنے لگتے ہیں، حالانکہ قرآن ہمیں ان دونوں کے درمیان واضح فرق سکھاتا ہے۔
اسی فرق کو سمجھنے کے لیے ایک بنیادی اصول ذہن نشین کرنا ضروری ہے:
اللہ کا علم ؛نتیجے؛ کا علم ہے، اور تقدیرِ معلّق ؛راستوں؛ کا نظام ہے۔
یہ فرق واضح ہو جائے تو تقدیر کا مسئلہ خود بخود سلجھنے لگتا ہے. 
 اصل سوال کی جڑ
حیات، موت، جنت، دوزخ _ مگر حیات کس کو کیسے؟
موت کس طرح، کس سبب سے؟
یہی وہ مقام ہے جہاں انسان یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ اگر انجام طے ہے تو پھر کوشش بے معنی ہے، حالانکہ یہی سوال تقدیر کے متوازن تصور کی کنجی ہے۔
تقدیر مبرم کیا ہے.؟ 
اللہ کا علم _ جاننا؛ یہ 
بسبب مجبور کرنا نہیں. 
اللہ تعالیٰ کا علم ازلی و ابدی ہے۔ وہ ماضی، حال اور مستقبل کو ایک ہی آن میں جانتا ہے۔ مگر یہ جان لینا، بندے کو مجبور کرنا نہیں۔قرآن فرماتا ہے:
وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ 
(البقرہ: 282)
حقیقت یہ ہے کہ:اللہ کا جان لینا سبب نہیں بنتا. بندے کا اختیار سے کرنا سبب بنتا ہے. بندہ جو کرے گا، وہ اللہ کے علم میں پہلے سے موجود ہوتا ہے. اللہ کے علم میں نہ اضافہ ہوتا ہے، نہ کمی
لہٰذا. تقدیرِ مبرم انجام کا وہ دائرہ جو نہیں بدلتا. تقدیر کی یہی جہت وہ ہے جسے علماء نے تقدیرِ مبرم کہا ہے۔ یہ وہ حتمی فیصلے ہیں جو: لوحِ محفوظ میں درج ہیں
اللہ کے ازلی علم پرمبنی ہیں نہ بدلتے ہیں، نہ مٹتے ہیں
جیسے:
کس کی موت کب ہوگی
کس کا خاتمہ ایمان یا کفر پر ہوگا
جنت یا دوزخ کا آخری انجام. قرآن کہتا ہے:
﴿وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتَابِ﴾
(الرعد: 39)
فکری وضاحت:
یہ انجام اللہ کے علم میں طے ہے، بندے کے اختیار میں نہیں. لیکن اس انجام تک پہنچنے کے راستے بندے کے اختیار میں رکھے گئے ہیں۔ تقدیرِ مبرم پر قرآنی دلائل
﴿إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ﴾(القمر: 49)
ہر چیز ایک مقررہ اندازے کے ساتھ پیدا کی گئی ہے۔﴿فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ﴾
(الأعراف: 34) اجل کا وقت حتمی اور اٹل ہے۔یہی انجام کا حتمی فیصلہ۔ تقدیرِ مبرم ہے، 
تقدیرِ معلّق کیا ہے؟
 تقدیرِ معلّق کی سادہ اور مؤثر توضیح. یہ انجام تک پہنچنے کا راستہ ہے: جیسے حیات کیسے گزرے گی موت کن حالات اور کن اسباب سے آئے گی اور جنت یا دوزخ تک پہنچنے کے مراحل کیا ہوں گے یہ سب تقدیرِ معلّق کے دائرے میں آتا ہے۔یہ راستے:دعا سے بدلتے ہیں عمل سے بنتے یا بگڑتے ہیں توبہ سے پلٹ جاتے ہیں غفلت سے بند ہو جاتے ہیں
اسی لیے تقدیرِ معلّق کو مشروط نظام کہا جاتا ہے۔
جامع ایک سطر میں:
اللہ نے انجام کو اپنے علم میں قطعی رکھا؛ اور راستوں کو بندے کے اختیار میں دے کر
عدل، امتحان اور ذمہ داری - تینوں کو قائم رکھا۔ فکری جملہ (یاد رکھنے کے لیے):
تقدیرِ مبرم بتاتی ہے؛. کہاں پہنچنا ہے؛ 
اور تقدیرِ معلّق بتاتی ہے؛ کیسے پہنچنا ہے؛ 
یہی فرق تقدیر کو جبر نہیں،بلکہ عدلِ الٰہی کا حکیمانہ نظام بناتا ہے۔
لہٰذا؛ تقدیرِ معلّق وہ دائرہ جہاں اختیار بولتا ہے
یہاں آ کر تقدیرِ معلّق کا مفہوم پوری طرح واضح ہو جاتا ہے۔ زندگی کے بہت سے معاملات ایسے ہیں جنہیں ہم روزمرہ میں بدلتے دیکھتے ہیں حالات کا سنور جانا یا بگڑ جانا، رزق کی وسعت یا تنگی، بیماری کا آ جانا یا ٹل جانا، اور مصیبت کا ہٹ جانا۔ یہ سب اسی مشروط نظام کا حصہ ہیں۔
قرآن فرماتا ہے ﴿يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ﴾
(الرعد: 39)اور:﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ. يُغَيِّرُوامَابِأَنفُسِهِمْ﴾
(الرعد: 11)﴿مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ أَسَاءَ فَعَلَيْهَا﴾(فصلت. حم سجدہ : 46)
یہ سب آیات واضح کرتی ہیں کہ:
محو و اثبات فرشتوں کے نظام میں ہے
اختیار، دعا اور عمل حقیقی ہیں
انجام اللہ کے علم میں، راستہ بندے کے ہاتھ میں ہے
        فکری خلاصہ
یہ مٹانا اور باقی رکھنا اللہ کے علم میں تبدیلی نہیں، بلکہ فرشتوں کے عملی ریکارڈ میں تبدیلی ہے۔تقدیر کا اصل فہم یہاں سے پیدا ہوتا ہے:
اللہ کے علم میں:
سب کچھ ایک ساتھ واضح ہے _ یہاں کوئی ؛ اگر؛ نہیں
بندے کے لیے. مستقبل پوشیدہ ہے اسی لیے دعا،خوف،امید. اور
اختیار دیا گیا فرشتوں کے نظام میں: مشروط احکام لکھے جاتے ہیں دعا پر مٹتے اور بدلتے ہیں
دعا اور عمل - تقدیر سے ٹکراؤ نہیں
اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ دعا تقدیر کے خلاف ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا ؛لَا يَرُدُّ الْقَضَاءَ إِلَّا الدُّعَاءُ ؛ یعنی دعا تقدیر سے بھاگنا نہیں،(جامع الترمذی؛ الجامع الصحیح ؛کتاب القدر؛ باب ماجاء لا یردالقدر الاالدعاء ؛رقم. 2139.)
 بلکہ تقدیر کے اندر چلنا ہے۔ اللہ ازل سے جانتا ہے کہ: بندہ دعا کرے گا
دعا قبول ہوگی مصیبت ٹل جائے گی
یہ سب اللہ کے علم میں طے شدہ ہیں، مگر بندے کے لیے راستے کے طور پر مشروط رکھے گئے ہیں۔پھر یہاں سوال دوبارہ اٹھتا ہے:
اگر انجام معلوم ہے تو امتحان کیوں؟
قرآن خود جواب دیتا ہے ﴿لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَيَحْيَى مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ﴾(الانفال: 42)
یعنی: ہلاکت بھی دلیل کے ساتھ. نجات بھی دلیل کے ساتھ کیونکہ عدل انجام پر نہیں، راستے پر قائم ہوتا ہے۔
چند سادہ مثال. 
1. تقدیر کے باب میں اصل غلط فہمی یہ بھی ہے کہ پہلے سے معلوم ؛ ہونا ؛ کو عمل کا سبب سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ جیسے ہوائی جہاز اور ریل گاڑی کا ٹائم ٹیبل پہلے سے مقرر ہوتا ہے، مگر گاڑی انجن اور ڈرائیور کے ارادے سے چلتی ہے؛ ٹائم ٹیبل اس حرکت کو پیدا نہیں کرتا بلکہ اسی حرکت کے مطابق بنایا جاتا ہے۔ یعنی شیڈول حرکت کے تابع ہے، حرکت شیڈول کے تابع نہیں۔
2. اسی طرح اگر ہم کسی پرواز کا وقت پہلے سے جان کر ڈائری میں لکھ لیں تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ جہاز ہمارے لکھنے کی وجہ سے اڑا؛ بلکہ جہاز اپنے پروگرام کے مطابق اڑا اور ہمیں اس کا علم پہلے ہوگیا۔ ہمارا علم پرواز کے تابع ہے، پرواز ہمارے علم کے تابع نہیں۔
3.یوں ہی کوئی انجینئر عمارت بنانے سے پہلے زمین اور سامان کی صلاحیت جانچ کر یہ بتا دے کہ یہ عمارت پچاس سال قائم رہے گی، تو عمارت کا قائم رہنا انجینئر کے علم سے نہیں بلکہ اجزاء کی حقیقی صلاحیت سے ہوتا ہے؛ انجینئر کا علم ان صلاحیتوں کے مطابق ہوتا ہے۔
مخلوق کا علم محدود اور اندازوں پر مبنی ہوتا ہے، اس لیے اس میں خطا ممکن ہے؛ مگر اللہ تعالیٰ کا علم قدیم، کامل اور ہر ذرّے کو محیط ہے، اس کے علم کے خلاف کچھ نہیں ہو سکتا۔ مخلوق کے بارے میں اللہ کا پہلے سے جاننا جبر نہیں بلکہ درست علم ہے، اور یہی تقدیر ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿إِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ أَمْرِهِۦۚ قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَىْءٍ قَدْرًا﴾ (الطلاق: 3)
یعنی اللہ اپنا کام پورا کر کے رہتا ہے اور اس نے ہر چیز کے لیے ایک ٹھیک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔
جب انسان کسی نظام کی صلاحیت جان کر پیشگی اندازہ لگا سکتا ہے تو خالقِ کائنات جو اس پورے نظام کا بنانے والا اور چلانے والا ہے - اپنی مخلوق کے حال و مستقبل سے کیسے بےخبرہوسکتاہے؟ وہ علیم و خبیر ہے، اور اس کا علم پوری کائنات کو محیط ہے۔
4. ایسے ہی استاد جانتا ہے کہ یہ (بہت کند ذہن ہے یا بہت سست کاہل اور حد درجہ شرارتی بے محنتی ہے.) طالب علم فیل ہوگا، مگر پھر بھی. پڑھاتا ہے
امتحان لیتا ہے
موقع دیتا ہے
کیوں؟
علم استاد کے لیے ہوتا ہے،
امتحان طالب علم کے لیے۔ (مسئلہ تقدیر اور عوامی مسائل ص 27/28/سے ماخوذ ) 
بالکل یہی نسبت:
اللہ کا علم = حتمی ہے اور. تقدیرِ معلّق = عملی نظام. اللہ انجام جانتا ہے، مگر بندے کو اس انجام تک خود چلنا ہوتا ہے۔ تقدیر محض علم کا نام نہیں، بلکہ اس کے ساتھ ہی عدلِ الٰہی کے ظہور کا نظام ہے۔جیسے. مختصراً (علمِ الٰہی. مشیتِ الٰہی. حکمتِ الٰہی. اختیار دینے میں. راستے دکھانے میں. مہلت دینے میں. دعا و توبہ کا دروازہ کھولنے میں. ظاہر ہوتا ہے۔) 
الغرض : تقدیر کو سمجھنے کا صحیح راستہ یہ ہے کہ اسے جبر یا بے سمتی کا نام نہ دیا جائے، بلکہ اللہ کے علم، حکمت اور عدل کے باہمی ربط کے طور پر دیکھا جائے۔ جب انجام اللہ کے علم میں اور راستے انسان کے اختیار میں ہوں تو زندگی ایک بامقصد امتحان بن جاتی ہے۔
قرآن اعلان کرتا ہے:
﴿وَسَارِعُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ﴾
(آلِ عمران: 133)
    :فکری اشارہ:
مغفرت اور جنت محض طے شدہ انجام نہیں، بلکہ اختیار، دعاء راستے ہیں اور یہی تقدیر کے متوازن تصور کی روح ہے۔
       ( نوٹ ) 
یہ مضمون مختلف مکاتبِ فکر کی معتبر کتبِ عقائد ،بالخصوصی شرحِ عقائد اور متعلقہ فتاویٰ (؛فتاوی 595)/157655دارالعلوم دیوبند ویب سائٹ. 
دارالافتاء فتوی نمبر 144505101150/
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن وغیرھا)
 سے۔استفادہ کرتے ہوئے مرتب کیا گیا ہے. تاہم اگر اس تحریر میں کہیں کوئی لغزش، کوتاہی یا فہم کی کمی ہو تو راقم پر عائد ہوگی
    بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com