*ماہرینِ نفسیات کے مطابق خاموشی کی حکمت*
اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ بولنا ہی اپنی بات منوانے یا اظہارِ خیال کا بہترین ذریعہ ہے، لیکن ماہرینِ نفسیات کے نزدیک بعض مواقع پر خاموشی ہی سب سے بڑی دانش مندی ہوتی ہے۔ ایسے چند مواقع یہ ہیں:
👈🏻1️⃣ جب سامعین متوجہ نہ ہوں
اگر آپ بات کر رہے ہیں اور سامنے والے کا دھیان کہیں اور ہے تو بہتر ہے خاموش ہو جائیں۔ اس سے آپ کا وقار بھی قائم رہتا ہے اور آپ کی بات ضائع بھی نہیں جاتی۔
👈🏻2️⃣ ادھوری معلومات کی صورت میں
کسی بھی موضوع پر مکمل علم نہ ہونے کی حالت میں فیصلہ کن رائے دینے کے بجائے خاموشی اختیار کریں۔ ورنہ غلط ثابت ہونے پر عزت و وقار متاثر ہو سکتا ہے۔
👈🏻3️⃣ کسی کے دکھ سننے کے وقت
جب کوئی آپ سے مدد یا مشورہ چاہتا ہے تو اُس کی بات پوری توجہ سے سنیں۔ چاہے آپ عملی مدد کر سکیں یا نہ کر سکیں، صرف سن لینا بھی اُس کے دکھ کو ہلکا کر دیتا ہے۔
👈🏻4️⃣ جان بوجھ کر بدتمیزی کے مقابلے میں
اگر کوئی شخص دانستہ بدتمیزی کرے تاکہ آپ غصے میں آ جائیں تو اُس کے جال میں مت پھنسیں۔ صبر اور خاموشی آپ کے وقار کو بڑھاتی ہے اور مخالف کے منصوبے ناکام ہو جاتے ہیں۔
👈🏻5️⃣ بحث کے تلخ ہوتے ہی
جب کسی بحث کے دوران تلخی بڑھنے لگے تو بہتر ہے خاموشی اختیار کر لی جائے۔ اس سے نہ صرف ماحول بہتر رہتا ہے بلکہ تعلقات بھی خراب ہونے سے بچتے ہیں۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ بعض اوقات بولنے سے زیادہ طاقتور ہتھیار خاموشی ہے۔ وہ خاموشی جو وقار، حکمت اور صبر کی علامت بن جاتی ہے۔۔
از محمد ساجد قاسمی