بزمِ صحافت طلبۂ علاقۂ میوات مظاہر علوم (وقف)سہارن پور کے ماہ نامہ "التبلیغ" کی روداد
(قسطِ سوم)
درخواست براۓ فریم
٩/محرم الحرام ١٤٤٧ھ۔ بہ مطابق ٥/جولائی ٢٠٢٥ء بہ روز ہفتہ بعدِ نمازِ ظہر مفتی محمد بدران سعیدی کی خدمت میں حاضر ہوا ، برائے فریم درخواست پیش کی ، مفتی محمد بدران سعیدی صاحب نے اس پر لکھا : "مولانا محمد نعیم صاحب جداریہ کے لیے فریم مہیا کرا دیں" میں حضرت مولانا محمد نعیم مظاہری صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے مدرسہ کے نجار کے لۓ لکھ دیا کہ وہ ہمارے لئیے فریم کا انتظام کر دیں، میں نجار کے پاس پہنچا انہوں نے دو دن یعنی پیر تک کا وقت دیا، میں حسبِ وعدہ پیر میں نجار کے پاس پہنچا مگر انہوں نے معذرت کی کہ ابھی فریم تو بن چکا ہے مگر شیشہ کا انتظام نہیں ہو پایا ہے، خیر شیشہ کے انتظار میں کئ دن لگ گئے، یہاں تک کہ ١٤/محرم الحرام ١٤٤٧ھ مطابق 10/جولائی 2025 شمشی بہ روز جمعرات بعدِ نمازِ ظہر انہوں نے فریم بنا کر تیار کر دیا۔
درخواست براۓ جائے جداریہ
پھر میں نے اس فریم کو آویزاں کرنے کے تعلق سے مفتی ناصرالدین مظاہری صاحب کے مشورہ سے ١٦/ محرم الحرام ١٤٤٦ھ مطابق ١٢ جولائی ٢٠٢٥ ء بہ روز ہفتہ بعدِ نمازِ ظہر ناظم صاحب کی خدمت میں درخواست پیش کی کہ جی ہمیں فریم کو کسی نمایاں اور مناسب جگہ آویزاں کرنے کی اجازت دے دی جاۓ، الحمدللّٰه ہماری یہ درخواست بھی ناظم صاحب کی توجہات کے طفیل منظور ہوئی اور یہ اختیار ناظم صاحب کی طرف سے مفتی ناصرالدین مظاہری کو سونپ دیا گیا، چناں چہ اگلے دن ١٧/محرم الحرام بہ روز اتوار کو مفتی ناصرالدین مظاہری اور مفتی محمد راشد مظاہری ندوی کے انتخاب پر اندرونی صدر دروازہ سے متصل سابق صدر المدرسین حضرت مولانا محمد یعقوب نور اللہ مرقدہ کے حجرہ کے بالکل سامنے فریم کو آویزاں کر دیا گیا۔
"سعیدی نمبر" کا اعلان
الحمدللہ ثم الحمدللہ مضامین کے آویزاں کرنے سے پہلے کے تمام مراحل بحسن وخوبی اختتام کو پہنچ گئے اور مضامین لکھوانے کے لئے اعلان کرنے کا مسرت بھرا لمحہ آن پہنچا۔
میں نے مفتی ناصرالدین مظاہری کی خدمت میں عرض کیا "جی ہم سوچ رہے ہیں کہ ہمارے ماہ نامہ کا آغاز سابق ناظمِ اعلی حضرت مولانا محمد سعیدی رحمه اللہ رحمۃ واسعۃ کی حیات و خدمات پر مشتمل "سعیدی نمبر" سے ہو ، اس لیے ہم سب سے پہلے حضرت ناظم صاحب مرحوم سے منسوب سعیدی نمبر نکالنا چاہ رہے ہیں" حضرت مفتی صاحب نے نہ صرف ناچیز کی اس رائے کو قبول فرمایا بل کہ اس کی تحسین بھی فرمائی، چناں چہ ١٩/محرم الحرام ١٤٤٧ھ مطابق ١٥/جولائی ٢٠٢٥ء بہ روز پیر کو "سعیدی نمبر" کے لۓ اعلان چسپاں کر دیا گیا، جس میں چند شرائط کا لحاظ کرنے کے ساتھ طلبۂ علاقۂ میوات کو ٢٥/محرم الحرام ١٤٤٧ھ مطابق 21 جولائی ٢٠٢٥ء بہ روز پیر تک مضامین جمع کرنے کا مکلف بنایا گیا۔
مضامین کی جانچ
٢٥/محرم الحرام بہ روز پیر تک تقریباً ١٢/ طلبہ نے مضامین جمع کر دۓ، پھر ٢٦/ محرم الحرام بہ روز منگل کو میں نے وہ مضامین مفتی ناصرالدین مظاہری صاحب کی خدمت میں پیش کر دۓ ، مفتی صاحب نے ان کی تصحیح فرما کر، اس سے اگلے دن یعنی بہ روز بدھ کو عشاء کے بعد واپس کر دۓ اور کمپوز کرانے کے بعد چسپاں کرنے سے قبل دوبارہ دکھانے کی تاکید کی، ٢٨/محرم الحرام بہ روز جمعرات کو میں نے "سعیدی نمبر" کے لۓ منتخب 7/مضامین کمپیوٹر والے کو دے دۓ ، اس نے اگلے دن جمعہ کی شام میں سادہ کاغذ میں نکال کر دے دئے، تاکہ مزید اغلاط کی تصحیح کی جا سکے ، میں نے ان منتخب 7/مضامین کو دوبارہ جانچا اور اگلے دن یعنی ٣٠/ محرم الحرام بہ روز ہفتہ دوپہر کو کمپیوٹر والے کے پاس خود جا کر ان مضامین کی تصحیح کرائی جس میں اچھا خاصا وقت صرف ہوگیا اور یوں الحمدللّٰه ثم الحمدللّٰه ہمارا پہلا شمارہ اپنے آخری پڑاؤ پر آ پہنچا۔
پھر کمپوز کرانے کے بعد ان مضامین کو دوبارہ مفتی ناصرالدین مظاہری صاحب کو دکھا دکھایا، مفتی صاحب نے کمپوزنگ دیکھ کر خوش ہوۓ اور تحسین فرمائی، اور یوں ان تمام مراحل سے گزر کر ٣٠/ محرم الحرام ١٤٤٧ھ مطابق 26/ جولائی 2025 شمشی بہ روز ہفتہ دیر رات ہم طلبۂ علاقۂ میوات مظاہر علوم وقف سہارنپور کا پہلا اور سالوں بعد مدرسہ کا بھی پہلا دیواری پرچہ صدر دروازہ کی زینت بن گیا اور بحمد اللہ اس طرح گویا ایک دلی حسرت اور قلبی تمنا کی تکمیل ہو گئ۔ الحمدللہ ثم الحمدللہ ❤️
محتاجِ دعا: عبد اللہ یوسف
رجب المرجب ١٤٤٧ھ۔
اوائلِ جنوری ٢٠٢٦ء