قارئین کرام فلسطین صرف ایک خطہ نہیں یہ مظلوموں کا ماتم کدہ ہے اور امت مسلمہ کے مردہ ضمیر کا نوحہ وہاں معصوم بچوں کا خون بہتا ہے مسجد اقصیٰ پر ظلم ڈھایا جاتا ہے اور ہم صرف تماشائی بنے بیٹھے ہیں یہ تحریر ایک پکار ہے فلسطین کے حق میں اور امت کے سوئے ہوئے ضمیر کو جگانے کے لیے۔

خدا کی قسم جب بھی کہیں فلسطین کا تذکرہ ہوتا ہے یا کوئی ویڈیوز سامنے سے گزرتی ہے دل خون کے آنسو روتا ہے پتہ نہیں کیسے ان حکمرانوں کا ضمیر گوارا کرتا ہے آخر کیوں ساتھ کھڑا نہیں ہے؟

فلسطین صرف ایک خطہ زمین نہیں بلکہ یہ درد قربانی جدوجہد اور مظلومیت کی ایک زندہ داستان ہے۔ یہاں کے بچوں کی چیخیں ماؤں کے آنسو شہیدوں کے جنازے اور مسجد اقصیٰ کی فریادیں صدائے حق بن کر فضا میں گونجتی ہیں مگر افسوس امتِ مسلمہ کا ضمیر اب بھی خاموش ہے۔

اقصیٰ کی گنبد پر گری ہر بمباری نہ صرف ایک عمارت کو نشانہ بناتی ہے بلکہ ہماری غیرت ہمارے ایمان اور ہماری وحدت پر بھی وار کرتی ہے۔ وہ قبلۂ اول کی سرزمین جس کی طرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی آج فریادی ہے کہ کہاں ہیں محمدؐ کے امتی؟ کہاں ہے وہ جذبہ جو بدر و احد میں نظر آیا تھا؟

فلسطین مظلوم ہے۔ وہ مظلوم جسے اس کی سرزمین پر بھی جینے کا حق نہیں جس کے گھروں پر بم برستے ہیں جس کے بچے کھلونوں کے بجائے لاشیں گنتے ہیں اور جس کی عورتیں سروں پر کفن باندھ کر سڑکوں پر نکلتی ہیں۔ وہاں اذانوں کو خاموش کیا جا رہا ہے وہاں قرآن کو جلایا جا رہا ہے اور معصوم انسانوں کی سانسیں بند کی جا رہی ہیں پھر بھی عالمی ضمیر خاموش اقوامِ متحدہ اندھی اور مسلمان قیادت بے حس ہے۔

اے امتِ مسلمہ کب تک ہم اس خاموشی کا کفن اوڑھے رہیں گے؟ کب ہم اس جسم میں روح ڈالیں گے جو صرف نام کا وجود بن چکا ہے؟ فلسطین ہمیں پکار رہا ہے ہمارے اتحاد ہمارے کردار اور ہماری غیرت کو جگا رہا ہے۔ یہ وقت محض غمزدہ ہونے کا نہیں بلکہ جاگنے سوچنے اور عمل کرنے کا ہے۔اگر ہم آج نہ جاگے تو کل تاریخ ہم سے سوال کرے گی اور شاید ہم شرمندگی کے سوا کچھ نہ دے سکیں گے۔

امتِ مسلمہ کی خاموشی ایک جرم ہے۔ ہم مظلوموں کے لیے آواز اٹھانے کے بجائے صرف سوشل میڈیا پر پوسٹس دعاؤں اور کانفرنسز تک محدود ہو چکے ہیں۔ ہم نے اپنی عملی قوت کھو دی ہے۔ ہم اپنی روحانی طاقت کو بھلا بیٹھے ہیں۔ ہم صرف اپنی دنیاوی راحت میں کھو چکے ہیں جبکہ فلسطین کی گلیوں میں معصوم بچوں کا خون بہہ رہا ہے۔

آپ سے گزارش ہے کہ اپنے ان مظلوم مسلمان بھائیوں کے لیے زیادہ سے زیادہ دعاؤں کا اہتمام کریں کہ اللہ تعالیٰ اس جنگ میں ان کو فتح سے ہم کنار فرمائے ان کی شہادتوں کو قبول فرماکر ان کو آزادی کی نعمت عطافرمائے۔

سلامتی ہو غزہ کے ہونہارجوانوں پر جنہوں نے اپنے لہو سے اسلام کے شجر کوسینچنے کا عزم کررکھا ہے جنہوں نے اپنے خون کا ایک ایک قطرہ دین حق کی سرخ رُوئی کے لیے نچھاور کردیا ہے اور اسلام کی سربلندی کے لیے اپنی معصوم جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں جن سے مغرب ومشرق کی عداوت صرف اس لیے ہے کہ وہ اے الله! تیرے پاک نام سے نسبت رکھتے ہیں اور پروردگارہلاک وبرباد فرمائے ان شقی قلب قوتوں کو جو بے قصور انسانوں پر ظلم ڈھارہے ہیں یا کسی بھی صورت میں ان ظالموں کے معاون ومددگار ہیں۔

اس ساری صورت حال میں ہم مسلمان قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے یہ ضرور کرسکتے ہیں کہ ملک کی رائے عامہ کو حقیقت پسند بنائیں اور انہیں حقیقی صورت حال کا ادراک کرنے میں مدد کریں اور حقیقت تو یہ ہے کہ حمیت ایمانی وغیرت اسلامی للکار کر ہم سے پوچھ رہی ہے کہ کیا ہم اس کے لیے بھی تیار ہیں کہ ہم اپنے بھائیوں کے ساتھ تعاون کرسکیں۔


اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہمارے فلسطینی بھائیوں کی حفاظت فرمائے انہیں ان کا چھینا ہوا وقار واپس دلائے مسجد اقصیٰ کو یہودیوں کے شکنجہ سے نکلنے کے اسباب پیدا فرمائے مسلم اُمہ اور مسلمان حکمران جو ابھی تک غفلت کی نیند میں سوئے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو بیدار فرمائے اور اپنے مظلوم بھائیوں کے ساتھ بھرپور تعاون کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین ثم آمین یارب العالمین۔