(19)مضمون 

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

(بقلم محمودالباری) 

-----------------------

زندگی جنّت کا پوشیدہ راز ہے

_________________

الحمد للہ الذي جعل الدنيا مزرعةً للآخرة، والصلاة والسلام علی سیدنا محمدٍ المصطفیٰ، الذی بيَّن لنا طريق الجنة، وعلى آلہ وأصحابہ الطاهرين۔

     ؛ محترم و معزز مسلمان بھائیو؛؛ 

زندگی ایک راز ہے، مگر یہ راز ہر شخص پر یکساں ظاہر نہیں ہوتا۔ کوئی دنیا کو کھیل تماشہ سمجھ کر ضائع کر دیتا ہے اور کوئی اسے آخرت کے سفر کی تیاری بنا لیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی جنت یا جہنم کی کھیت ہے، جس میں انسان اپنے اعمال کے بیج بوتا ہے۔ جو نیکی کا بیج بوتا ہے وہ جنت کے پھل کاٹتا ہے، اور جو گناہوں کا بیج بوتا ہے وہ خسارہ ہی پاتا ہے ۔

بیشک انسانی زندگی بظاہر ایک مختصر سا سفر ہے، لیکن حقیقت میں یہ جنت یا جہنم کی تیاری کا میدان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن و حدیث میں بار بار زندگی کو ایک امانت، آزمائش اور موقع قرار دیا گیا ہے۔ جنت، جو کہ اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہے، دراصل اسی زندگی کے راز میں چھپی ہوئی ہے۔

  . زندگی کا اصل مقصدکیا ہے؟ 

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ﴾

(الذاریات: 56)

"میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔"

یعنی عبادت ہی وہ راز ہے جس کے ذریعے زندگی جنت کی طرف لے جاتی ہے۔

. دنیا کی زندگی کا امتحان

﴿الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا﴾

(الملک: 2)

"جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں کون بہترین عمل کرتا ہے۔"

یہ آیت واضح کر رہی ہے کہ زندگی جنت کا راستہ ہے اور عمل اس کا راز ہے۔

. صالحین کے لیے خوشخبری ہے 

﴿إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنَّاتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا﴾

(الکہف: 107)

"یقیناً جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے ان کے لیے جنت الفردوس مہمان خانہ ہے۔"

. زندگی ایک امتحان ہے 

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿إِنَّمَا هَذِهِ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا مَتَاعٌ وَإِنَّ الْآخِرَةَ هِيَ دَارُ الْقَرَارِ﴾ (المؤمن: 39)

"یہ دنیاوی زندگی محض ایک فائدہ ہے، اور آخرت ہی اصل ٹھکانا ہے۔"

یہ آیت بتاتی ہے کہ دنیا کی حقیقت عارضی ہے، اصل راز آخرت میں ہے اور جنت اسی راز کا انعام ہے۔

. عمل کے مطابق بدلہ

﴿فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ ۝ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ﴾ (الزلزال: 7-8)

"جس نے ذرّہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا اور جس نے ذرّہ برابر برائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا۔"

یعنی جنت کا راز چھوٹے چھوٹے اعمال میں چھپا ہے۔

﴿إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوا وَالَّذِينَ هُم مُّحْسِنُونَ﴾ (النحل: 128)

"اللہ اُن لوگوں کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور جو نیکوکار ہیں۔"

یہی لوگ جنت کے وارث ہوں گے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"حُفَّتِ الجنةُ بالمكاره، وحُفَّتِ النارُ بالشهوات"

(بخاری و مسلم)

"جنت کو ناگوار چیزوں (یعنی صبر، مشقت، قربانی) سے گھیر دیا گیا ہے اور جہنم کو خواہشات سے گھیر دیا گیا ہے۔"

یہ بتاتا ہے کہ جنت تک پہنچنے کا راز صبر، ضبط نفس اور مجاہدہ میں ہے۔

. ایک اور حدیث میں ارشاد ہے :

"من كانت الآخرة همَّه، جعل الله غناه في قلبه، وجمع له شمله، وأتته الدنيا وهي راغمة"

(ترمذی)

"جس کی فکر آخرت ہو، اللہ اس کے دل میں غنا ڈال دیتا ہے، اس کے معاملات درست کر دیتا ہے، اور دنیا اس کے پاس جھک کر آتی ہے۔"

یعنی جو دنیا کو آخرت کا زینہ بناتا ہے، اس کے لیے جنت کا راستہ آسان ہو جاتا ہے۔

. نبی ﷺ نے فرمایا:

"ألا إن سلعة الله غالية، ألا إن سلعة الله الجنة"

(ترمذی)

"جان لو کہ اللہ کا سامان قیمتی ہے، اور وہ سامان جنت ہے۔"

پس جنت آسان نہیں بلکہ قیمتی قربانیوں کا تقاضا کرتی ہے۔

. رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"الدنيا سجن المؤمن وجنة الكافر"

(صحیح مسلم)

"دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے اور کافر کے لیے جنت ہے۔"

یعنی مومن صبر و عبادت کے ذریعے دنیا کو آزمائش کا میدان سمجھتا ہے تاکہ جنت کا انعام حاصل کرے۔

. آپ ﷺ نے فرمایا:

"اتق الله حيثما كنت، وأتبع السيئة الحسنة تمحها، وخالق الناس بخلق حسن"

(ترمذی)

"اللہ سے ڈرتے رہو جہاں بھی ہو، برے عمل کے بعد اچھا عمل کرو، وہ اسے مٹا دے گا، اور لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آؤ۔"

یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ زندگی کے چھپے ہوئے راز—تقویٰ، توبہ اور حسنِ اخلاق— جنت کے دروازے کھولتے ہیں۔

. ایک اور مقام پر فرمایا:

"من صام رمضان إيماناً واحتساباً غفر له ما تقدم من ذنبه"

(بخاری و مسلم)

"جس نے رمضان کے روزے ایمان اور احتساب کے ساتھ رکھے اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے گئے۔"

یہ اعمال دراصل وہ دروازے ہیں جن کے پیچھے جنت چھپی ہے۔

حضرت علیؓ کا فرمان ہے:

"الدنيا دار ممر لا دار مقر"

"دنیا گزرگاہ ہے، ٹھکانے کی جگہ نہیں۔"

امام حسن بصریؒ نے فرمایا:

"المؤمن في الدنيا كالغريب لا يفرح بعزها ولا يحزن بذلها"

"مومن دنیا میں اجنبی کی طرح ہوتا ہے، نہ اس کی عزت پر خوش ہوتا ہے نہ ذلت پر غمگین۔"

امام شافعیؒ نے کہا:

"من أراد الآخرة فعليه بصدق النية وصبر على البلاء"

"جو آخرت چاہتا ہے اسے چاہیے کہ نیت میں سچائی اور آزمائش پر صبر اختیار کرے۔"

حضرت عمر بن خطابؓ فرماتے ہیں :

"حاسِبوا أنفسَكم قبل أن تُحاسَبوا، وزِنوا أنفسَكم قبل أن توزَنوا"

"اپنے نفس کا محاسبہ کرو اس سے پہلے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے، اپنے اعمال کو تول لو اس سے پہلے کہ انہیں تولا جائے۔"

حضرت علیؓ فرماتے ہیں :

"إن الدنيا قد ارتحلت مدبرة، وإن الآخرة قد ارتحلت مقبلة، ولكل واحدة منهما بنون، فكونوا من أبناء الآخرة ولا تكونوا من أبناء الدنيا"

"دنیا رخصت ہو رہی ہے اور آخرت آ رہی ہے، دونوں کے بیٹے ہیں، پس تم آخرت کے بیٹے بنو، دنیا کے نہیں۔"

اے اہلِ ایمان والو ! سوچو کہ تمہاری صبح و شام کس کے لئے ہے؟

کیا یہ زندگی صرف کھانے، پینے اور کمانے کے لئے ہے؟

یا یہ زندگی جنت کے لئے محنت کرنے کا راز ہے؟

زندگی کا راز جنت ہے، اور جنت ایمان، تقویٰ، صبر، شکر اور حسنِ اخلاق سے ملتی ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"أقربكم مني مجلساً يوم القيامة أحاسنكم أخلاقاً" (ترمذی)

"قیامت کے دن میرے قریب وہ لوگ ہوں گے جن کے اخلاق سب سے اچھے ہوں گے۔"

اسی طرح فرمایا:

"الراحمون يرحمهم الرحمن، ارحموا من في الأرض يرحمكم من في السماء" (ترمذی)

"رحم کرنے والوں پر رحمٰن رحم کرتا ہے۔ زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔"

زندگی بظاہر دنیاوی خواہشات کا کھیل معلوم ہوتی ہے، مگر حقیقت میں یہ جنت کا چھپا ہوا راز ہے۔ ہر دن، ہر لمحہ، ہر عمل یا تو جنت کا زینہ ہے یا جہنم کا راستہ۔ عقل مند وہی ہے جو دنیا کو عارضی سمجھ کر اپنی زندگی کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت میں گزارے، کیونکہ یہی زندگی جنت کا راز ہے۔

زندگی دراصل جنت کا خفیہ دروازہ ہے۔ اس کا راز ایمان، صبر، شکر، عبادت، خدمتِ خلق اور حسنِ اخلاق میں پوشیدہ ہے۔ یہ دنیا فانی ہے مگر اس کے اندر جنت کا راستہ چھپا ہوا ہے۔ خوش نصیب وہ ہے جو اس راز کو پہچان لے اور اپنی زندگی کو اللہ کی رضا کے مطابق ڈھال لے۔

اللہ رب العزت ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے 

آمین یا رب العالمین

mahmoodulbari342@gmail.com