*✨ قیمتی موتی✨*
*اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے آپ کو نہ بدلیں*

*ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں*

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اللہ کا بندہ بے شمار نعمتوں سے نوازا جاتا ہے، لیکن پھر وہ ان نعمتوں سے اُکتا جاتا ہے اور انہیں بدل کر کسی اور چیز کی خواہش کرنے لگتا ہے، جسے وہ اپنے خیال میں بہتر سمجھتا ہے۔ 🤍
حالانکہ اللہ ﷻ نہایت رحم فرمانے والا ہے، وہ بندے کی نادانی اور غلط انتخاب پر فوراً نعمت نہیں چھینتا، بلکہ اسے مہلت دیتا ہے۔ یہاں تک کہ بندہ خود اس نعمت کو بوجھ سمجھنے لگتا ہے، اس سے بے زار ہو جاتا ہے، شکایتیں کرنے لگتا ہے، اور دل میں ناقدری پیدا ہو جاتی ہے۔ 😔
پھر جب بندہ اس نعمت کو برداشت ہی نہیں کر پاتا اور مسلسل ناراضی ظاہر کرتا ہے، تو اللہ ﷻ وہ نعمت اس سے واپس لے لیتا ہے۔
بعد ازاں جب بندہ اپنی خواہش کے مطابق نئی حالت کو پاتا ہے اور ماضی کی نعمت اور موجودہ حالت کے درمیان واضح فرق دیکھتا ہے، تو وہ غم، پریشانی اور ندامت میں مبتلا ہو جاتا ہے، اور دوبارہ اسی پرانی نعمت کی تمنا کرنے لگتا ہے۔ 💔
اگر اللہ ﷻ اپنے بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرمائے، تو وہ اسے یہ شعور عطا کر دیتا ہے کہ جو نعمتیں اس کے پاس ہیں وہ سب اللہ کی طرف سے ہیں، اور یہ اس بات کی علامت ہیں کہ اللہ اس سے راضی ہے۔ تب بندہ اللہ کی حمد و ثنا کرتا ہے، شکر ادا کرتا ہے، اور دل کا سکون پاتا ہے۔ 🌸
اور اگر نفس اسے دوبارہ نعمت بدلنے پر اکسانے لگے، تو وہ اللہ سے ہدایت مانگتا ہے اور اس کے فیصلے پر راضی رہتا ہے۔ 🤲

اللہ کے بندے کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ چیز یہ ہے کہ وہ اللہ کی نعمتوں سے اُکتا جائے۔ 😞
کیونکہ ایسا شخص نہ ان نعمتوں کو نعمت سمجھتا ہے،
نہ ان پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہے،
نہ ان سے خوش ہوتا ہے،
بلکہ وہ ان پر شکایت کرتا ہے اور انہیں اپنی پریشانی کا سبب سمجھنے لگتا ہے۔
وہ یہ نہیں جانتا کہ یہی چیزیں اللہ کی عظیم ترین نعمتوں میں سے ہیں۔
اکثر لوگ اللہ کی نعمتوں کے ساتھ دشمنی پر اتر آتے ہیں۔ 😢
نہ وہ نعمتوں کو پہچانتے ہیں،
نہ ان کی قدر کرتے ہیں،
بلکہ اپنی جہالت اور ظلم کی وجہ سے انہیں خود ہی دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
کتنی ہی بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک نعمت کسی انسان کو دی جاتی ہے،
اور وہ پوری کوشش کر رہا ہوتا ہے کہ وہ نعمت اس سے چھن جائے!
اور کتنی ہی بار ایسا ہوتا ہے کہ نعمت اس کے پاس آ جاتی ہے
جبکہ وہ خود اسے دھکیل رہا ہوتا ہے
صرف اپنی نادانی اور ناانصافی کی وجہ سے۔ ⚠️
*📖 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:*
ذَٰلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ لَمْ يَكُ مُغَيِّرًا نِّعْمَةً أَنْعَمَهَا عَلَىٰ قَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ
“یہ اس لیے ہے کہ اللہ کسی قوم پر کی گئی نعمت کو نہیں بدلتا
جب تک وہ خود اپنے دلوں اور اپنے حال کو نہ بدل لیں۔”
📖 (الأنفال: 53)
اور ایک اور جگہ فرمایا:
*إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ*
“یقیناً اللہ کسی قوم کی اچھی حالت کو نہیں بدلتا
جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدل دیں

📖 (الرعد: 11)

(نافرمانی، ناشکری اور گناہوں کے ذریعے)۔”

❗ اس سے بڑھ کر بدبختی کیا ہوگی
کہ بندہ اپنی ہی نعمتوں کا دشمن بن جائے؟
ایسا بندہ دراصل اپنے دشمن کی مدد کر رہا ہوتا ہے، اپنے ہی خلاف۔
اس کا دشمن نعمتوں میں آگ لگاتا ہے 🔥
اور بندہ نادانی میں اس آگ کو اور بھڑکاتا رہتا ہے۔
وہ دشمن کو آگ جلانے کا موقع دیتا ہے
اور پھر خود ہی اس آگ کو ہوا دیتا ہے
یہاں تک کہ وہ آگ بہت شدید ہو جاتی ہے۔
آخر میں وہ اسی آگ سے بچنے کے لیے فریاد کرتا ہے
اور اپنی بدحالی کا الزام تقدیر پر ڈال دیتا ہے۔ 😔
*🌿 سبق:*
نعمتوں کی قدر، شکر، اور رضا
یہی نعمتوں کے دوام اور دل کے سکون کا راز ہے۔گناہ بھی نعمتیں زائل کرتے ہیں ،گناہوں سے بچنا بھی نعمتوں کی حفاظت کا ذریعہ ہے
اللہ ہمیں شکر گزار بندوں میں شامل فرمائے۔ آمین 🤲✨

*📘 الفوائد، ام القریٰ، ص 300-301*