محبت کیا ہے ؟
11 جنوری، 2026
محبت کیا ہے؟
میری عمر عنقریب تئیس برس ہونے کو ہے۔ سنِ بلوغ سے گزر کر اب میں سنِ شعور تک پہنچ چکا ہوں۔ زندگی کے گزشتہ برسوں میں جن مشکلات، پریشانیوں اور آزمائشوں کا سامنا ہوا، ان سب پر غور کرنے کے بعد ایک حقیقت پوری وضاحت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ انسان کو اپنی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ کسی عارضی لذت یا وقتی کشش پر نہیں، بلکہ ایک اعلیٰ اور دائمی مقصد پر صرف کرنا چاہیے۔
اور وہ مقصد اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا ہے۔ کیونکہ یہی وہ محبت ہے جو انسان کو سنوارتی ہے، اس کے کردار کو بلند کرتی ہے، اور اسے دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی کی راہ دکھاتی ہے۔ دراصل یہی محبت باقی تمام محبتوں کی بنیاد اور میزان ہے۔
لیکن انسان ہونے کے ناطے دل میں جذبات کا اُبھار آنا فطری بات ہے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی لڑکی کی ایک جھلک، ایک گفتگو یا ایک سادگی دل کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ دل پر ایک کیفیت طاری ہو جاتی ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ بس یہی سب کچھ ہے۔ بظاہر یہ محبت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت سے مختلف دکھائی دیتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اگر یہی محبت حدودِ شریعت میں رہے تو یہ بھی اللہ تک پہنچنے کا ایک راستہ بن سکتی ہے۔
کیونکہ جو محبت انسان کو گناہ سے بچائے، نگاہوں کی حفاظت سکھائے، اخلاق سنوارے، صبر عطا کرے اور نکاح جیسے پاکیزہ رشتے کی طرف لے جائے، وہ محبت دراصل اللہ کی رضا ہی کی طرف قدم بڑھاتی ہے۔ ایسی محبت انسان کو بے راہ نہیں کرتی، بلکہ اسے ذمہ دار بناتی ہے، اس کے کردار کو نکھارتی ہے اور اسے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے قریب کر دیتی ہے۔
اسی لیے محبت کا اصل امتحان یہ نہیں کہ دل کس پر آ گیا، بلکہ یہ ہے کہ دل میں آنے والی محبت ہمیں کس سمت لے جا رہی ہے۔ اگر وہ محبت شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے عزت، ادب اور خیرخواہی کو فروغ دے تو وہ محبت بگاڑ نہیں بلکہ اصلاح کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
اس کے بعد یہی لازم ہے کہ شریعتِ مطہرہ کے احکام کو ہر حال میں مقدم رکھا جائے، عزتِ نفس کا تحفظ کیا جائے، اخلاق اور شائستگی کو ہاتھ سے نہ جانے دیا جائے، اور ایک دوسرے کے لیے آسانی اور سکون کا سبب بنا جائے، نہ کہ پریشانی اور زحمت کا۔
اور جب اللہ کسی کو ازدواجی زندگی کی نعمت عطا فرما دے تو پھر یہ بات ہمیشہ پیشِ نظر رہے کہ جس طرح عبادت میں ہمارا قبلہ ایک ہوتا ہے، اسی طرح ازدواجی زندگی میں بھی ہمارا قبلہ ایک ہی ہو—یعنی اللہ کی رضا۔
آخر میں یہ حقیقت کبھی اوجھل نہیں ہونی چاہیے کہ یہ دنیا فانی ہے۔ مال، دولت، شہرت، رتبہ، حتیٰ کہ اولاد بھی ساتھ نہیں جائے گی۔ باقی رہنے والی صرف نیت، عمل اور وہ محبت ہے جو اللہ کے لیے ہو۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسی محبت عطا فرمائے جو ہمیں اس کے قریب کر دے، نہ کہ اس سے دور۔ آمین۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
از: محمد فداء المصطفیٰ قادری
پی جی اسٹوڈنٹ: دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی، کیرلا