*کسی لڑکی کو اسکی مرضی کے بغیر کسی کے نکاح میں دینا سنگین جرم ہے*
کسی لڑکی کو اُس کی مرضی کے بغیر کسی شخص کے نکاح میں دینا ایک ناقابلِ برداشت، سنگین اور کھلا ہوا جرم ہے،یہ جرم صرف ایک فرد کے خلاف نہیں ہوتا، بلکہ یہ عورت کے وقار، اس کے حقِ انتخاب اور اسلام کے عادلانہ نظام پر براہِ راست حملہ ہوتا ہے،افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ اس ظلم کو اکثر غیرت، خاندان کی عزت، روایت، مجبوری یا سماجی دباؤ کے نام پر چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے، حالانکہ اسلام ان تمام بہانوں کو صاف طور پر رد کرتا ہے
جب ایک لڑکی کو یہ حق ہی نہ دیا جائے کہ وہ اپنی زندگی کے سب سے اہم فیصلے میں ہاں یا نہیں کہہ سکے، تو یہ صرف اس کی آزادی نہیں چھینی جاتی بلکہ اس کا اعتماد، سکون، خواب اور شخصیت سب کچل دیے جاتے ہیں، ایسا نکاح عبادت نہیں رہتا، بلکہ ایک لمبی، خاموش اور اذیت ناک قید بن جاتا ہے، جہاں مسکراہٹیں مجبوری اور رشتے بوجھ بن جاتے ہیں۔یہاں سوال یہ ہے کہ کیا غیرت بیٹی کے آنسوؤں سے ثابت ہوتی ہے؟
کیا خاندان کی عزت کسی مجبور دل کی چیخوں سے محفوظ رہتی ہے؟کیا کوئی روایت اتنی مقدس ہو سکتی ہے کہ وہ اللہ اور رسول ﷺ کے واضح حکم کے مقابل کھڑی ہو جائے؟
اگر ایسا ہے تو وہ غیرت نہیں، ظلم ہے،وہ روایت نہیں، جاہلیت ہے،اسلام نے نکاح کو کوئی خاندانی سودا یا سماجی رسم نہیں بنایا، بلکہ اسے ایک واضح معاہدہ قرار دیا ہے، اور ہر معاہدے کی بنیاد رضامندی ہوتی ہے،نبی کریم ﷺ کا فرمان بالکل دو ٹوک ہے کہ *کنواری لڑکی سے اس کی اجازت کے بغیر نکاح نہ کیا جائے* ایک موقع پر جب ایک لڑکی نے یہ شکایت پیش کی کہ اس کا نکاح زبردستی کر دیا گیا ہے تو رسولِ اکرم ﷺ نے اس نکاح کو جبر کے طور پر تسلیم نہیں کیا بلکہ اس لڑکی کو پورا اختیار دیا کہ چاہے تو نکاح باقی رکھے اور چاہے تو ختم کر دے، یہ واقعہ اس بات پر مہر ہے کہ اسلام میں عورت نکاح کا فریق ہے، مال یا خاموش مہرہ نہیں۔
اسلام عورت کی خاموشی کو رضا نہیں مانتا اور اس کی مجبوری کو اجازت نہیں کہتا، جو لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ عورت کو بس مان لینا چاہیے، وہ نہ اسلام کو سمجھتے ہیں اور نہ رسولِ رحمت ﷺ کی تعلیمات کو، اسلام نے عورت کو فیصلہ کرنے، سوال اٹھانے اور انکار کرنے کا حق دیا ہے، اور یہی اس کی عزت اور عظمت کی بنیاد ہے،زبردستی کے نکاح صرف ایک لڑکی کو نہیں توڑتے، یہ پورے معاشرے کو بیمار کر دیتے ہیں، ایسے گھروں میں محبت نہیں، خوف پلتا ہے، اعتماد نہیں، بدگمانی جنم لیتی ہے، اور پھر یہی معاشرہ حیران ہو کر پوچھتا ہے کہ اخلاق کیوں بگڑ گئے، حقیقت یہ ہے کہ اخلاق نہیں بگڑتے، انصاف مارا جاتا ہے۔
سب سے زیادہ خطرناک وہ لوگ ہیں جو اپنے ظلم پر دین کی مہر لگانے کی کوشش کرتے ہیں، وہ قرآن کو اپنی مرضی کے مطابق موڑتے ہیں، حدیث کو نظر انداز کرتے ہیں اور اسلام کو اپنی انا کا محافظ بنا لیتے ہیں، حالانکہ اسلام نہ ان کا ساتھی ہے اور نہ ان کا جواز، اسلام ایسے لوگوں کے خلاف گواہ بن کر کھڑا ہوگا۔
ایک کڑوی مگر سچی بات یہ ہے کہ جو باپ، ولی یا خاندان کسی لڑکی کو اس کی مرضی کے بغیر بیاہ دیتا ہے، وہ صرف غلطی نہیں کرتا بلکہ اللہ کی امانت میں کھلی خیانت کرتا ہے، اور امانت میں خیانت دین کی نظر میں ایک سنگین جرم ہے، چاہے وہ گھر کے اندر ہی کیوں نہ ہو آخر میں بات بالکل صاف ہے،جہاں جبر ہو، وہاں نکاح نہیں،جہاں مرضی نہ ہو، وہاں اسلام نہیں۔
*حدود اس وقت پامال ہو جاتی ہیں* یہاں مسئلہ صرف نکاح کا نہیں،
یہ ایمان، امانت اور غیرتِ دینی کا مسئلہ ہےاور اسی لیے اس پر خاموشی بھی جرم بن جاتی ہے،
ذرا سوچیے وہ باپ جو خود کو باپ کہلوانے کا حق رکھتا ہو،جس کے ہاتھ میں ایک بیٹی کی زندگی، اس کا دین اور اس کا مستقبل امانت ہو، اگر وہی باپ اپنی سنی، صحیح العقیدہ بیٹی کا نکاح ایسے شخص یا ایسے عقیدے کے ساتھ جو عقائد میں درست ہی نہیں،صرف دنیاوی فائدے، خاندانی دباؤ یا سماجی مصلحت کے تحت کرنا چاہے،تو یہ محض کمزوری نہیں رہتی یہ نااہلی، دینی غفلت اور کھلی بےغیرتی بن جاتی ہے،یہاں سوال صرف پسند اور ناپسند کا نہیں،
یہ سوال ہے کہ کیا ایک باپ کو یہ حق ہے کہ وہ اپنی بیٹی کے ایمان کو داؤ پر لگا دے؟کیا وہ رشتہ، جو دین کو کمزور کرے،صرف اس لیے قبول کر لیا جائے کہ لوگ کیا کہیں گے؟
اسلام میں باپ مالک نہیں بلکہ امین ہے،اور امین کا کام یہ نہیں ہوتا کہ وہ امانت کو خطرے میں ڈال دے،جس بیٹی کو اس نے کلمۂ حق پر پروان چڑھایا،جسے صحیح عقیدہ سکھایا،اگر وہی باپ اس کے لیے ایسا ہم سفر چن لےجس کا عقیدہ ہی اس راستے سے ہٹا ہوا ہو،تو وہ اپنی بیٹی کے مستقبل سے نہیں،اس کے دین سے کھیل رہا ہوتا ہے۔
یہ کیسی غیرت ہےجو مال، برادری یا رسم و رواج پر تو جاگ جاتی ہے مگر بیٹی کے ایمان پر سوئی رہتی ہے؟یہ کیسا باپ ہے جو دنیا کی مصلحت کے لیےآخرت کی جواب دہی کو بھول جاتا ہے؟اسلام نے واضح کر دیا کہ نکاح صرف جسموں کا نہیں،
نظریات، عقائد اور راستوں کا رشتہ ہوتا ہے،جہاں عقیدہ کمزور یا فاسد ہو،وہاں سکون بھی مشکوک اور نسل بھی خطرے میں پڑ جاتی ہے،ایسے میں اگر کوئی باپ اپنی سنی، صحیح العقیدہ بیٹی کو غلط عقیدے کے ساتھ باندھنے پر تُلا ہو، تو وہ نہ بیٹی کا خیر خواہ ہے،نہ دین کا محافظ،اور نہ ہی اپنی ذمہ داری کو پہچاننے والا،یہ تمہید اس تلخ حقیقت کی طرف دروازہ کھولتی ہے کہ زبردستی کا نکاح اگر ایک جرم ہے،تو غلط عقیدے کے ساتھ زبردستی کا نکاح ایمان پر حملہ ہے،اور اسلام ایسے ہر حملے کے خلاف صاف، واضح اور بےلچک مؤقف رکھتا ہے،اے ظالم باپ اور گھر کے تمام ذمہ دارو یاد رکھو، بیٹی صرف تمہارے گھر کی فرد نہیں بلکہ اللہ کی امانت ہے،اگر تمہاری ضد، لالچ یا غلط فیصلے کی وجہ سے اس کا ایمان متزلزل ہوا،تو یہ صرف ایک گھریلو غلطی نہیں ہوگی بلکہ دین کے ساتھ کھلا کھلواڑ ہوگا،اور سن لو جس دن اللہ کی بارگاہ میں حساب کھڑا ہوا،اس دن نہ رشتہ کام آئے گا، نہ روایت، نہ کوئی عذر وہاں تمہاری حجتیں نہیں، ذمہ داریاں بولیں گی
اور اس امانت میں خیانت کی قیمت
تمہیں پوری طرح چکانی پڑے گی۔
*ایک عرض جو بھائی سنی صحیح العقیدہ ہوں اور نکاح کرنا چاہتے ہوں وہ رابطہ کر سکتے ہیں*
اللہ کریم ہر مسلم شہزادی کے لیے نکاح کے بہتر اسباب مہیا فرمائے اور ہر لڑکی کے عزت و وقار کی حفاظت فرمائے آمیـــــــــــــــــن یــــا رب الــــــــعـــــــالــــــمـــــیــن بجاہ النبی الکریم ﷺ۔

                   *✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*