*••تعلیم، تعصب اور تخریب: ایک فکری المیہ••*
*Education, Prejudice, and Destruction: An Intellectual Tragedy*
●🕯️༻حِکمتِ༺﷽༻نوری༺🕯️●

تعلیم، تعصب اور تخریب
ایک فکری المیہ

✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄

اسلام میں علم کو صرف ذاتی نفع یا سماجی برتری کا ذریعہ نہیں بلکہ امانت قرار دیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں ہے: اللّٰہ تم میں سے ایمان والوں اور اہلِ علم کے درجے بلند کرتا ہے (المجادلہ: 11)۔ یہ بلندی کسی نسب، قوم یا شناخت کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایمان اور علم پر ہے۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: "حکمت مومن کی گمشدہ متاع ہے، جہاں سے ملے لے لے"۔ اس حدیث میں علم کو کسی مخصوص طبقے یا مذہب سے مشروط نہیں کیا گیا۔ یہ اصول اس بات کی واضح نفی کرتا ہے کہ تعلیم یا تعلیمی ادارے کسی ایک شناخت کی ملکیت ہو سکتے ہیں۔

اسلام نے جس لمحے دنیا میں قدم رکھا، اسی لمحے علم کو انسان کی پہچان، اس کی عزّت اور اس کی ذمّہ داری قرار دے دیا۔ وحی کا پہلا لفظ اقرأ تھا، اور یہی لفظ آج بھی انسانیت سے یہ سوال کرتا ہے کہ تم نے پڑھنے، سمجھنے اور انصاف کرنے کا حق کہاں کھو دیا؟ علم اسلام میں محض ترقی کا ذریعہ نہیں بلکہ عدل، امانت اور خیرِ عام کی بنیاد ہے۔ اسی لیے رسولِ اکرمﷺ نے علم کو ہر انسان کے لیے لازم قرار دیا۔ کسی خاص نسل، قوم یا مذہبی شناخت کے ساتھ مشروط نہیں کیا۔

مگر تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ جب بھی علم طاقت بننے لگتا ہے، تو تعصب اس کے راستے میں دیوار بن کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ جب میرٹ بولنے لگتا ہے، تو نفرت شور مچانے لگتی ہے۔ اور جب کمزور طبقات اپنی محنت کے بل پر آگے بڑھنے لگتے ہیں، تو طاقتور مفادات کو اپنے زوال کا خوف ستانے لگتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تعلیم کو بھی سیاست، مذہبی تعصب اور گروہی انا کی نذر کر دیا جاتا ہے۔ اسلامی نقطۂ نظر سے یہ طرزِ عمل محض ناانصافی نہیں بلکہ فساد فی الارض کے زمرے میں آتا ہے، کیونکہ علم کے راستے بند کرنا دراصل انسانوں کے مستقبل کو تاریک کرنا ہے۔ قرآن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ "کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں؟"۔ مگر افسوس کہ آج سوال یہ نہیں رہا کہ کون جاننے والا ہے، بلکہ یہ بن گیا ہے کہ کون جاننے کا حق دار ہے؟

تعلیم کے نام پر پھیلائے گئے جھوٹے بیانیے، اور میرٹ کے خلاف کھڑی نفرت انگیز مہمات کو ایک فکری آئینہ دکھایا جائے۔ یہ تحریر کسی ایک طبقے کے دفاع کی نہیں، بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی ایک کوشش ہے تاکہ ہم یہ سمجھ سکیں کہ اگر تعلیم ہار گئی تو کوئی فاتح نہیں بچے گا، اور اگر تعصب جیت گیا تو انسانیت ہار جائے گا۔ اسی فکری پس منظر کے ساتھ اب ہم اس المیے کا جائزہ لیتے ہیں جس کا نام ہے: "تعلیم، تعصب اور تخریب: ایک فکری المیہ"

یہ بات اب محض ایک تاثر نہیں رہی بلکہ ایک باقاعدہ پروپیگنڈا کی شکل اختیار کر چکی ہے کہ مسلمان تعلیمی میدان میں بہت پیچھے ہیں۔ یہ جملہ اس قدر تکرار سے دہرایا گیا ہے کہ بعض اوقات خود مسلمان بھی احساسِ کمتری میں مبتلا ہونے لگتے ہیں۔ مگر جب یہی مسلمان طلبہ اپنی محنت، قابلیت اور میرٹ کی بنیاد پر پچاس میں سے بیالیس نشستیں حاصل کر لیتے ہیں، تو اچانک یہ حقیقت کچھ حلقوں کو ناقابلِ برداشت محسوس ہونے لگتی ہے۔ تب علم و قابلیت کا جشن منانے کے بجائے، سڑکوں پر احتجاج، عدالتوں میں مقدمات، اور انتظامی دباؤ کا طوفان برپا کر دیا جاتا ہے۔ کسی تعلیمی ادارے کی اجازت ردّ کروانے کی کوشش کی جاتی ہے، اور اگر یہ سازش کامیاب ہو جائے تو کالج کی بندش پر مٹھائیاں تقسیم کر کے اپنی نفرت زدہ اور تعصب آلود ذہنیت کا برہنہ اظہار کیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر یہ کس قسم کی قوم پرستی ہے جو علم کے چراغ بجھنے پر خوشی مناتی ہے؟

یہ بحث دراصل تعصب کے اس باطنی ڈھانچے کو بے نقاب کرتا ہے جو بظاہر نظریات اور نعروں کی صورت میں سامنے آتا ہے، مگر اپنی جڑ میں خوف، عدمِ تحفّظ اور اقتدار کے زوال کا اندیشہ رکھتا ہے۔ تعلیم کے خلاف نفرت اور تعصب اچانک پیدا نہیں ہو جاتے، بلکہ یہ ایک منظم نفسیاتی عمل کا نتیجہ ہوتے ہیں جو عموماً تین باہم مربوط اسباب سے جنم لیتا ہے۔

سب سے پہلا سبب "خوفِ مقابلہ" ہے۔ جب معاشرے کے وہ طبقات جو طویل عرصے تک محروم رکھے گئے ہوں، تعلیم، محنت اور میرٹ کے ذریعے آگے بڑھنے لگتے ہیں تو وہ طبقات جو خود کو فطری طور پر بالادست سمجھتے آئے ہیں، اپنے اقتدار اور سماجی غلبے کو خطرے میں محسوس کرنے لگتے ہیں۔ یہ خوف اس لیے نہیں ہوتا کہ وسائل کم ہو جائیں گے، بلکہ اس لیے ہوتا ہے کہ میرٹ ان کی اس اجارہ داری کو توڑ دیتا ہے جو نسل، شناخت یا طاقت کے بل پر قائم کی گئی ہوتی ہے۔ یوں تعلیم ترقی کا ذریعہ بننے کے بجائے ان کے نزدیک ایک خطرہ بن جاتی ہے۔

اسی خوف سے "شناخت کی سیاست" جنم لیتی ہے۔ تعلیمی کامیابی کو محض علمی یا فکری پیش رفت کے طور پر قبول کرنے کے بجائے اسے قومی یا مذہبی شناخت کے خلاف ایک منظم سازش بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اس عمل کا مقصد دلیل دینا نہیں بلکہ جذبات کو بھڑکانا ہوتا ہے، تاکہ عوام اصل سوال "قابلیت اور میرٹ" پر غور کرنے کے بجائے خوف اور نفرت کے بیانیے میں الجھ جائیں۔ یوں تعلیمی میدان کو نظریاتی جنگ کا اکھاڑا بنا دیا جاتا ہے، جہاں کامیابی جرم اور قابلیت الزام بن جاتی ہے۔

اس پوری فضا کو تقویت دینے والا تیسرا اور سب سے خطرناک عنصر "ذہنی غلامی" ہے۔ جب کوئی سماج دلیل کے بجائے نعرے، تحقیق کے بجائے افواہ، اور شعور کے بجائے جذبات سے فیصلے کرنے لگے تو وہاں علم اپنی قدر کھو دیتا ہے۔ ایسے معاشرے میں سوال کرنے والا مشکوک، پڑھنے والا خطرناک اور آگے بڑھنے والا دشمن تصور کیا جانے لگتا ہے۔ یہ ذہنی جمود دراصل اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ سماج نے سوچنے کی آزادی کو خود اپنے ہاتھوں سے قربان کر دیا ہے۔

اسلام ان تمام رویّوں کو مجموعی طور پر "جہالتِ جاہلیہ" قرار دیتا ہے، کیونکہ یہ وہ طرزِ فکر ہے جو حق کو طاقت کے بجائے طاقت کو حق سمجھتی ہے، اور علم کے بجائے تعصب کو معیار بناتی ہے۔ اسلام کا پیغام اس کے بالکل برعکس ہے: خوف کے بجائے انصاف، شناخت کے بجائے انسانیت، اور نعرے کے بجائے علم۔ یہی وہ فکری بنیاد ہے جو تعصب کی نفسیات کو سمجھنے اور اس کا مؤثر توڑ کرنے کا راستہ دکھاتی ہے۔

تاریخ شاہد ہے کہ اندلس میں مسلم زوال کا آغاز کتب خانوں کے جلائے جانے سے ہوا۔ یورپ نے جب کلیسا کی علمی اجارہ داری توڑی تو نشاۃِ ثانیہ (Renaissance) ممکن ہوئی۔ برصغیر میں استعماری دور میں سب سے پہلے مقامی تعلیمی نظام کو کمزور کیا گیا۔ یہ سب اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ
تعلیم پر حملہ دراصل قوم کی ریڑھ کی ہڈی توڑنے کے مترادف ہوتا ہے۔

تعلیم کسی ایک قوم، ایک مذہب یا ایک طبقے کی میراث نہیں ہوتی۔ تعلیمی ادارے بند کرنا دراصل ملک کے مستقبل کے دروازے بند کرنے کے مترادف ہے۔ جو قومیں اپنی نئی نسل کو آگے بڑھنے سے روکتی ہیں، وہ تاریخ میں کبھی سرخرو نہیں ہوتیں۔ تعصب کی بنیاد پر کسی ادارے کو نشانہ بنانا دراصل اس خوف کی علامت ہے کہ کہیں میرٹ، محنت اور قابلیت نفرت کے بنائے ہوئے مصنوعی بتوں کو پاش پاش نہ کر دیں۔ یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ تعصب کی بنیاد پر مزید اور کتنے تعلیمی اداروں کو بند کرو گے؟ کیا ہر وہ ادارہ جو مساوی مواقع فراہم کرے، تمہاری آنکھوں میں کھٹکے گا؟ کیا ہر وہ طالب علم جو میرٹ پر کامیاب ہو، تمہارے لیے خطرہ بن جائے گا؟ ایسے تخریبی اقدامات سے نہ کسی مذہب کا فائدہ ہوتا ہے، نہ کسی نظریے کا۔ اس کا واحد نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معاشرہ فکری پسماندگی، معاشی کمزوری اور سماجی انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔ ملک کی ترقی کا راستہ نفرت، حسد اور تعصب سے نہیں بلکہ علم، انصاف اور مساوات سے ہو کر گزرتا ہے۔

اسلامی تعلیمات کے ساتھ ساتھ ہندوستان کا آئین بھی مذہب، ذات یا شناخت کی بنیاد پر تعلیمی امتیاز کی اجازت نہیں دیتا۔ تعلیم تک رسائی ایک بنیادی انسانی حق ہے، نہ کہ کسی اکثریت کی عطاء۔ کسی ادارے کو صرف اس لیے نشانہ بنانا کہ وہاں ایک مخصوص طبقہ میرٹ پر کامیاب ہو رہا ہے، نہ صرف اخلاقی جرم ہے بلکہ آئینی اور عوامی اقدار کی صریح خلاف ورزی بھی ہے۔

آج ملک کو جس تیزی سے تباہی کے دہانے پر پہنچایا جا رہا ہے، اس کی ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ تعلیم کو بھی سیاست اور تعصب کی نذر کر دیا گیا ہے۔ اگر یہی روش جاری رہی تو کل تاریخ ہم سے یہ سوال کرے گی کہ جب قوموں کو علم کی ضرورت تھی، تب تم نے نفرت کیوں بوئی؟ جب مستقبل تعمیر ہو سکتا تھا، تب تم نے اسے کیوں مسمار کیا؟ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اس فکری اندھیرے سے باہر نکلیں، تعلیم کو اس کا جائز مقام دیں، اور یہ تسلیم کریں کہ میرٹ کسی ایک طبقے کا دشمن نہیں بلکہ پورے ملک کا سرمایہ ہوتا ہے۔ بصورتِ دیگر، تعصب کی یہ آگ صرف دوسروں کو نہیں، آخرکار خود ہمیں بھی جلا کر راکھ کر دے گی۔

یہ سوال ہر صاحبِ ضمیر انسان کے سامنے کھڑا ہے کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں؟ کیا ہم اس معاشرے کی تعمیر کر رہے ہیں جس کی بنیاد علم، عدل اور احترامِ انسانیت پر ہو، یا ہم تعصب، نفرت اور اندھی مخالفت کے بل پر اپنے ہی مستقبل کو کھوکھلا کر رہے ہیں؟ دینِ اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ علم کو روکنا نہیں، پھیلانا فرض ہے؛ قابلیت کو دبانا نہیں، ابھارنا ذمّہ داری ہے اور انسان کو اس کی شناخت کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس کی انسانیت کی بنیاد پر پرکھنا عین تقویٰ ہے۔ قرآن ہمیں صاف لفظوں میں متنبہ کرتا ہے کہ ظلم صرف تلوار سے نہیں ہوتا، کبھی کبھی یہ قلم توڑنے، مدرسہ بند کرنے اور طالب علم کے خواب چھین لینے سے بھی ہو جاتا ہے۔ جو لوگ علم کے مراکز کو نشانہ بناتے ہیں، وہ دراصل آنے والی نسلوں کے حق پر ڈاکہ ڈالتے ہیں۔ اور یہ جرم کسی ایک قوم یا طبقے کے خلاف نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے خلاف ہوتا ہے۔

تعلیمی ادارے وہ مشترکہ اثاثہ ہیں جہاں سے قوموں کی فکری آبیاری ہوتی ہے۔ یہاں نفرت کا بیج بویا جائے تو سماج میں زہر پھیلتا ہے، اور اگر انصاف، مساوات اور احترام کا سبق دیا جائے تو امن، ترقی اور ہم آہنگی جنم لیتی ہے۔ جو سماج اپنے ہی بچّوں کے درمیان دیواریں کھڑی کرے، وہ کبھی مضبوط قوم نہیں بن سکتا۔ یہ وقت الزام تراشی کا نہیں، خود احتسابی کا ہے۔ یہ سوچنے کا ہے کہ کہیں ہم اپنے تعصبات کی تسکین کے لیے خدا کے عطاء کردہ علم کے دروازے تو بند نہیں کر رہے؟ کہیں ہم اپنے خوف کی وجہ سے اپنے ہی ملک کے مستقبل کو تو یرغمال نہیں بنا رہے؟ یاد رکھیے، تاریخ نہ نعروں سے لکھی جاتی ہے، نہ احتجاجی مٹھائیوں سے، بلکہ وہ قوموں کے رویّوں، فیصلوں اور ترجیحات کا فیصلہ کرتی ہے۔

یہ معاملہ صرف مسلمانوں، یا کسی ایک تعلیمی ادارے کا نہیں۔ یہ سوال دراصل یہ ہے کہ کیا ہم ایک علم دوست قوم بننا چاہتے ہیں یا ایک خوف زدہ ہجوم؟ اسلام ہمیں یہ نہیں سکھاتا کہ جو آگے بڑھ جائے اسے روکا جائے
بلکہ یہ سکھاتا ہے کہ جو پیچھے رہ گیا ہو، اسے اٹھایا جائے۔ اگر ہم نے تعلیم کو تعصب کی بھینٹ چڑھنے دیا تو ہم صرف ادارے نہیں بند کریں گے، بلکہ اپنے بچّوں کے خواب، اپنی قوم کا مستقبل، اور اپنی اخلاقی ساکھ بھی دفن کر دیں گے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم علم کو سیاست سے آزاد کریں، تعلیم کو نفرت سے بچائیں، اور میرٹ کو اس کا جائز مقام دیں۔ یہی دینی تقاضا ہے، یہی انسانی فریضہ، اور یہی قومی مفاد بھی۔ اگر ہم نے آج عقل و انصاف کا دامن تھام لیا تو کل ہمارے بچّے ہمیں دعائیں دیں گے، اور اگر ہم نے تعصب کو راستہ دیا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ اللّٰہ ہمیں یہ توفیق دے کہ ہم علم کے محافظ بنیں، نہ کہ اس کے دشمن؛ انسان کے خیر خواہ بنیں، نہ کہ اس کے خوابوں کے قاتل؛ اور ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں تعلیم چراغ بن کر جلتی رہے؛ کسی ایک کے لیے نہیں، سب کے لیے۔

🗓 (11.01.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com
○○○○○○○○○