*تجھ سے مل کر ہمیں رونا تھا* 
مختلف فارغین کی دستار و مالا دیکھ کرآج پھر سے۲۰۲۰
کی یاد تازہ ہوگئی،جہاں طلبہ اپنےمشفق ومربی اساتذہ،اورمصاحب کی دیرینہ رفاقت کی الوداعی گھڑی کے درد سموئے ہوے،آخری درس میں زانوۓ تلمذ تھے،دل بےقابو ساتھا،بخاری شریف اول کا آخری مرحلہ قریب ہی تھاکہ استاذ محترم حضرت مفتی سعید صاحب پالنپوری رحمۃ اللہ علیہ کی زبان سےنکلنےوالے جملےکی اثرانگیز نےایک الگ ہی سما باندھ دیاتھا،پوری دارالحدیث آہیں،اورہچکیوں سے گونجنےلگی،جیسےکہ عاشقوں کی اپنےمعشوق سےدائمی مفارقت ہورہی ہو،ہرکوئی گردن جھکائے،اپنی ابواب ماضی کی صفحات پرآبدیدہ و آبشارتھا،فکرمسقبل کی حساسیت عیاں تھیں،ایک طرف غموں کایہ ہجوم تھا،تودوسری والدین،برادران اور اقرباء کی دیرینہ خواہش کی تکمیل بھی تھی،بس زبان حال یوں گویا تھاکہ
                    
                  تجھ سے مل کر ہمیں رونا تھا بہت رونا تھا
                      تنگیٔ وقت ملاقات نے رونے نہ دیا

آج بھی وہ تمام مناظرنقش کالحجر ہیں،بہرکیف موجودہ رفقاءکی اس صورت حال پراساتذہ،فضلاءقدیم اوراہل مدارس شاکی ومغموم ہیں،اللھم احفظنا،فقط۔شہبازشرفی قاسمی خادم التدریس جامعہ عربیہ اشاعت العلوم کانپور