: عنوان ارریہ: علم و ادب کی زرخیز زمین
تحریر: محمد مسعود رحمانی
ریاست بہار کے شمال مشرقی سرحد پر واقع ضلع ارریہ محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں، بلکہ یہ تہذیب، ادب اور گنگا جمنی تہذیب کا ایک روشن مینار ہے۔ ہمالیہ کے دامن میں بسا یہ ضلع اپنی ہریالی، میٹھی بولی اور مخلص لوگوں کی وجہ سے اپنی ایک الگ پہچان رکھتا ہے۔
تاریخی و ادبی پس منظر
ارریہ کی زمین ہمیشہ سے علم و ادب کی آبیاری کرتی رہی ہے۔ اس مٹی نے بڑے بڑے دانشوروں اور ادیبوں کو جنم دیا ہے۔ ہندی ادب کے عظیم مایہ ناز قلمکار فینیشور ناتھ رینو کا تعلق اسی ضلع کے گاؤں 'اوراہی ہنگنا' سے تھا۔ ان کی تحریروں میں جو دیہاتی زندگی کی خوشبو ملتی ہے، وہ دراصل اراریہ کی ہی مٹی کی خوشبو ہے۔ اردو ادب میں بھی یہاں کے شعراء اور مضمون نگاروں نے ہمیشہ اپنا لوہا منوایا ہے۔
تہذیب اور معاشرت
ارریہ کی سب سے بڑی خوبی یہاں کا آپسی بھائی چارہ ہے۔ یہاں کی فضاؤں میں اذان کی آوازیں اور مندروں کی گھنٹیاں ایک ساتھ سنائی دیتی ہیں۔ عید ہو یا دیوالی، یہاں کے لوگ خوشیوں کو بانٹنا جانتے ہیں۔ یہاں کی معیشت کا زیادہ تر دارومدار زراعت پر ہے، جہاں کسان اپنی محنت سے کھیتوں میں سونا اگاتے ہیں۔ کوسی اور پنار جیسی ندیوں نے اس زمین کو سیراب کیا ہے، حالانکہ سیلاب کی شکل میں یہ ندیاں کبھی کبھی آزمائش بھی بنتی ہیں۔
تعلیمی اور سماجی صورتحال
وقت کے ساتھ ساتھ ارریہ تعلیمی میدان میں بھی تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ اگرچہ یہاں کے نوجوانوں کو روزگار اور اعلیٰ تعلیم کے لیے ہجرت کرنی پڑتی ہے، لیکن یہاں کے ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ یہاں کی نوجوان نسل اپنے قلم کو طاقت بنائے اور معاشرے میں پھیلی برائیوں کے خلاف آواز بلند کرے۔
قلم کی ذمہ داری
بطور ایک مضمون نگار، جب میں ارریہ کی سڑکوں پر چلتا ہوں، تو مجھے ہر چہرے میں ایک نئی کہانی نظر آتی ہے۔ میرا قلم صرف کاغذ پر سیاہی نہیں بکھیرتا، بلکہ یہ اس مٹی کے دکھ، سکھ اور امیدوں کا ترجمان ہے۔ آج کے اس ڈیجیٹل دور میں بھی ہاتھ سے قلم پکڑ کر لکھنا ایک الگ ہی سکون دیتا ہے، کیونکہ قلم سے نکلے ہوئے الفاظ براہِ راست دل پر دستک دیتے ہیں۔
حاصلِ کلام
ارریہ میری پہچان ہے اور میری مٹی میرا مان ہے۔ اس ضلع کی تعمیر و ترقی میں ہم سب کا حصہ ہونا چاہیے۔ ہم اپنی تحریروں کے ذریعے یہاں کے مسائل کو اجاگر کر سکتے ہیں اور دنیا کو یہ بتا سکتے ہیں کہ بہار کا یہ سرحدی ضلع امن، محبت اور ادب کا گہوارہ ہے۔