*تعدد ازواج کا مسئلہ اور مستشرقین کے اعتراضات*
اسلام کے کسی بھی حکم کو اگر اس کے پس منظر، انسانی فطرت اور معاشرتی حقیقتوں سے الگ کر کے دیکھا جائے تو وہ حکم بوجھ محسوس ہونے لگتا ہے، تعددِ ازواج بھی ایسا ہی ایک مسئلہ ہے جس پر اعتراض تو بہت کیا گیا، مگر یہ سوال کم ہی اٹھایا گیا کہ اسلام نے آخر اس اصول کی اجازت کیوں دی؟اسلام خیالی دنیا کے لیے نہیں آیا، بلکہ ایک ایسی دنیا کے لیے آیا ہے جہاں انسان کمزور ہے، حالات بدلتے ہیں، اور ہر مسئلہ پہلے سے دکھائی نہیں دیتا،اصل بات یہ ہے کہ اسلام نے تعددِ ازواج کو خواہش کا دروازہ نہیں، بلکہ مسئلے کا حل بنا کر پیش کیا ہے۔اب وہ وجوہات جن کی بنا پر اسلام نے تعدد ازواج کا اصول بنایا مسئلہ شادی کے بعد سامنے آنے والی حقیقتیں،نکاح سے پہلے انسان بہت سی چیزوں سے ناواقف ہوتا ہے:
*کسی کے بانجھ ہونے کا یقین پہلے نہیں ہوتا،کسی عورت کے قابلِ استقراء حمل نہ ہونے کا علم پہلے نہیں ہوتا،کسی دائمی، قدرتی یا جسمانی بیماری کا انکشاف اکثر شادی کے بعد ہوتا ہے*
اب قارئین کرام ذرا ایک حقیقی صورتِ حال پر غور کیجیے گا،ایک مرد نے ایک عورت سے نکاح کیا
کچھ عرصے بعد معلوم ہوا کہ بیوی بانجھ ہے یاقابل استقراء حمل نہیں یاکسی ایسی قدرتی بیماری میں مبتلا ہے جس میں مکمل ازدواجی زندگی گزارنا ممکن نہیں
*اب سوال یہ ہے شوہر کیا کرے؟*
اس لیے کہ شادی کرنے کا مقصد فقط نفس کی تسکین نہیں بلکہ نسل کو بڑھانا بھی ہے اور اصل مقصد یہی ہے،لیکن وہ عورت اس قابل ہے ہی نہیں،تو اب *دو صورتیں ہوں گی یا تو وہ کسی اور سے غلط ریلیشن کرکے اسکو حمل کے استقراء کا مقام بنائے گا،یا وہ دائمی طور پر اولاد سے محروم ہو جائے گا*
اب اسکا پہلا ممکنہ راستہ یہ ہے کہ وہ اپنی پہلی بیوی کو طلاق دے اور پھر دوسری لڑکی سے شادی کرے تاکہ تعدد ازواج سے انسان محفوظ رہ سکے جیسے کہ مستشرقین کہتے ہیں۔
*اب سوال مستشرقین سے یہ ہے اسکی لڑکی کا کیا قصور ہے، یہ لڑکی جس نے چند سال ایک شوہر کے ساتھ گزارے لیکن اب شوہر نے اسے بے سہارا چھوڑ دیا اور ظاہر بات ہے کہ اس بانجھ لڑکی سے کوئی شادی بھی نہیں کر سکتا،اب وہ پوری زندگی ایسے ہی بے سہارا رہے بے یارو مددگار رہے،اور اب اس صورت میں اس کے نان و نفقہ کا ذمے دار کون ہوگا؟*اے مستشرقین یہ آسان حل لگتا ہے تمہیں، مگر اس کے نتائج پر غور کیجیے:عورت کا کوئی قصور نہیں،بیماری یا بانجھ پن اس کے اختیار میں نہیں، مگر اس کے باوجود وہ مطلقہ قرار پائے،
اب سوال یہ ہے اے مستشرقین،اس مطلقہ عورت سے کون شادی کرے گا؟معاشرہ اسے کس نگاہ سے دیکھے گا؟کیا اس کی پوری زندگی ایک قدرتی کمزوری کی سزا بن جائے؟
یہ حل نہیں، ایک بے گناہ عورت کو قربانی بکرہ بنانا ہے۔
*دوسرا راستہ شوہر خواہش کو دبائے اور زندگی گزار دے اور اولاد والے تصور کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دفن کر دے*یہ راستہ مرد کی فطرت سے ٹکراتا ہےذہنی گھٹن اور نفسیاتی بگاڑ پیدا کرتا ہے،رفتہ رفتہ گھر میں تلخی اور نفرت جنم لیتی ہے، اکثر یہی دباؤ،خفیہ تعلقات،حرام راستوں،یا ازدواجی بے وفائی پر منتج ہوتا ہے،یہ راستہ نہ مرد کو بچاتا ہے، نہ عورت کو بلکہ یہ اور عورت کے وقار کو مرد کی نگاہ میں گرا دیتا ہے۔*تیسرا راستہ حرام تعلق اختیار کرے*یہ وہ راستہ ہے جسے اسلام کسی صورت قبول نہیں کرتا، زنا، محبوبہ کا کلچر،خفیہ تعلقات اس میں عورت غیر محفوظ، بچے بے نسب،خاندان برباد،یہ سراسر فساد ہے، حل نہیں۔
اگر اسلام کے قانون کو چھوڑ کر مستشرقین کی بات پر عمل کریں، اور کہیں تعدد ازواج صحیح نہیں پھر ان تمام وجوہات کا حل کچھ نہیں ہوگا بجائے سدھار کے اور بگاڑ پیدا ہو جائے گا جو آج بھی مغربی دنیا میں پایا جا رہا ہے،کہ اب لڑکوں کو شادی کی ضرورت نہیں بس وہ کام چلاتے ہیں اور وہاں لڑکیاں روزانہ نیا لڑکا تلاش کرکے اپنی عزتوں کو پامال کر رہی ہوتی ہیں،اور پھر پوری زندگی جاب،فحاشی کے اڈے اور سنما ہال میں جا کر اپنی جنسی تسکین کی راہ ہموار کرکے پھر عزت نفس کا کھلونا بناکر آ جاتی ہیں، اور یہ سلسلہ بھی صرف انکی جوانی تک رہتا ہے جیسے ہی انکی عمر پینتیس سال سے تجاوز کرتی ہے پھر کوئی انکو نہیں پوچھتا بلکہ وہ اب لڑکے لیے بھی ترستی ہیں *اے مغربی دنیا کے کالے پیلے لوگوں تم تو تم تمہارے باپ دادا بھی اسلام کی طرح قانون نہیں بنا سکتے*
اب آئیے گا ذرا اللہ کا معزز دین اسلام کو پڑھتے ہیں اور دیکھتے آخر کیا تعدد ازواج ایسے ہی جب چاہیں مرد شادی کریں اور چند بیویاں اپنے نکاح میں رکھ لیں،یا کچھ شرائط و ضوابط بھی ہیں اس کے لیے،اور اسلام نے کون سا راستہ دیا؟
*اسلام نے چوتھا راستہ دیا جس کو ہم اعتدال کہتے ہیں*تعددِ ازواج (ایک سے زیادہ بیویاں رکھنا)پہلی بیوی کو طلاق نہیں،اسے بے دخل نہیں،بلکہ اس کے حقوق محفوظ رہے،اور دوسری شادی نکاح کے ذریعے مکمل ذمہ داری نفقہ، رہائش اور عدل کی سخت شرط کے ساتھ، یہ اصول مرد کی فطرت کا انکار نہیں کرتا،عورت کی توہین بھی نہیں کرتا، اور معاشرے کو زنا سے بچاتا ہے،یہی وہ مقام ہے جہاں اسلام کی حکمت واضح ہوتی ہے۔اور انسانیت کی تمام حدود سے کہیں بڑھ کر اسلام نے تعدد کا قانون رکھا ہے اور صاف اعلان کر دیا تم چند بیویاں ایسے نہیں رکھ سکتے کہ بیوی صحیح
ہو،بغیر کسی وجہ کہ اسے طلاق دے دو، یا تم انکے درمیان میں عدل نہ کرو تو تمہیں ایک بھی بیوی کرنے اجازت نہیں، اسلام کا قانون جو چند بیویاں کرے گا ان کے حقوق کو اچھی طرح ادا کرے گا، اسکو آسان لفظوں میں یوں سمجھو جتنا ٹائم پہلی بیوی کو دے گا اتنا ٹائم دوسری بیوی کو دے گا،جو اسے کھانے کو دے گا وہ دوسری کو دے گا جتنا پیار اس سے کرے گا اتنا پیار دوسری سے بھی کرے گا،جس معیار کپڑا اس کو بنائے گا اسی معیار کا کپڑا اسکو بھی بنائے گا، حد یہ ہے دونوں کے درمیان میں اگر عدل کرے گا تب دو رکھنے کی اجازت ہے ہر اعتبار سے عدل اگر عدل نہیں کر سکتا پھر ایک رکھنے کی اجازت ہے،اگر اس کے ساتھ بھی عدل نہیں کر سکتا تو ایک بھی رکھنے کی اجازت نہیں یہ ہےاسلام کا قانون،وہ ظالم لوگ جو ہر وقت عورت پر ظلم کرتے رہے ہیں اور آج بھی کر رہے
ہیں،وہ عورت کے حقوق کی بات کرتے ہیں۔
*اب مستشرقین کے اعتراضات اور انکے جوابات*
اب پہلا اعتراض سامنے آتا ہے*اعتراض تعددِ ازواج(ایک زیادہ عورت نکاح میں رکھنا)عورت پر ظلم ہے*کہا جاتا ہے کہ ایک مرد کا ایک سے زیادہ عورتوں سے نکاح عورت کی عزتِ نفس کو مجروح کرتا ہے، اسے ذہنی اذیت دیتا ہے اور اسے کمتر بنا دیتا ہے۔یہ اعتراض اس مفروضے پر کھڑا ہے کہ عورت کی عزت صرف اسی صورت میں محفوظ ہے کہ شوہر دوسری شادی نہ کرے چاہے اس کے نتیجے میں،پہلی عورت طلاق پا جائے،یا مرد حرام راستہ اختیار کرے، یا معاشرہ اخلاقی بگاڑ کا شکار ہو جائے،یہ سوچ نہ تو منتج ہے،اور ضروریات عورت کا قاتل ہے۔
*اس اعتراض کا جواب*
اسلام نے تعددِ ازواج کو نہ فرض بنایا،نہ عام حکم، بلکہ مشروط اجازت دی: *﴿فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً﴾*(اگر عدل نہ کر سکو تو ایک ہی پر اکتفا کرو) اگر یہ عورت پر ظلم ہوتا تو *عدل شرط نہ بنایا جاتا،نفقہ اور رہائش لازم نہ کی جاتی،چار کی حد مقرر نہ ہوتی* اسلام عورت کو خفیہ تعلق کی ذلت سے نکالتا ہے، وقتی محبوبہ بننے سے بچاتا ہے، *اگر تعددِ ازواج نہ ہو تو لازمی خرابیاں* اگر اسلام یہ اجازت نہ دیتا تو بانجھ یا بیمار عورت طلاق پا کر تنہا رہ جاتی،مطلقہ خواتین کی تعداد بڑھتی،ناجائز تعلقات عام ہوتے،عورت سب سے زیادہ متاثر ہوتی، یہ حقیقت ہے کہ اسلام نے عورت کو نکال کر نہیں پھینکا،بلکہ اسے باقی رکھتے ہوئے مسئلہ حل کیا،اور تعدد نکاح کی اجازت دے کر اسلام نے عورت کی عزت میں چار چاند لگا دئے ہیں لیکن عقل کے اندھے کہاں اس حکمت کو سمجھ سکتے ہیں۔*مستشرقین سے براہِ راست سوال*
اے مستشرقین اگر تم اسلامی حل کو ظلم کہتے ہو تو بتاؤ،بانجھ عورت کا کیا حل ہے؟مطلقہ عورت سے کون شادی کرے گا؟مرد کی فطرت کو کہاں لے جاؤ گے؟زنا کے علاوہ تمہارے پاس کیا متبادل ہے؟اگر تمہارے پاس نہ عورت کے لیے تحفظ ہے،نہ خاندان کے لیے نظام،نہ معاشرے کے لیے اخلاق،تو پھر اعتراض کا اخلاقی حق بھی نہیں۔
اس تمام گفتگو کا حل ایک خوبصورت انداز میں اسلام نے بیان کر دیا ہے،ورنہ تاریخ کے اوراق شاہد ہیں جو بربریت عورت کے ساتھ ان نفس پرستوں نے کی ہے اسکو بیان کرتے ہوئے روح کانپ جاتی ہے،
اور حالت چیخ چیخ کر اپنے جنازہ ہونے کی متمنی ہوتی ہے،جب تاریخ کو اٹھا کر دیکھا جائے تو تعدد ازواج کے منکر خود ہی اس چیز کے قائل ہو گئے ہیں کہ تعدد ازواج کا اسلام نے ایک ایسا منظم اصول عطا کیا ہے جس نے عورت کو وقار دیا ہے،کیونکہ بہت سارے مراحل ایسے بھی آتے ہیں کہ مردوں کی کمی ہو جاتی ہے،جب جنگ کا سسٹم ہوتا ہے تب عورتیں گھروں میں محفوظ اور مرد اسکی نظر ہو کر اس عالم فانی الودع کہ کر دار البقاء تشریف لے جاتے ہیں، اب کیا کہیں گے ان عورتوں کے بارے میں جو چند دن ہی سہاگ میں رہی تھی اسکا شوہر اللہ کو پیارا ہو گیا،اب مستشرقین کے نظریہ فکر سے تو بات یہ سمجھ میں آتی ہے کہ اس کی اب کوئی وقعت نہیں، کوئی وقار نہیں کوئی عزت نہیں، اور تاریخ ہند بتاتی ہے کہ جس کا شوہر مر جایا کرتا تھا پوری زندگی اس پر لعنت کی جاتی تھی اب مستشرقین کیا کہیں ان تمام تواریخ کے حقیقی اوراق کے بارے میں انکی آنکھیں شرم سے جھک جاتی ہیں جب انکی تاریخ کے پننے انہیں سنائیں جاتے ہیں، جس قوم نے قبل اسلام عورتوں کو خادمہ کا لقب دے کر اسے کچرے کی طرح استعمال کیا ہو وہ آج عورت کے حقوق کی بات کرتے ہیں، تو کان کھول کر سنو اسلام کی شہزادیوں کو کسی اور اصول کی ضروت نہیں اسلام مکمل طور پر انہیں ہر وہ حق دے چکا ہے جس کی وہ حقدار ہیں، تم اور تمہاری تفکیر بھاڑ میں جائے۔اسلام مثالی دنیا کے لیے نہیں، بلکہ حقیقی دنیا کے لیے آیا ہے،تعددِ ازواج، خواہش نہیں حکمت ہے،ظلم نہیں تحفظ ہے، یہ اصول اس لیے دیا گیا،تاکہ عورت سزا نہ پائے،مرد گناہ نہ کرے،اور معاشرہ بکھرنے سے بچ جائے،یہی اسلام کا عدل ہے۔
*جتنے حقوق اسلام کی شہزادیوں کو چاہیے تھے اسلام دے چکا ہے اب مزید اسکو نہیں چاہیے*۔
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*