آج دل کی آواز 
                ( قسط دوم )    
                                ابنِ وکیل

سردی کے دنوں میں سے ایک دن کے صبح کا ابتدائی پہر تھا ، ہوا تازگی کے ساتھ گلے مل رہی تھی ، راستہ بالکل سنسان یکتا کسی راہی کو تک رہا تھا ، آسمان شبنم کے موتی راہوں میں بچھا رہا تھا اور خلیل پیڑ کے سائے تلے بیٹھ کہ رہا تھا! کاش میں مٹی ہوتا !!! دل نے بہت ہی درد بھرے لہجے میں کہا کیا ہوا خلیل تم اتنے پریشان کیوں ہو ؟ دیکھو لوگ دار طیف میں کیسے مگن ہیں مریخ کے گرد چکر لگا رہے ہیں تمھیں کس چیز نے پریشان کر دیا ہے ؟ 
خلیل کی دھڑکن بہت تیز ہوںٔی اور آنکھ نے کچھ بوند آنسو کے دامن کو دے دیے پھر زبان نے کہا واہ !!! تم بھی دنیا کی چال پر مگن ہو اب تم پر بھی حق آشکار نہیں ہوتا ۔
دل نے سہمے ہوۓ کہا کیا کہا؟ میں سمجھا نہیں !! بتاؤ خلیل ۔۔۔۔
کیا بتاؤں اب کچھ ہے بھی جو بتاؤں میں، خیر! سنو میں نے دیکھا کہ کوںٔی صاحب کہ رہے تھے جہنم کے شرارے اُونچے اُونچے محلوں کی برابر اُڑیں گے، گویا زَرد اُونٹوں کی قطار، کہ پیہم آتے رہیں گے اور اس کا ایندھن انسان و اینٹ پتھر ہونگے ۔
خلیل تم کیوں پریشان ہوتے ہو تم تو عالم ہو علم والے ہو ؟ 
آہ تم نے طنز کی تیر اخلاص کی شہد میں ڈبو کر گلاب کے ساتھ کمان سے ماری ہے میں اہل علم کو قریب سے دیکھ آیا ہوں ، خدا خدا یہ کہ رہا تھا کہ خلیل کو ہچکی آںٔی ، دل نے کہا خلیل کیا ہوا تم اتنے پریشان کیوں ہو رہے ہو ،۔۔
نہیں نہیں!!!!!!!!!
نہیں جہنم کی آگ قریب معلوم ہوتی ہے ، میں اہل علم کے درمیان ٹہل کر آگیا ہوں اے دل ! 
میں نے پایا کہ علم کا کنواں خشک ہوگیا ہے ، ان کے اقتدار کا سورج غروب ہوگیا ہے ، سخاوت کی ندیاں سوکھ گںٔی ہیں ، تہذیب وتمدن ، اخلاق و اخلاص ان سے چھن گیا ہے ، آپس میں لڑتے ہوۓ ملے ، ان کی زبانیں کچھ بھی کہتی ہیں ، اتحادی زبان و قلم و صحیفہ خشک ہوگیے ہیں! 
کیا کہ رہے ہو خلیل زرا بتاؤ تو علم کی کیا پہچان ہے 
لمبی سانس لیکر بولا سنو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ علم کے چار درجے ہیں۔
1-انسان جب پہلے درجے میں ہوتا ہے تو سمجھتا ہیں کہ میں لوگوں میں سے سب زیادہ علم والا ہوں۔
2-جب دوسرے درجے میں داخل ہوتا ہے تو سمجھتا ہے کہ اس سے بہت سا علم رہ گیا ہے 
3-جب تیسرے درجے میں داخل ہوتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ اس نے جتنا حاصل کیا ہے اس سے کئی زیادہ باقی ہے۔
4-جب چوتھے درجے داخل ہوتا ہے تو اسے یہ لگتا ہے کہ اس نے تو کچھ حاصل ہی نہیں کیا۔ بلکہ وہ جاہل ہے ۔
تو تم نے کس درجہ کے لوگوں کو زیادہ پایا اے خلیل؟ 
پہلے مرحلے کی تعداد دنیا میں زیادہ ہے اے دل ! کاش کہ لوگ سمجھتے کو علم کے ساتھ کبر ایسے آتا ہے جیسے گوشت کے ساتھ چربی ، لہذا چربی پگھلانے کی طرح اپنے کبر کو مٹانا چاہیے ، اپنی فکر کو اعتدال کے کٹہرے میں قید رکھنا چاہیے ، پہلے خود کو محبت کا جام بنانا چاہیے پھر محبت کی شربت میں فکر کے لیمو کو نچوڑنا چاہیے ، اور ہر کام میں اعتدال و استقامت کے ساتھ عمل پیراں ہونا چاہیے ۔۔

اب سورج کی کرنیں خلیل کو پریشان کر رہی تھیں دل نے کہا چلو خلیل اللہ سے دعا کرو سب ٹھیک ہوگا انشاء اللہ ۔
یہ کہتے ہوۓ دونوں شبنم کو اپنے پیروں سے چنتے ہوۓ چلے گیے ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔