*مشائخ کی رحلت اور ہماری ذمہ داریاں*
*پیر عبدالرحیم نقشبندی سے مولانا فضل الرحیم اشرفی تک*

✍️....*متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ*

اللہ تعالیٰ اہل حق علماء کرام کا سایہ ہمارے اوپر تادیر قائم رکھیں۔ گزشتہ کچھ دنوں میں مشاہیر علماء اور مشائخ کرام رحمہم اللہ کی مسلسل اموات نے امت مسلمہ کو صدمے سے دوچار کر کے رکھ دیا ہے۔حضرت مولانا پیر عبدالرحیم نقشبندی (خانقاہ حبیبیہ و دارالعلوم حنفیہ، چکوال)، حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی (معھد الفقیر ،جھنگ)، حضرت حضرت مفتی مختار الدین (جامعہ زکریا دارالایمان، کربوغہ شریف)حضرت مولانا مفتی محمد شریف عابر (جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام ،جہلم) اور حضرت مولانا فضل الرحیم اشرفی(جامعہ اشرفیہ، لاہور)شامل ہیں۔ 

*حضرت مولانا پیر عبدالرحیم نقشبندی رحمہ اللہ* اپنے والد گرامی مرشد عالم حضرت مولانا پیر غلام حبیب رحمہ اللہ کی چلتی پھرتی تصویر تھے ۔ آپ کا شمار اُن اکابر اہلِ دل میں ہوتا ہے جنہوں نے شریعتِ مطہرہ اور طریقتِ نقشبندیہ کو جمع کر کے اصلاحِ امت کا فریضہ انجام دیا۔ آپ سلسلہ نقشبندیہ کے جلیل القدر بزرگ اور صاحبِ نسبت شیخ تھے، جن کا اثر صرف چکوال ہی نہیں بلکہ اطراف و نواح میں بھی نمایاں رہا۔آپ کی پوری زندگی اتباعِ سنت، ذکرِ الٰہی، تزکیۂ نفس اور اصلاحِ باطن کے لیے وقف رہی۔ سلسلۂ نقشبندیہ کے مزاج کے مطابق خاموش ذکر، باطنی مجاہدہ، اخلاص، تواضع اور تقویٰ کی عملی تعلیم دیتے تھے۔ آپ کی مجالس میں سادگی، وقار اور روحانی تاثیر نمایاں ہوتی تھی، جس سے عام آدمی اور خواص یکساں طور پر فیض یاب ہوتے۔آپ نے دینی ماحول کو رواج دیا، مدارس ، مکاتب ، خانقاہی نظام کو مضبوط کیا ، بدعات سے اجتناب، دین میں اعتدال، اور قرآن و سنت کی روشنی میں زندگی گزارنے کی تلقین آپ کے وعظ و نصیحت کا خاص حصہ تھی۔ آپ کے اخلاق، حلم اور دردِ دل نے بے شمار لوگوں کو راہِ راست پر لانے میں کردار ادا کیا۔آپ کا فیض آج بھی آپ کے متوسلین اور نسبت رکھنے والوں کے ذریعے جاری ہے، اور تاریخ میں آپ کا نام احترام و عقیدت سے لیا جاتا رہے گا ۔13 دسمبر 2025ء بروز ہفتہ آپ کی وفات ہوئی۔ 

*حضرت پیر حافظ ذوالفقار احمدنقشبندی رحمہ اللہ* کی ولادت1اپریل 1953ء کو صوبہ پنجاب کے شہر جھنگ کے کھرل خاندان میں ہوئی۔ آپ نے ابتدائی تعلیم عصری اداروں سے حاصل کی اور 1972ء میں بی ایس سی الیکٹریکل انجینئر کی ڈگری لے کر عملی میدان میں قدم رکھا، جہاں اپرنٹس الیکٹریکل انجینئر سے لے کر چیف الیکٹریکل انجینئر تک کے مراحل طے کیے، اسی دوران جسمانی و ذہنی صلاحیتوں کے اظہار کے طور پر جمناسٹک، فٹ بال اور سوئمنگ میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ مگر اسی مادی مصروف زندگی کے ساتھ ساتھ قلبی اضطراب اور روحانی تشنگی بھی بڑھتی چلی گئی، جس نے آپ کو دین کی طرف متوجہ کیا؛ ابتدائی دینی کتب کا مطالعہ کیا، قرآن کریم حفظ کیا اور بالآخر لاہور یونیورسٹی کے زمانۂ تعلیم میں آپ نے ایک اللہ والے سے تعلق قائم کیا، جن سے آپ نے مکتوباتِ امام ربانی باقاعدہ سبقاً سبقاً پڑھیں۔ ان کے وصال کے بعد 1980ء میں مرشد عالم حضرت خواجہ غلام حبیب نقشبندی مجددی رحمہ اللہ کے دامنِ ارادت سے وابستہ ہوئے اور 1983ء میں خلافت سے سرفراز کیے گئے، اسی عرصے میں جامعہ رحمانیہ جہانیاں منڈی اور جامعہ قاسم العلوم ملتان سے دورۂ حدیث کی اعزازی اسناد بھی حاصل کیں۔ مرشد کی وفات کے بعد آپ نے خود کو پوری طرح دین کے کاموں کے لیے وقف کر دیا؛ جھنگ میں مستقل قیام اختیار کیا، معھد الفقیر الاسلامی کی بنیاد رکھی، درجنوں دینی اداروں کی سرپرستی کی، پچاس سے زائد ممالک کے اصلاحی و تبلیغی اسفار کیے، ہر سال رمضان المبارک کے آخری عشرے میں زمبیا میں اعتکاف فرمایا اور حج کے ایام میں حرمین شریفین میں روحانی مجالس کے ذریعے عالمِ اسلام کو ذکرِ الٰہی، تزکیۂ نفس، صفائیِ قلب اور تعمیرِ سیرت کا پیغام دیا، یوں ایک کامیاب مادی زندگی سے نکل کر پوری امت کے لیے روحانی راہبر اور مشعلِ ہدایت بن کر سامنے آئے۔ میرے ادارے مرکز اھل السنت والجماعت خانقاہ حنفیہ میں دوبار تشریف لائے ۔ 14 دسمبر 2025ء بروز اتوار وفات پائی۔ 

*حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ صاحب علیہ الرحمہ* عصرِ حاضر کی ایک جلیل القدر، صاحبِ نسبت اور ہمہ جہت دینی و اصلاحی شخصیت تھے۔ آپ کی ولادت 2 جنوری 1952ء کو ضلع ہنگو کے معروف روحانی مرکز کربوغہ شریف میں ایک معزز دینی و صوفی خاندان میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم اپنے علاقے سے حاصل کرنے کے بعد 1965ء میں حالات کے جبر کے تحت قطر کا سفر کیا، جہاں محنت و مشقت کے مختلف مراحل طے کرتے ہوئے عملی زندگی میں استقامت اور توکل کی روشن مثال قائم کی۔ روحانی تشنگی کے سفر میں 1969ء کے قریب حج کے موقع پر مدینہ منورہ میں حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ سے پہلی ملاقات ہوئی، اور بالآخر 14دسمبر 1970ء کو ان کے دستِ مبارک پر بیعت نصیب ہوئی۔ علمی ذوق کی تکمیل کے لیے بعد ازاں پاکستان آ کر دینی تعلیم حاصل کی اور دارالعلوم کراچی میں تخصص فی الفقہ مکمل کیا۔ 1975ء کے قریب حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ نے آپ کی روحانی لیاقت کو دیکھتے ہوئے خلافت و اجازت سے نوازا۔ (حضرت مولانا پیر عزیز الرحمٰن ہزاروی رحمہ اللہ نے میرے ادارے مرکز اھل السنۃ والجماعۃ میں اساتذہ کے ساتھ ایک نشست میں اس کی مکمل روداد سنائی ۔) بعد ازاں امت کی اصلاح کے لیے تحریکِ ایمان و تقویٰ کی بنیاد رکھی، جس کے ذریعے عقیدہ، عمل، اصلاحِ معاشرہ، قضا و تصفیہ اور اتحادِ امت کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں، اور خانقاہ دارالایمان کربوغہ شریف کو رشد و ہدایت کا مؤثر مرکز بنا دیا۔تصنیفی میدان میں آپ نے علمی خدمات سرانجام دیں ایمانی صفات، عقیدہ اور عقیدت، دھریت سے اسلام تک اور بالخصوص البرہان فی تفسیر القرآن قابلِ ذکر ہیں۔29 دسمبر2025ء بروز سوموار دنیا فانی کو چھوڑ کر راہی ملک بقاء ہوگئے۔ 

*حضرت مولانا مفتی محمد شریف عابر رحمہ اللہ* رئیس دارالافتاء جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام ضلع جہلم کی ایک ممتاز، باوقار اور بااعتماد دینی و علمی شخصیت تھے۔ آپ نے اپنی پوری زندگی علمِ دین، افتاء، دعوت و اصلاح اور اہلِ السنت والجماعت کے مسلک کی خدمت کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ آپ مفتی کی حیثیت سے طویل عرصہ تک علمی و شرعی ذمہ داریاں نبھاتے رہے اور عوام و خواص کے لیے شرعی رہنمائی کا معتبر مرکز سمجھے جاتے تھے۔حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ اپنے متوازن علمی مزاج، مضبوط فقہی بصیرت اور اخلاص کی وجہ سے معروف تھے۔ مسائلِ شرعیہ میں آپ کی رائے اعتماد کے ساتھ قبول کی جاتی، اور اختلافی امور میں بھی آپ حکمت، اعتدال اور دلائل کے ساتھ بات فرماتے۔ درس و تدریس، فتویٰ نویسی اور اصلاحِ معاشرہ آپ کی نمایاں خدمات میں شامل تھیں۔آپ تحریک خدامِ اہل السنت والجماعت ضلع جہلم کے سرپرست بھی رہے، جہاں آپ نے عقائدِ اہلِ سنت کے تحفظ، بدعات کی تردید اور دینی شعور کی بیداری کے لیے رہنمائی فرمائی۔ آپ کی گفتگو میں شفقت، نصیحت میں دردِ دل اور فیصلوں میں تقویٰ جھلکتا تھا۔31 دسمبر 2025ءبروز بدھ وفات پا گئے۔ 

*حضرت مولانا حافظ فضل الرحیم اشرفی رحمہ اللہ* جامعہ اشرفیہ لاہور کے سرپرستِ اعلیٰ اور سابق مہتمم، برصغیر کے ممتاز عالمِ دین، محدث اور دینی راہنما تھے، اپنی پوری زندگی اسلام کی خدمت، عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ اور درس و تدریس کے فروغ کے لیے وقف کیے رکھی۔ میرا حضرت مرحوم سے نیازمندانہ تعلق رہا، جب کبھی جامعہ اشرفیہ جانا ہوتا آپ سے ملاقات ہوتی، مسلکی کارگزاری پیش کرتا بہت خوش ہوتے، ڈھیروں دعائیں دیتے اور اپنے تجربات کو ملحوظ رکھ کر مفید آراء و تجاویز دیا کرتے۔ میرے ادارے مرکز اھل السنت والجماعت خانقاہ حنفیہ سرگودھا میں بھی تشریف لائے۔ آپ جامعہ اشرفیہ لاہور کے شیخ الحدیث رہے، قرآن بورڈ حکومتِ پنجاب کے چیئرمین، عالمی رابطۂ ادبِ اسلامی پاکستان کے صدر اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سرپرست کے طور پر بھی گراں قدر خدمات انجام دیتے رہے، جبکہ تصنیف و تالیف کے میدان میں متعدد دینی کتب یادگار چھوڑیں۔ تقویٰ، پرہیزگاری، علمی وقار اور فکری اعتدال آپ کی شخصیت کے نمایاں اوصاف تھے4 جنوری 2026ء بروز اتوار وفات پاگئے۔ 

*مشائخ کے جانے پر ہماری ذمہ داریاں یہ بنتی ہیں کہ* 

*1:کسبی غم سے بچیں:* 
مشائخ کے وصال پر طبعی غم فطری اور قابلِ قبول ہے، مگر صدمے کو بار بار سوچ کر، تذکرہ کر کے اور دل میں بٹھا کر بڑھانا کسبی غم ہے جو مایوسی، بے صبری اور شریعت کی ناپسندیدہ کیفیتوں کو جنم دیتا ہے، اس لیے مسلمان پر لازم ہے کہ وہ صبر اختیار کرے، اللہ کے فیصلے پر راضی رہے، سینہ کوبی، ماتم اور شکوہ شکایت سے مکمل اجتناب کرے۔

*2:استرجاع کا اہتمام کریں:* 
مصیبت اور صدمے کے وقت اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھنا اس امت کی عظیم نعمت ہے، جس کے ذریعے بندہ اپنے رب سے تعلق جوڑتا ہے، دل کو تسلی ملتی ہے، ایمان تازہ ہوتا ہے اور یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ ہم اور ہماری ہر چیز اللہ ہی کی ملکیت ہیں اور بالآخر اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

*3:رضا بالقضاء پر عمل کریں:*
مشائخ کے جانے کو اللہ تعالیٰ کا طے شدہ فیصلہ سمجھ کر دل و جان سے قبول کرنا ایمان کا تقاضا ہے، اس موقع پر یہ کہنا یا سوچنا کہ یہ کیوں ہوا یا ابھی وقت نہیں آیا تھا دراصل قضاء پر اعتراض ہے، جبکہ مومن صدمے کے وقت بھی اللہ کی مشیت پر راضی رہتا ہے اور اسی رضا میں قلبی سکون پاتا ہے۔

 *4:نِعْمَ البدل کی دعا کریں:*
شریعت نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ مصیبت کے وقت اللہ تعالیٰ سے نِعْمَ البدل کی دعا مانگی جائے، کیونکہ جو ذات کسی نعمت کو واپس لیتی ہے وہ اس سے بہتر عطا کرنے پر بھی قادر ہے، اس دعا کے ذریعے بندہ غم کے بجائے امید، یقین اور اللہ کی رحمت پر اعتماد کے ساتھ اپنی زندگی کو آگے بڑھاتا ہے۔

*5:زندہ مشائخ کی قدر کریں:*
علماء اور مشائخ کے مسلسل وصال ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ زندہ اکابر کی قدر کی جائے، ان سے استفادہ کیا جائے، ان کی رہنمائی میں دین پر مضبوطی سے قائم رہا جائے، مایوسی کو دل سے نکال کر توکل علی اللہ اختیار کیا جائے اور دین کی خدمت کے کاموں میں عزم، ہمت اور استقامت کے ساتھ آگے بڑھا جائے۔