🏆 معاشرے میں بے نمازی کا بڑھتا رجحان اسباب، اثرات اور عملی حل
بے نمازی کا بڑھتا رجحان :اسباب، اثرات اور عملی حل
تہذیب اعظمی
04 Feb 2026
بسماللہالرحمنالرحیم
عنوان: "معاشرے میں بے نمازیکابڑھتا رجحان: اسباب، اثراتاورعملیحل"
معاشرے میں بے نمازی کا بڑھتا رجحان: معاشرے میں بے نمازی کا بڑھنا عام سی بات ہو چکی ہے دن بہ دن لوگ نماز اور جماعت سے دور ہوتے جا رہے ہیں لوگ نمازوں کو چھوڑ کر بے فکری سے اپنے کاموں میں مصروف ہیں ہم نے سونے جاگنے، کھانے پینے، گھومنے پھرنے اور اپنے دنیاوی معاملات میں خود کو اتنا مصروف کر لیا ہے کہ ہمارے پاس نماز کے لئے وقت ہی نہیں بچتا یہ ہماری سُستی اور کاہلی ہے یا یوں کہہ لیں کہ ہم ضرورت سے زیادہ آرام پسند زندگی جینے کے شوقین بن چکے ہیں، ہمارے دل غفلت میں ڈوب چکے ہیں، ہمارا ایمان کمزور ہو چکا ہے آج مسلمان ترکِ نماز اور دیگر گناہوں پر دلیر ہو چکا ہے، مسجدیں ویران اور گناہوں کے اڈے آباد ہیں، ہر طرف غفلت کا دورِ دورہ ہے یہ کوئی عام سی بات نہیں ہے یہ ایک بہت سنگین مسئلہ ہے_ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز دین کا ستون ہے جس نے نماز کو قائم کیا اس نے دین کو قائم کیا، "جس نے نماز کو چھوڑ دیا اس نے دین کو گرا دیا" `کنز العمال: حدیث نمبر:18890` حدیث مبارکہ میں نماز کی ادائیگی کے ساتھ اسکا قیام اپنے اندر ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے
*1️⃣اسباب:* معاشرے میں بے نمازیوں کے بڑھنے کی بہت سی وجوہات ہیں_ مثلاً: "دین سے دوری" لوگوں کا دین سے دور ہونا صرف دنیوی تعلیم کو ترجیح دینا دین کی بنیادی تعلیمات سے ناواقف ہونا اور نماز کی اہمیت کو نہ سمجھنا_ موت سے غافل ہونا صرف دنیا کو ہی سب کچھ سمجھ لینا جس کی وجہ سے لوگ نماز کے حوالے سے بھی غفلت میں ہیں_ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: يٰٓأَ يُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَآ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِاللهِ `ترجمہ: اے ایمان والوں! تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کر دے` (سورہالمنافقون: آیت9) اس آیت سے پتہ چلتا ہے کہ مال اور اولاد کی محبت بھی انسان کو اللہ کے ذکر(یاد) سے غافل کرنے کا سبب ہے مال و اولاد کی کثرت اور اس کی محبت نے بندے کو اللہ کی عبادت سے غافل کر دیا ہے_ دنیاوی معاملات اور شوشل میڈیا میں حد سے زیادہ مشغولیت، موبائل کے بے جا اور غلط استعمال کی وجہ سے بھی لوگ نماز سے دور ہوتے جا رہے ہیں، موبائل نے لوگوں کو اپنا اتنا اسیر بنا لیا ہے کہ لوگ موبائل کے بے جا استعمال میں اپنا قیمتی وقت برباد کر لیتے ہیں اور اذان کی آواز سنی ان سنی کر دیتے ہیں انہیں محسوس ہی نہیں ہوتا کہ ہمیں اتنی بڑی ہستی خالقِ کائنات کی طرف سے مدعو کیا جا رہا ہے_ "والدین کا بچوں کو بچپن سے نماز کی عادت نہ ڈالنا" معاشرے میں بے نمازی کا رجحان اس لئے بھی بڑھتا جا رہا ہے کہ گھروں میں والدین اور بڑے بزرگ اس چیز پر کوئی توجہ ہی نہیں دیتے کہ ہمارے بچے نماز نہیں پڑھ رہے انہیں ویسے ہی ان کے حال پہ چھوڑ دیتے ہیں حالانکہ انہیں اس معاملے کو بہت سنجیدگی سے لینا چاہیے اور اپنے بچوں کو محبت سے سمجھانا چاہیے اور اگر پھر بھی نماز نہ پڑھیں تو سختی کرنی چاہیے_ "بازاروں میں وقت ضائع کرنا" اس حوالے سے عورتوں میں بڑی خرابی پائی جا رہی ہے مرد حضرات جو نماز کے پابند ہوتے ہیں مسجدوں میں جا کر نماز ادا کر لیتے ہیں لیکن عورتیں بازار میں جا کر فضول وقت برباد کرتی ہیں جو نماز کی پابندی کرنے والی ہوتی ہیں وہ بھی بازار کی چکا چوند کو دیکھ کر اپنی نمازوں سے بالکل غافل ہو جاتی ہیں_ اسی طرح شادیوں اور دیگر خوشیوں کے مواقع پر نماز کو بڑی آسانی سے چھوڑ دیا جاتا ہے ہم غم میں تو جائے نماز بچھا کر آنسو بہانے کھڑے ہو جاتے ہیں لیکن خوشیوں میں خوشیاں دینے والے رب کو ہی بھول جاتے ہیں، ہمیں اس سے احتراز کرنا چاہیے اور جہاں کہیں بھی ہوں جس حالت میں بھی ہوں اپنی نمازوں سے غافل نہیں ہونا چاہیے_ "ماحول اور صحبت" بے نمازی اور بے دین دوستوں کی صحبت میں رہنا انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے اس لئے ہمیں چاہیے کہ ہم دین دار اور نمازی دوستوں کی صحبت اختیار کریں _
*2️⃣اثرات:* نماز ترک کرنے کے دینی اور دنیاوی دونوں ہی نقصانات بہت زیادہ ہیں معاشرے میں بہت سی برائیاں جنم لیتی ہیں
دینینقصانات: قرآن پاک میں سورہ الماعونکیآیتنمبر4اور5 میں اللہ رب العزت کا ارشاد ہے: *فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّیْن الَّذِيْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُون `ترجمہ: پس ویل یعنی(خرابی) ہے ان نمازیوں کے لئے جو اپنی نمازوں سے غافل ہوئے بیٹھے ہیں` اللہ تعالی کی طرف سے نماز چھوڑنے والوں کے لئے کئی مقامات پر سخت وعیدیں آئی ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی تارکِ نماز کے لئے سخت وعید بیان فرمائی ہے: حدیث پاک کا مفہوم ہےکہ : جو نماز قائم نہیں کرتا وہ اللہ کے قریب نہیں، اور شرک و کفر کی حالت میں ہے_ حوالہ: (مشکاۃ المصابیح/شعب الإيمان بہیقی)
دوزخ میں دوزخیوں سے سوال کیا جائے گا تمہیں دوزخ میں کس چیز نے ڈالا تو وہ جواب دینگے ہم نماز نہیں پڑھتے تھے جیسا کہ قرآن پاک میں اللہ رب العزت کا ارشاد ہے: *مَا سَلَكَكُمْ فِيْ سَقَر* `تمہیں دوزخ میں کس چیز نے ڈالا` (سورہالمدثر:آیت 4) *قَالُوْا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّيْن* `وہ جواب دینگے ہم نمازی نا تھے` (سورہالمدثر:آیت3) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی امانت نہیں اسکا کوئی ایمان نہیں، جس کی طہارت نہیں اسکی کوئی نماز نہیں، اور جس کی نماز نہیں اس کا کوئی دین نہیں،کیونکہ دین میں نماز کا وہی مقام ہے جو بدن میں سر کا ہے _ `مسند احمد` امیر المومنین حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عبرت نشان ہے: جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑی اللہ پاک اس کا عمل برباد کر دے گا اور اللہ پاک کا ذمہ اس سے اٹھ جائے گا جب تک کہ اللہ پاک کی بارگاہ میں توبہ نہ کر لے_ یقینا نماز نہ پڑھنے کی وعیدیں کثرت سے پائی جاتی ہیں جبکہ دنیاوی نقصانات کی بھی ایک طویل فہرست ہے
دنیاوینقصانات: نماز بندے کا اللہ سے تعلق مضبوط بنانے کا ذریعہ ہے ترکِ نماز سے روحانی خلاء پیدا ہوتا ہے اور انسان کا اللہ سے تعلق کمزور ہو جاتا ہے بے نمازی انسان کبھی بھی قلبی و روحانی سکون نہیں پا سکتا_ ترکِ نماز اخلاقی زوال کا باعث بنتی ہے اور لوگوں کے اخلاق پر برا اثر ڈالتی ہے، بے نمازی انسان بے حیائی اور دیگر گناہوں میں مبتلا ہو جاتا ہے جیسا کہ ارشادِ باری تعالی ہے: *اِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهىٰ عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْكَرْ* `ترجمہ: بے شک نماز برائی اور بے حیائی سے روکتی ہے` (سورہالعنکبوت:آیت 45) مفتی سید عبد الفتاح قادری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ہمیشہ نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنے سے نیک بختی اور تونگری کی برکت حاصل ہوتی ہے، بدبختی اور مفلسی دور بھاگتی ہےاور جماعت کو ترک کرنے نیز بالکل نماز نہ پڑھنے سے اس کی برکت ختم ہو جاتی ہے_ بے نمازی کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ وہ وقت کی پابندی نہیں کر پاتا اس کی زندگی کے معاملات عجیب و غریب ترتیب پر ہوتے ہیں نہ سونے کا کوئی وقت، نہ اٹھنے کا، نہ کھانے پینے کا، نہ اس کا کوئی کام منظم طریقے پر ہو پاتا ہے، بے نمازی اپنے اوقات کو اپنے کام کے لحاظ سے ترتیب نہیں دے پاتا جس کی وجہ سے زندگی میں بہت سی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے_ بے نمازی کے مال میں بے برکتی ہوتی ہےاور اسکی عمر سے برکت ختم کر دی جاتی ہے، بے نمازی پر معاشرہ اعتبار نہیں کرتا، یہ دعا کی عدمِ قبولیت کا سبب بھی ہوتا ہے اسکی دعا آسمان تک نہیں پہنچتی، اللہ رب العزت اس کی دعائیں قبول نہیں فرماتا_
3️⃣عملی حل: اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ لوگوں کو دینی تعلیم دینی چاہیے اور نماز کی اہمیت سے آگاہ کرنا چاہیے_ روحانی اصلاح کے لئے اقدامات کرنا چاہیے اور لوگوں کو نماز کی فضیلت اور مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کے فوائد بتانا چاہیے_ نوجوانوں کو مسجد کی طرف لانے کے لیۓ دینی اور مذہبی رہنماؤں کو موئثر کردار ادا کرنا ہوگا خود کو نماز کا پابند بنانا ہوگا کیونکہ قول سے زیادہ عمل کارگر ثابت ہوتا ہے اس لیۓ نماز کو عملی نمونہ بنا کر پیش کرنا ہوگا اور بہترین حکمت عملی کے ساتھ انہیں نماز کی طرف لانے کی حتی الامکان کوشش کرنی ہوگی مسجد کو صرف عبادت گاہ نہیں بلکہ تربیت کا مرکز بنانے کی بھی اشد ضرورت ہے مسجدوں میں مختلف پروگرام نماز روزے جیسی اہم عبادات کے تعلق سے بیانات اور درس قرآن کا اہتمام کرنا چاہئے تاکہ لوگ مسجد کی طرف آئیں_ والدین کو اپنے بچوں کی تربیت پہ توجہ دینی چاہیے ان کو دین اور نماز کی اہمیت بتلانی چاہیے بچوں کو بچپن سے ہی نماز کی عادت ڈالنی چاہیے خود بھی نماز کا خاص اہتمام کرنا چاہیے اور بچوں کو اپنے ساتھ لے کر نماز پڑھنی چاہیے کیونکہ بچے قول سے زیادہ عمل کو دہراتے ہیں اس لئے ہمیں اپنے گھر کا ماحول دینی اور نمازی بنانا چاہیے اپنے بچوں کو شروع سے ہی کالجز اور اسکولوں میں نہیں بھیجنا چاہیے ابتدائی تعلیم مدرسوں سے دلانی چاہیے تاکہ بچہ اسلام کی بنیادی تعلیمات سے بخوبی وقف ہو جائے_ نمازی دوستوں کی صحبت اختیار کرنی چاہئے اور علماۓ کرام کی محفل سے جڑنا چاہیے_ مسلم نوجوانوں کو نماز کی طرف لانے کے لئے ضروری ہے کہ ان کو نماز کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے ان کے دلوں میں نماز کی عظمت کو اجاگر کیا جائے انہیں نماز پڑھنے کے دینی اور دنیوی فوائد اور نقصانات بتاۓ جائیں نماز چھوڑنے پر وعیدیں سنائی جائیں گھر کے سر پرست کو اپنے گھر کا ماحول نمازی اور تقویٰ والا بنانا چاہیے نماز کے معاملے میں بڑی اولادوں پہ بھی سختی کرنی چاہیے_ موبائل کے بے جا اور غلط استعمال سے نئی نسلوں کو بچانا چاہیے انہیں زیادہ موبائل استعمال کرنے اور غلط چیزیں، ڈرامے، فلمیں یا اس طرح کے فحش مناظر دیکھنے سے روکنا چاہیے_ مختصر یہ کہ اور ہم میں جو نماز کی پابندی کرنے والے ہیں ان سب کو چاہئے کہ وہ اپنے ارد گرد لوگوں کو اپنے دوست و احباب کو نماز کی طرف لانے کی کوشش کریں احسن طریقے سے نماز کی دعوت دیں_ مختصر یہ کہ گھر کا ماحول جہاں سے پہلی تعلیم و تربیت شروع ہوتی ہے نمازی ہو، تعلیمی اداروں اور اساتذہ کرام کا نماز کی طرف رجحان ہو، مساجد و مکاتب میں نماز کی فکر کو لوگوں کے دلوں میں اجاگر کیا جاے_ اللہ ہم سب کو نماز کو قائم کرنے والا اور لوگوں کو نماز کی طرف راغب کرنے والا بنائے ہمارے دلوں کو نماز کے ذریعے زندہ فرمائے نماز میں ہونے والی کوتاہیوں کو ہم سے معاف فرمائے اور ہمیں بہتر طریقے سے نماز ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یا رب العالمین