اسلام اور جہیز: شرعی حیثیت، تاریخی پس منظر اور ہماری ذمہ داریاں
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین، وعلی آلہ وأصحابہ أجمعین، ومن تبعہم بإحسان إلی یوم الدین، أما بعد:
تمہید
اسلام ایک ایسا کامل اور جامع دین ہے جس نے انسانی زندگی کے ہر شعبے میں اعتدال، عدل اور آسانی کی تعلیم دی ہے۔ نکاح بھی انہی مبارک تعلیمات کا ایک اہم حصہ ہے۔ اسلام نے نکاح کو ایک مقدس بندھن، پاکیزہ معاہدہ اور معاشرتی استحکام کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ اس کے برعکس زمانۂ جاہلیت اور مختلف معاشروں میں ایسی متعدد رسمیں رائج رہی ہیں جنہوں نے نکاح جیسے آسان اور مبارک عمل کو مشکل، پرتعیش اور بوجھل بنا دیا۔ ان ہی رسوم میں ایک رسم "جہیز" بھی ہے، جو آج ہمارے معاشرے میں ایک سنگین سماجی مسئلہ اور ناسور کی صورت اختیار کر چکی ہے۔
جہیز کے نام پر لڑکی والوں پر مالی دباؤ ڈالنا، نکاح کو غیر ضروری اخراجات سے مشروط کرنا، اور رشتوں کا معیار دین و اخلاق کے بجائے مال و دولت کو بنانا ایسی خرابیاں ہیں جنہوں نے نہ صرف بے شمار خاندانوں کو مشکلات سے دوچار کیا ہے بلکہ نکاح جیسے مقدس عمل کو بھی متاثر کیا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ جہیز کی حقیقت کو لغوی، تاریخی اور شرعی زاویوں سے سمجھا جائے تاکہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس مسئلے کا صحیح حل سامنے آسکے۔
جہیز کا لغوی اور اصطلاحی مفہوم
لفظ "جہیز" عربی لفظ "جَہاز" سے ماخوذ ہے، جس کے معنی تیار شدہ سامان یا کسی مقصد کے لیے مہیا کی جانے والی ضروری اشیاء کے ہیں۔ عربی زبان میں اس کا استعمال سفر کے سامان، تدفین کے سامان اور دیگر ضروری تیاریوں کے لیے بھی ہوتا ہے۔
قرآنِ مجید میں حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعے میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے:
﴿وَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ﴾
ترجمہ: "اور جب یوسفؑ نے ان کے لیے ان کا سامان تیار کر دیا۔" (سورۂ یوسف: 59)
اس آیت میں "جَہاز" سے مراد سفر کے لیے تیار کیا گیا سامان ہے، نہ کہ شادی بیاہ کے موقع پر دیا جانے والا جہیز۔
امام راغب اصفہانی رحمہ اللہ "المفردات في غريب القرآن" میں لکھتے ہیں:
«"الجهاز: ما يُعَدُّ من متاع وغيره، والتجهيز: حمل ذلك أو بعثه."»
یعنی: "جَہاز اس سامان کو کہتے ہیں جو کسی مقصد کے لیے تیار کیا جائے، جبکہ تَجْہِیز اس سامان کو اٹھانے، روانہ کرنے یا بھیجنے کا نام ہے۔"
اسی طرح فقہی مصادر میں بھی "جَہاز" کا اطلاق اس سامان پر کیا گیا ہے جو عورت اپنے ساتھ لے جائے، لیکن فقہاء نے واضح کیا ہے کہ یہ عورت پر شرعاً لازم نہیں۔
چنانچہ "الموسوعة الفقهية الكويتية" میں مذکور ہے:
«"الجهاز بالفتح، والكسر لغة قليلة، وهو اسم لما تزف به المرأة إلى زوجها من متاع."»
یعنی: "جَہاز اس سامان کو کہا جاتا ہے جو عورت اپنے شوہر کے گھر لے جائے۔"
لغوی اعتبار سے یہ محض سامان کے معنی میں ہے، جبکہ برصغیر کے موجودہ معاشرتی ماحول میں جہیز سے مراد وہ سامان، نقد رقم اور قیمتی اشیاء ہیں جو شادی کے موقع پر لڑکی والوں کی طرف سے دی جاتی ہیں۔
جہیز کا تاریخی پس منظر
جہیز کی موجودہ رسم اسلامی معاشرے کی پیداوار نہیں بلکہ مختلف تہذیبوں اور معاشرتی روایات کا نتیجہ ہے۔ اسلام سے قبل دنیا کے مختلف علاقوں میں عورت کو کم تر سمجھا جاتا تھا اور اسے بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا جاتا تھا۔
عرب معاشرے میں بیٹیوں کو زندہ دفن کرنے جیسی سنگ دلانہ رسم موجود تھی۔ عورت نہ وراثت کی حق دار سمجھی جاتی تھی اور نہ ہی اسے معاشرتی احترام حاصل تھا۔ روم، فارس اور دیگر قدیم تہذیبوں میں بھی عورت کی حیثیت نہایت کمزور تھی۔
ہندوستان میں بھی عورت کی حالت مختلف نہ تھی۔ بعض علاقوں میں عورت کو وراثت سے محروم رکھا جاتا تھا، اور شادی کے وقت والدین اپنی بیٹی کو "دان" کے نام پر کچھ سامان دے کر رخصت کرتے تھے۔ یہی تصور بعد میں مختلف شکلوں میں ترقی کرتے ہوئے موجودہ جہیزی نظام کی بنیاد بنا۔
تاہم تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ قدیم ہندوستان میں موجودہ دور کے مطالباتی جہیز کا رواج اس شدت کے ساتھ موجود نہیں تھا۔ یونانی مؤرخ اریان نے ہندوستانی معاشرے کا مشاہدہ کرتے ہوئے لکھا کہ وہاں شادی کے وقت لڑکی کی ذاتی خوبیوں کو اہمیت دی جاتی تھی، نہ کہ اس کے ساتھ آنے والے مال و متاع کو۔
اسی طرح عظیم مسلم مفکر ابو ریحان البیرونی نے بھی اپنے مشاہدات میں ذکر کیا ہے کہ ہندوستانی معاشرے میں عورت کو بعض مالی حقوق حاصل تھے اور موجودہ طرز کا جبری جہیزی نظام نمایاں نہیں تھا۔
بعد کے ادوار میں معاشرتی، معاشی اور تہذیبی تبدیلیوں کے نتیجے میں جہیز کی رسم نے ایک مستقل معاشرتی ادارے کی شکل اختیار کر لی، یہاں تک کہ نکاح کا معیار دین و اخلاق کے بجائے مال و دولت بننے لگا۔
یہی وہ مرحلہ تھا جہاں ایک اختیاری تحفہ رفتہ رفتہ ایک سماجی دباؤ، پھر مطالبہ، اور بالآخر ایک ناسور میں تبدیل ہو گیا۔
اسلام اور جہیز کی شرعی حیثیت
اسلام نے نکاح کو آسان، پاکیزہ اور فطری تقاضوں کے مطابق ایک مبارک عمل قرار دیا ہے۔ شریعتِ اسلامیہ کا مزاج یہ ہے کہ نکاح میں آسانی پیدا کی جائے، غیر ضروری بوجھ نہ ڈالا جائے اور ازدواجی زندگی کی بنیاد دین، اخلاق اور باہمی حسنِ سلوک پر رکھی جائے۔ اسی لیے اسلام نے مالی ذمہ داری مرد پر عائد کی ہے اور عورت کو مہر کا حق عطا کیا ہے، نہ کہ اس پر جہیز کا بوجھ ڈالا ہے۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
﴿وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً﴾
"اور عورتوں کو ان کے مہر خوش دلی کے ساتھ ادا کرو۔" (النساء: 4)
اس آیتِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ نکاح میں مالی حق عورت کا ہے، اور اس حق کی ادائیگی مرد کے ذمہ ہے۔ اسلام نے عورت کو لینے والی نہیں بلکہ حق دار بنایا ہے۔ مہر اس کی عزت، تکریم اور مالی تحفظ کی علامت ہے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ ... وَبِمَا أَنْفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ﴾
"مرد عورتوں کے نگہبان ہیں، اس لیے کہ وہ اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔" (النساء: 34)
امام فخر الدین رازی رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ مرد کو عورت پر جو ذمہ داری اور قوامیت دی گئی ہے، اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ مہر ادا کرتا ہے اور نفقہ کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ گھر کے معاشی اخراجات اور ضروریات کی ذمہ داری شوہر پر ہے، نہ کہ عورت یا اس کے والدین پر۔
فقہاءِ امت کی رائے
فقہاءِ اسلام کی اکثریت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عورت پر یہ لازم نہیں کہ وہ اپنے مہر یا ذاتی مال سے گھر کا سامان مہیا کرے۔
چنانچہ "الموسوعة الفقهية الكويتية" میں ہے:
«"جمہور فقہاء کا موقف یہ ہے کہ عورت پر لازم نہیں کہ وہ اپنے مہر یا اس کے کسی حصے سے گھر کا سامان تیار کرے، بلکہ شوہر پر لازم ہے کہ وہ رہائش اور گھریلو ضروریات کا انتظام کرے۔"»
مزید یہ بھی تصریح کی گئی ہے کہ اگر عورت یا اس کے والدین اپنی خوشی سے کوئی سامان دیں تو وہ عورت ہی کی ملکیت شمار ہوگا، شوہر کی ملکیت نہیں۔
اس فقہی وضاحت سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت میں جہیز کو نہ فرض قرار دیا گیا ہے، نہ واجب اور نہ ہی نکاح کی شرط۔
نکاح میں آسانی اور اسلامی تعلیمات
اسلام نے نکاح کو سہل اور آسان رکھنے کی تلقین کی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«أَعْظَمُ النِّكَاحِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُ مَؤُونَةً»
رواہ البیہقی فی شعب الایمان
"سب سے زیادہ بابرکت نکاح وہ ہے جس میں کم خرچ ہو۔"
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ برکت کا تعلق مال و اسباب کی کثرت سے نہیں بلکہ سادگی، اخلاص اور تقویٰ سے ہے۔
ایک اور حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
«إِذَا أَتَاكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ دِينَهُ وَخُلُقَهُ فَزَوِّجُوهُ...»
مشکاۃ المصابیح کتاب النکاح
"جب تمہارے پاس ایسا شخص رشتہ لے کر آئے جس کے دین اور اخلاق سے تم مطمئن ہو تو اس کا نکاح کر دو۔"
اس حدیث میں نکاح کے لیے دین اور اخلاق کو معیار قرار دیا گیا ہے، مال و دولت، گاڑی، مکان اور جہیز کو نہیں۔
جہیز کا مطالبہ اور اسلامی مزاج
اگر والدین اپنی بیٹی کو محبت اور شفقت کے طور پر کچھ سامان دینا چاہیں تو یہ ایک جائز عمل ہے، لیکن جب یہی چیز مطالبے، شرط یا دباؤ کی صورت اختیار کر لے تو اس کی نوعیت تبدیل ہو جاتی ہے۔
آج معاشرے میں اکثر نکاح براہِ راست یا بالواسطہ مالی مطالبات سے مشروط کر دیے جاتے ہیں۔ بعض اوقات زبان سے مطالبہ نہیں کیا جاتا، لیکن عرف، رسم اور سماجی دباؤ کے ذریعے لڑکی والوں کو مجبور کیا جاتا ہے۔ یہ طرزِ عمل اسلامی تعلیمات کے منافی ہے اور نکاح کے اصل مقصد کو متاثر کرتا ہے۔
قرآنِ کریم فضول خرچی اور اسراف سے منع کرتے ہوئے فرماتا ہے:
﴿وَلَا تُسْرِفُوا﴾
سورۃ اعراف:31
"اسراف نہ کرو۔"
اور دوسری جگہ فرمایا:
﴿إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ﴾
سورۃ اسراء آیت :27
"بے جا خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں۔"
جہیز کی موجودہ رسم میں اکثر اسراف، نمود و نمائش، تفاخر اور غیر ضروری اخراجات شامل ہو جاتے ہیں، جو اسلامی مزاج کے خلاف ہیں۔
جہیز اور رشوت میں مشابہت
بعض اہلِ علم نے جہیز کے مطالبے کو رشوت سے مشابہ قرار دیا ہے، کیونکہ اس میں رشتہ قائم کرنے کے بدلے مالی منفعت حاصل کی جاتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ»
رواہ الترمذی
"رسول اللہ ﷺ نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے دونوں پر لعنت فرمائی۔"
اگرچہ فقہی اعتبار سے ہر جہیز کو براہِ راست رشوت قرار دینا محلِ نظر ہو سکتا ہے، لیکن مطالباتی جہیز میں موجود لالچ، جبر اور مالی منفعت کی خواہش یقیناً اس مذموم عمل سے مشابہت رکھتی ہے۔
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے نکاح سے استدلال کا جائزہ
بعض لوگ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کے موقع پر مذکور چند گھریلو اشیاء کو موجودہ جہیز کی رسم کے جواز کے لیے پیش کرتے ہیں، لیکن تحقیق کی روشنی میں یہ استدلال درست معلوم نہیں ہوتا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
عَنْ عَلِيٍّ رضي الله عنه قَالَ:
«جَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَاطِمَةَ فِي خَمِيلٍ وَقِرْبَةٍ وَوِسَادَةٍ حَشْوُهَا إِذْخِرٌ»
سنن النسائي | كتاب النكاح | باب جهاز الرجل ابنته
حديث رقم: 3384
ترجمہ: "حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے ایک چادر (خمیلہ)، ایک مشکیزہ اور ایک تکیہ جس میں اذخر گھاس بھری ہوئی تھی، مہیا فرمایا۔"
محدثین اور محققین نے وضاحت کی ہے کہ یہ موجودہ اصطلاحی جہیز نہیں تھا، بلکہ ازدواجی زندگی کی ابتدائی ضروریات کا انتظام تھا، جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے حاصل شدہ رقم سے کیا گیا تھا۔
حضرت مولانا منظور نعمانی رحمہ اللہ "معارف الحدیث" میں لکھتے ہیں کہ عرب معاشرے میں موجودہ معنوں میں جہیز کا نہ رواج تھا اور نہ تصور۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے جو سامان مہیا کیا گیا، وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مالی وسائل سے کیا گیا انتظام تھا، نہ کہ لڑکی والوں پر ڈالا گیا کوئی بوجھ۔
مزید یہ کہ رسول اللہ ﷺ کی دیگر صاحبزادیوں کے نکاح کے واقعات میں ایسی کسی لازمی رسم کا ذکر نہیں ملتا، جو اس بات کی دلیل ہے کہ جہیز اسلام کا کوئی شرعی حکم یا سنتِ نکاح نہیں۔
لہٰذا یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام کا اصل زور مہر، نفقہ، حسنِ معاشرت اور آسان نکاح پر ہے، نہ کہ جہیز کے مطالبات پر۔
حصہ سوم
جہیز کے معاشرتی، اخلاقی اور معاشی نقصانات اور ہمارا کردار
جہیز: ایک معاشرتی ناسور
جب کوئی رسم معاشرے میں اس قدر راسخ ہو جائے کہ وہ لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کرنے لگے، خاندانوں کے سکون کو برباد کر دے اور دینی تعلیمات پر غالب آ جائے، تو وہ محض ایک رسم نہیں رہتی بلکہ ایک معاشرتی ناسور بن جاتی ہے۔ آج جہیز کی رسم بھی اسی نوعیت اختیار کر چکی ہے۔ اگرچہ اس کی ابتدا ایک اختیاری تحفے کے طور پر ہوئی ہوگی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ مطالبے، مقابلے، نمود و نمائش اور مالی استحصال کی شکل اختیار کر گئی۔
اسلام نے نکاح کو آسان بنایا تھا، مگر جہیز کی لعنت نے اسے مشکل بنا دیا۔ اسلام نے رشتوں کی بنیاد دین اور اخلاق پر رکھی تھی، مگر آج بہت سے لوگ مال و دولت، گاڑی، فرنیچر، قیمتی سامان اور دیگر مادی چیزوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ نتیجتاً نکاح جیسی عظیم سنت بھی دنیاوی مفادات کی نذر ہوتی جا رہی ہے۔
غریب خاندانوں پر جہیز کے تباہ کن اثرات
جہیز کی سب سے بڑی مار غریب اور متوسط طبقے پر پڑتی ہے۔ بہت سے والدین اپنی بیٹیوں کی شادی کے لیے برسوں تک رقم جمع کرتے ہیں، قرض لیتے ہیں، زمینیں فروخت کرتے ہیں یا اپنی جمع پونجی ختم کر دیتے ہیں۔ بعض اوقات ایک بیٹی کی شادی پورے خاندان کی معاشی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض والدین اپنی ضروریات قربان کر دیتے ہیں، مگر پھر بھی معاشرے کی توقعات پوری نہیں کر پاتے۔ اس صورتِ حال میں بیٹی خود کو بوجھ محسوس کرنے لگتی ہے، حالانکہ اسلام نے بیٹی کو رحمت قرار دیا ہے، زحمت نہیں۔
نکاح میں تاخیر اور اس کے نقصانات
جہیز کی وجہ سے بے شمار لڑکیوں کی شادیاں تاخیر کا شکار ہو جاتی ہیں۔ بعض والدین مناسب جہیز مہیا نہ کر سکنے کی وجہ سے رشتے قبول کرنے سے ہچکچاتے ہیں، جبکہ بعض لڑکے والے زیادہ سے زیادہ سامان اور مال کے انتظار میں رہتے ہیں۔
یہ تاخیر صرف ایک خاندانی مسئلہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی مسئلہ بن جاتی ہے۔ جب نکاح مشکل ہو جاتا ہے تو معاشرے میں مختلف اخلاقی اور سماجی خرابیاں جنم لیتی ہیں۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے نکاح میں آسانی کی ترغیب دی اور دین و اخلاق کو معیار بنانے کی تعلیم دی۔
گھریلو ناچاقیوں اور ظلم کا سبب
جہیز کی کمی یا توقعات پوری نہ ہونے کی وجہ سے بہت سی خواتین کو طعنے سننے پڑتے ہیں۔ بعض گھروں میں لڑکی کی عزت و وقار کو اس کے کردار اور اخلاق کے بجائے اس سامان سے ناپا جاتا ہے جو وہ اپنے ساتھ لائی ہے۔
یہ رویہ اسلامی تعلیمات کے سراسر خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شوہروں کو حکم دیا:
﴿وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾
سورۃ النساء آیت:19
"اور ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو۔"
جہاں محبت، رحمت اور حسنِ سلوک ہونا چاہیے وہاں اگر جہیز کی بنیاد پر تحقیر، طعن و تشنیع اور ظلم ہو تو یہ اسلامی تعلیمات کی صریح خلاف ورزی ہے۔
نمود و نمائش اور تفاخر کی بیماری
جہیز کی رسم نے معاشرے میں ایک اور خطرناک رجحان پیدا کیا ہے، اور وہ ہے نمود و نمائش اور باہمی مقابلہ بازی۔ لوگ اپنی حیثیت سے بڑھ کر خرچ کرتے ہیں تاکہ معاشرے میں اپنی شان و شوکت ظاہر کر سکیں۔ شادیوں میں مہنگے سامان، قیمتی تحائف اور غیر ضروری اخراجات کو عزت و وقار کی علامت سمجھ لیا گیا ہے۔
حالانکہ اسلام نے تکبر، فخر اور اسراف کی سخت مذمت کی ہے۔ حقیقی عزت مال و دولت میں نہیں بلکہ تقویٰ، کردار اور حسنِ اخلاق میں ہے۔
غیر مسلم تہذیبوں کی اندھی تقلید
شادی بیاہ کے معاملے میں مسلمانوں نے بہت سی ایسی رسومات اختیار کر لی ہیں جن کی بنیاد اسلامی تعلیمات پر نہیں بلکہ معاشرتی اور تہذیبی اثرات پر ہے۔ جہیز کی موجودہ صورت بھی انہی رسوم میں شامل ہے۔ مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ہر رسم و رواج کو قرآن و سنت کی کسوٹی پر پرکھیں، نہ کہ صرف اس لیے قبول کر لیں کہ معاشرہ اسے پسند کرتا ہے۔
عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ " .
رواہ ابوداؤد فی سننہ 4031
"جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے، وہ انہی میں سے ہے۔"
ہمارا کردار
کسی بھی معاشرتی برائی کا خاتمہ صرف قانون، تقریروں یا تحریروں سے نہیں ہوتا بلکہ عملی اصلاح سے ہوتا ہے۔ جہیز کے خاتمے کے لیے ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
1۔ نکاح کو آسان بنایا جائے
نکاح میں غیر ضروری اخراجات، بے جا رسومات اور مالی مطالبات سے اجتناب کیا جائے۔ سادگی کو باعثِ عار نہیں بلکہ باعثِ فخر سمجھا جائے۔
2۔ جہیز کے مطالبات کو مسترد کیا جائے
معاشرے میں یہ شعور پیدا کیا جائے کہ جہیز مانگنا اخلاقی اور دینی اعتبار سے ایک ناپسندیدہ عمل ہے۔ ایسے مطالبات کو عزت یا حق سمجھنے کے بجائے برائی تصور کیا جائے۔
3۔ نوجوان عملی عہد کریں
نوجوان نسل اس بات کا عزم کرے کہ وہ اپنی شادی میں جہیز کا مطالبہ نہیں کرے گی اور نہ ہی اپنے والدین کو اس بات کی اجازت دے گی کہ وہ کسی پر مالی دباؤ ڈالیں۔
4۔ اولاد کی اسلامی تربیت کی جائے
والدین اپنی اولاد کو بچپن ہی سے اسلامی اقدار، سادگی، قناعت اور حسنِ اخلاق کی تعلیم دیں تاکہ وہ زندگی کے اہم فیصلوں میں دین کو ترجیح دیں۔
5۔ مساجد اور مدارس اپنا کردار ادا کریں
علماء، ائمہ اور دینی ادارے اس موضوع پر مسلسل آگاہی فراہم کریں اور لوگوں کو قرآن و سنت کی صحیح تعلیمات سے روشناس کرائیں۔
6۔ سوشل میڈیا کا مثبت استعمال
موجودہ دور میں سوشل میڈیا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ اس کے ذریعے جہیز کے خلاف شعور بیدار کیا جا سکتا ہے اور سادہ نکاح کی کامیاب مثالیں عام کی جا سکتی ہیں۔
7۔ سادگی سے نکاح کرنے والوں کی حوصلہ افزائی
معاشرے کو چاہیے کہ وہ ان خاندانوں کی عزت افزائی کرے جو جہیز کے بغیر یا نہایت سادگی سے نکاح انجام دیتے ہیں، تاکہ دوسروں کو بھی ترغیب ملے۔
8۔ بیٹیوں کے بارے میں غلط تصورات ختم کیے جائیں
بیٹی اللہ تعالیٰ کی نعمت اور رحمت ہے۔ اسے بوجھ سمجھنا جاہلیت کی سوچ ہے۔ جس معاشرے میں بیٹی کو عزت ملے گی، وہاں جہیز جیسی رسومات خود بخود کمزور پڑ جائیں گی۔
9۔ نکاح کو عبادت سمجھا جائے
اگر نکاح کو سنتِ نبوی ﷺ اور عبادت سمجھ کر انجام دیا جائے تو اس میں دکھاوا، تکلف اور مالی مفادات کے لیے کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
اصلاح کی ابتدا اپنے گھر سے
حقیقت یہ ہے کہ جہیز کا خاتمہ صرف دوسروں کو نصیحت کرنے سے نہیں ہوگا، بلکہ ہر شخص کو اپنے گھر سے اس اصلاح کا آغاز کرنا ہوگا۔ اگر والدین، نوجوان، علماء، اساتذہ اور معاشرے کے ذمہ دار افراد اپنی اپنی سطح پر اس برائی کے خلاف کھڑے ہو جائیں تو وہ دن دور نہیں جب نکاح دوبارہ آسان، بابرکت اور سنت کے مطابق ہو جائے گا۔
معاشرے کی اصلاح فرد کی اصلاح سے شروع ہوتی ہے، اور فرد کی اصلاح اس وقت ممکن ہے جب وہ اپنی ذمہ داری کو پہچانے۔ لہٰذا ہم سب کا فرض ہے کہ جہیز سے پاک، باوقار اور اسلامی معاشرے کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
(اگلا حصہ: جامع خلاصہ، نتیجہ، اختتامی کلمات اور تاثرات)۔
حصہ چہارم
جامع خلاصہ، نتیجہ، اختتامی کلمات اور تاثرات
جامع خلاصہ
مذکورہ تفصیلات سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام نے نکاح کو آسان، بابرکت اور پاکیزہ رشتہ قرار دیا ہے، جبکہ جہیز کی موجودہ رسم نے اس مبارک عمل کو غیر ضروری بوجھ اور تکلفات میں الجھا دیا ہے۔ شریعتِ اسلامیہ نے عورت کو مہر کا حق عطا کیا ہے اور شوہر کو نان و نفقہ، رہائش اور دیگر ضروریات کا ذمہ دار بنایا ہے۔ قرآن و حدیث میں کہیں بھی یہ حکم موجود نہیں کہ لڑکی یا اس کے والدین شوہر یا اس کے خاندان کے لیے سامان، نقد رقم یا دیگر اشیاء فراہم کریں۔
لغوی اعتبار سے "جہیز" کا مطلب تیار شدہ سامان ہے، لیکن موجودہ معاشرتی اصطلاح میں اس سے مراد وہ سامان لیا جاتا ہے جو شادی کے موقع پر لڑکی والوں سے وصول کیا جاتا ہے۔ اگر والدین اپنی خوشی، محبت اور استطاعت کے مطابق اپنی بیٹی کو کچھ سامان بطور تحفہ دیں تو یہ جائز ہے، لیکن اسے لازم، واجب، حق یا نکاح کی شرط قرار دینا شرعاً درست نہیں۔
تاریخی جائزے سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ مطالباتی جہیز نہ اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے اور نہ ہی عہدِ نبوی ﷺ اور عہدِ صحابہ میں اس کا کوئی ثبوت ملتا ہے۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کے موقع پر چند ضروری اشیاء کا انتظام موجودہ اصطلاحی جہیز نہیں تھا، بلکہ ازدواجی زندگی کے آغاز کے لیے ضروری سامان کا بندوبست تھا جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے فراہم کردہ رقم سے کیا گیا تھا۔
مزید برآں، جہیز کی رسم نے معاشرے میں بے شمار خرابیاں پیدا کر دی ہیں۔ غریب والدین قرضوں کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں، بہت سی بچیوں کی شادیاں تاخیر کا شکار ہو جاتی ہیں، گھریلو ناچاقیاں جنم لیتی ہیں اور معاشرے میں نمود و نمائش، تفاخر اور مادہ پرستی کو فروغ ملتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نکاح میں سادگی، اعتدال اور تقویٰ کو اہمیت دیتا ہے، نہ کہ مال و متاع اور دنیاوی نمود و نمائش کو۔
نتیجہ
اسلامی تعلیمات کا غیر جانبدارانہ مطالعہ یہ ثابت کرتا ہے کہ جہیز نہ فرض ہے، نہ واجب، نہ سنتِ نکاح اور نہ ہی شوہر کا کوئی شرعی حق۔ شریعت نے مرد کو مہر ادا کرنے اور گھر کے اخراجات برداشت کرنے کا پابند بنایا ہے، جبکہ عورت کو عزت، احترام اور مالی تحفظ عطا کیا ہے۔
لہٰذا جہیز کا مطالبہ کرنا، اسے نکاح کی شرط بنانا، یا رشتوں کا فیصلہ مال و دولت کی بنیاد پر کرنا اسلامی تعلیمات اور سنتِ نبوی ﷺ کے مزاج کے خلاف ہے۔ اگر والدین اپنی بیٹی کو اپنی خوشی سے کوئی تحفہ دیں تو یہ ان کا احسان اور محبت ہے، لیکن اسے معاشرتی دباؤ، رسم یا حق کی حیثیت دینا درست نہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان قرآن و سنت کی طرف رجوع کریں، نکاح کو آسان بنائیں، مہر کو اہمیت دیں اور جہیز جیسی غیر شرعی رسموں سے اپنے معاشرے کو پاک کریں۔ جب نکاح کا معیار دین، اخلاق اور کردار بن جائے گا تو بہت سی معاشرتی برائیاں خود بخود ختم ہو جائیں گی اور ایک پاکیزہ، متوازن اور اسلامی معاشرہ وجود میں آئے گا۔
اختتامی کلمات
یہ امر خوش آئند ہے کہ آج معاشرے کے مختلف طبقات میں جہیز کے خلاف شعور بیدار ہو رہا ہے، لیکن محض شعور کافی نہیں، بلکہ عملی اقدامات بھی ضروری ہیں۔ جب تک ہم اپنی ذاتی زندگیوں، خاندانوں اور معاشرتی رویوں میں تبدیلی پیدا نہیں کریں گے، اس وقت تک اس ناسور کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہوگا۔
آئیے عہد کریں کہ ہم اپنی ذات سے اس اصلاح کا آغاز کریں گے، جہیز کے مطالبات کو رد کریں گے، سادہ نکاح کو فروغ دیں گے اور اپنی آنے والی نسلوں کو اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کی ترغیب دیں گے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں ایک پاکیزہ، خوشحال اور باوقار معاشرے کی طرف لے جا سکتا ہے۔والسلام