🏆 جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

Ansari Amena
09 Jun 2026
جہیز ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

تمہید

جہیز ہمارے معاشرے کی ایک ایسی برائی ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ ایک سنگین سماجی مسئلہ بن چکی ہے۔ بظاہر یہ رسم محبت اور تعاون کے اظہار کے لیے شروع ہوئی تھی، لیکن آج یہ لالچ، نمود و نمائش اور معاشی بوجھ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ بہت سے والدین اپنی بیٹیوں کی شادی کے لیے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی خرچ کر دیتے ہیں، قرض لیتے ہیں اور شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جہیز کو ایک "معاشرتی ناسور" کہا جاتا ہے جو معاشرے کی اخلاقی اور معاشی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔

1۔ جہیز کا مفہوم

جہیز سے مراد وہ سامان، نقد رقم، زیورات یا دیگر اشیاء ہیں جو شادی کے وقت لڑکی کے والدین اپنی بیٹی کو دیتے ہیں۔ اگر یہ سب کچھ والدین اپنی خوشی سے کریں تو یہ ایک تحفہ ہے، لیکن جب یہ مطالبہ، شرط یا معاشرتی دباؤ بن جائے تو یہ ایک نقصان دہ رسم بن جاتی ہے۔

3۔ قرآنِ مجید کی روشنی میں

(الف) نکاح کو آسان بنانے کا حکم

وَأَنْكِحُوا الْأَيَامَىٰ مِنْكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ ۚ إِنْ يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ

ترجمہ: "اور اپنے بے نکاح مردوں اور عورتوں کا نکاح کر دیا کرو۔ اگر وہ محتاج ہوں گے تو اللہ اپنے فضل سے انہیں غنی کر دے گا۔"

(سورۂ النور: 32)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اسلام نکاح کو آسان بنانے کی تعلیم دیتا ہے، جبکہ جہیز کی رسم شادیوں کو مشکل بناتی ہے۔

(ب) فضول خرچی کی ممانعت

وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا ۝ إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ

ترجمہ: "اور فضول خرچی نہ کرو، بے شک فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں۔"

(سورۂ الإسراء: 26-27)

جہیز کے نام پر لاکھوں روپے خرچ کرنا اور نمود و نمائش کرنا اس آیت کی تعلیمات کے خلاف ہے۔

(ج) عزت کا اصل معیار

إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ

ترجمہ: "بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔"

(سورۂ الحجرات: 13)

اسلام کے نزدیک عزت کا معیار تقویٰ اور اچھا کردار ہے، نہ کہ دولت اور جہیز۔

4۔ جہیز ایک معاشرتی ناسور کیوں؟

جہیز معاشرے میں متعدد مسائل پیدا کرتا ہے:

غریب خاندانوں پر مالی بوجھ بڑھتا ہے۔

شادیوں میں غیر ضروری تاخیر ہوتی ہے۔

خاندانی جھگڑے جنم لیتے ہیں۔

معاشرے میں طبقاتی فرق بڑھتا ہے۔

انسان کی قدر و قیمت دولت سے لگائی جاتی ہے۔


5۔ جہیز کے معاشی نقصانات

اہم نقصانات:

والدین قرض لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

زندگی بھر کی جمع پونجی ختم ہو جاتی ہے۔

دیگر بچوں کی تعلیم متاثر ہوتی ہے۔

مالی پریشانی پورے خاندان کو متاثر کرتی ہے۔

غربت میں اضافہ ہوتا ہے۔

کئی والدین اپنی بیٹی کی شادی کے لیے زمین، گھر یا زیورات تک فروخت کر دیتے ہیں، جو ایک افسوسناک صورتحال ہے۔

6۔ جہیز کے سماجی نقصانات

معاشرے میں نمود و نمائش کا رجحان بڑھتا ہے۔

امیر اور غریب کے درمیان فرق نمایاں ہو جاتا ہے۔

لڑکیوں کو بوجھ سمجھا جانے لگتا ہے۔

شادی کو کاروبار کی شکل دے دی جاتی ہے۔

رشتوں کی بنیاد کردار کے بجائے دولت پر رکھی جاتی ہے۔

7۔ جہیز کے نفسیاتی اثرات

جہیز کی رسم صرف مالی نقصان نہیں پہنچاتی بلکہ ذہنی اور نفسیاتی مسائل بھی پیدا کرتی ہے۔

لڑکی پر اثرات:

احساسِ کمتری

ذہنی دباؤ

خود اعتمادی میں کمی

والدین پر اثرات:

مسلسل پریشانی

قرض کا بوجھ

مستقبل کی فکر

8۔ جہیز اور خواتین کے حقوق

اسلام نے عورت کو عزت اور احترام دیا ہے، لیکن جہیز کی رسم عورت کو ایک بوجھ بنا کر پیش کرتی ہے۔ بعض اوقات کم جہیز لانے پر خواتین کو طعنے دیے جاتے ہیں اور ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا جاتا ہے۔ یہ رویہ اسلامی تعلیمات اور انسانی حقوق دونوں کے خلاف ہے۔

9۔ جہیز کی وجہ سے پیدا ہونے والی دیگر برائیاں

قرض داری

فضول خرچی

لالچ

نمود و نمائش

گھریلو جھگڑے

شادیوں میں تاخیر

احساسِ محرومی

سماجی ناانصافی

10۔ ہمارا کردار

جہیز کے خاتمے کے لیے معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

(الف) والدین کا کردار

بیٹیوں کی تعلیم پر توجہ دیں۔

جہیز کے لیے غیر ضروری بچت نہ کریں۔

سادہ شادیوں کو ترجیح دیں۔

جہیز کے مطالبات کو مسترد کریں۔

(ب) نوجوانوں کا کردار

جہیز لینے سے انکار کریں۔

کردار اور اخلاق کو ترجیح دیں۔

سادگی کو اپنائیں۔

دوسروں کے لیے مثال بنیں۔

(ج) علماء کا کردار

خطبات میں جہیز کے نقصانات بیان کریں۔

اسلامی تعلیمات کو عام کریں۔

سادہ نکاح کی حوصلہ افزائی کریں۔

(د) اساتذہ کا کردار

طلبہ میں شعور بیدار کریں۔

معاشرتی برائیوں کے خلاف آگاہی پیدا کریں۔

(ہ) میڈیا کا کردار

اصلاحی پروگرام نشر کرے۔

سادہ شادیوں کی مثالیں پیش کرے۔

جہیز مخالف مہمات چلائے۔

(و) حکومت کا کردار

مؤثر قوانین نافذ کرے۔

عوامی آگاہی مہمات چلائے۔

سادہ شادیوں کی حوصلہ افزائی کرے۔

11۔ جہیز کے خاتمے کے لیے عملی تجاویز

سادہ شادیوں کو فروغ دیا جائے۔

جہیز کے مطالبات کو مسترد کیا جائے۔

نوجوان جہیز نہ لینے کا عہد کریں۔

دینی تعلیمات کو عام کیا جائے۔

میڈیا کے ذریعے شعور بیدار کیا جائے۔

تعلیمی اداروں میں سیمینار منعقد کیے جائیں۔

والدین اپنی استطاعت سے بڑھ کر اخراجات نہ کریں۔

معاشرتی دباؤ کا مقابلہ کیا جائے۔

12۔ نتیجہ

جہیز ایک خطرناک معاشرتی ناسور ہے جو معاشی، سماجی اور اخلاقی مسائل کو جنم دیتا ہے۔ یہ رسم غریب خاندانوں کے لیے عذاب بن چکی ہے اور معاشرے میں ناانصافی، لالچ اور بے چینی کو فروغ دے رہی ہے۔ قرآن و سنت کی تعلیمات ہمیں سادگی، آسان نکاح اور تقویٰ کا درس دیتی ہیں۔ اگر والدین، نوجوان، علماء، اساتذہ، میڈیا اور حکومت مل کر جہیز کے خلاف جدوجہد کریں تو اس برائی کا خاتمہ ممکن ہے۔ ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ ہم جہیز کے مطالبے کی حوصلہ شکنی کریں گے اور ایک ایسے معاشرے کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں گے جہاں شادی محبت، احترام اور سادگی کی بنیاد پر ہو، نہ کہ دولت اور جہیز کی بنیاد پر۔

اے اللہ! ہمارے معاشرے کو جہیز جیسی بری رسم سے پاک فرما، نکاح کو آسان بنا، اور ہمیں اپنی زندگیوں میں اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین
© صدائے قلم پلیٹ فارم - تمام حقوق محفوظ ہیں۔
© 2026 SADA E QALAM. ALL RIGHTS RESERVED.