جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار
الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین۔
تمہید:
اللہ تعالیٰ نے انسان کو عزت و تکریم عطا فرمائی اور مرد و عورت کو ایک دوسرے کے لیے سکون کا ذریعہ بنایا۔ نکاح اسلام کا ایک مقدس اور بابرکت رشتہ ہے جس کا مقصد محبت، رحمت اور باہمی تعاون پر مبنی خاندان کی تشکیل ہے۔ لیکن افسوس کہ ہمارے معاشرے میں اس پاکیزہ عبادت کو مختلف رسومات اور غیر اسلامی روایات نے مشکل بنا دیا ہے۔معاشرے میں بعض ایسی برائیاں جنم لے لیتی ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ رسم و رواج کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ ان ہی برائیوں میں سے ایک خطرناک برائی جہیز ہے۔ بظاہر یہ ایک معاشرتی روایت نظر آتی ہے لیکن حقیقت میں یہ ایک ایسا ناسور ہے جو معاشرے کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر رہا ہے۔ اس کی وجہ سے بے شمار خاندان مالی مشکلات، ذہنی دباؤ اور معاشرتی ناانصافی کا شکار ہو رہے ہیں۔
انسانی معاشرے میں بعض رسمیں وقت کے ساتھ اتنی مضبوط ہو جاتی ہیں کہ لوگ انہیں دین اور شریعت کا حصہ سمجھنے لگتے ہیں، حالانکہ ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ جہیز بھی ایسی ہی ایک رسم ہے جو آج ہمارے معاشرے میں ایک خطرناک ناسور کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ اس کی وجہ سے نہ صرف غریب خاندان پریشان ہیں بلکہ نکاح جیسے مقدس اور آسان عمل کو بھی مشکل بنا دیا گیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ قرآنی آیات اور احادیث نبوی اس ناسور کے بارے میں کیا حکم دیتی ہیں ؟
اسلام نے عورت کو عزت، وقار اور حقوق عطا کیے ہیں۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ(النساء :19)
ترجمہ: "اور عورتوں کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی بسر کرو۔"
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام ازدواجی زندگی کی بنیاد محبت، احترام اور حسنِ سلوک پر رکھتا ہے، نہ کہ مال و دولت اور سامانِ جہیز پر۔ بدقسمتی سے آج بعض لوگ شادی کو آسان بنانے کے بجائے جہیز کی لمبی فہرستوں کے ذریعے بیٹی کی والدین پر بوجھ ڈال دیتے ہیں۔
اسلام نے نکاح کو آسان بنایا ہے لیکن جہیز کی لعنت نے اسے مشکل اور مہنگا بنا دیا ہے۔
قرآنِ کریم ہمیں سادگی، اعتدال اور آسانی کا درس دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
"يُرِيدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ" (البقرہ: 185)
ترجمہ: "اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے اور تم پر سختی نہیں چاہتا۔"
جہیز کی موجودہ رسم اس اسلامی تعلیم کے برعکس ہے کیونکہ اس سے نکاح آسان ہونے کے بجائے مشکل ہو جاتا ہے۔ بہت سے والدین اپنی بیٹیوں کی شادی کے لیے قرض لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور بعض اوقات غربت کے باعث بیٹیوں کی شادیاں برسوں تک مؤخر رہتی ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے نکاح کو آسان بنانے کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا:
"أَعْظَمُ النِّكَاحِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُ مَؤُونَةً" (مسند احمد)
ترجمہ: "سب سے زیادہ بابرکت نکاح وہ ہے جس میں کم سے کم خرچ ہو۔"
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ اسلام سادگی اور آسانی کو پسند کرتا ہے، جبکہ آج کے معاشرے میں جہیز اور فضول اخراجات کو عزت اور وقار کی علامت سمجھ لیا گیا ہے۔ حالانکہ حقیقی عزت انسان کے اخلاق، کردار اور تقویٰ میں ہے، نہ کہ فرنیچر، گاڑیوں یا قیمتی سامان میں۔ جہیز آج ایک معاشرتی ناسور کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اس نے نہ صرف لاکھوں خاندانوں کو معاشی مشکلات میں مبتلا کیا ہے بلکہ شادی جیسے آسان عمل کو بھی پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ایک والد جب اپنی بیٹی کو رخصت کرتا ہے تو اس کی آنکھوں میں خوشی کے ساتھ بے شمار دعائیں اور امیدیں بھی ہوتی ہیں۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کی بیٹی اپنے نئے گھر میں عزت، محبت اور سکون پائے۔ لیکن افسوس کہ ہمارے معاشرے میں وہ والد کیسے خوش ہو سکتا ہے جب اس کی بیٹی کی خوشیوں کا معیار اس کے اخلاق، تعلیم اور کردار کے بجائے جہیز کے سامان کو بنا دیا جاتا ہے۔
اس وقت ہمارے معاشرے نے جہیز کو ایک رسم سے بڑھا کر ایک خطرناک معاشرتی ناسور میں تبدیل کر دیا ہے۔
جبکہ اسلام نے انسان کی عزت کو مال و دولت سے نہیں بلکہ تقویٰ اور کردار سے جوڑا ہے۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
"إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ" (سورۃ الحجرات: 13)
ترجمہ: "بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔"
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ انسان کی قدر و منزلت اس کے تقویٰ سے ہے، نہ کہ اس دولت یا سامان سے جو وہ اپنے ساتھ لاتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بعض لوگ لڑکی کی شخصیت سے زیادہ اس کے جہیز کو اہمیت دیتے ہیں۔
اسلام میں شادی کے موقع پر عورت کا حق مہر مقرر کیا گیا ہے، نہ کہ جہیز۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً" (سورۃ النساء: 4)
ترجمہ: "اور عورتوں کو ان کے مہر خوش دلی سے ادا کرو۔"
یہاں اسلام نے مرد کو دینے والا اور عورت کو حق دار قرار دیا ہے، جبکہ جہیز کی رسم اس اسلامی اصول کو الٹ دیتی ہے۔
صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ: لِمَالِهَا وَلِحَسَبِهَا وَلِجَمَالِهَا وَلِدِينِهَا، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ" (صحیح مسلم)
ترجمہ: "عورت سے چار چیزوں کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے: مال، حسب و نسب، حسن اور دین۔ پس تم دین دار عورت کو ترجیح دو۔"
اس حدیث میں مال و دولت یا جہیز کو ترجیح دینے کے بجائے دین داری کو اصل معیار قرار دیا گیا ہے۔
صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :
"خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ"
ترجمہ: "تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو۔"
کیا وہ شخص بہترین کہلا سکتا ہے جو شادی سے پہلے یا بعد میں جہیز کے مطالبات کر کے ایک بیٹی اور اس کے والدین کو اذیت میں مبتلا کرے؟
یہ تعلیم ہمیں بتاتی ہے کہ ایک اچھا شوہر اور اچھا خاندان وہ ہے جو محبت اور حسنِ اخلاق سے رشتہ نبھائے، نہ کہ جہیز کی بنیاد پر عزت اور مقام کا تعین کرے۔
اگر ہم اپنے معاشرے کے زمینی حقائق کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جہیز کی وجہ سے ہزاروں خاندان شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ بہت سے والدین اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی صرف ایک شادی پر خرچ کر دیتے ہیں۔ بعض لوگ قرض لیتے ہیں اور کئی گھرانے معاشی تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض اوقات جہیز کم ہونے کی وجہ سے لڑکیوں کو طعنے دیے جاتے ہیں، ان پر ظلم کیا جاتا ہے یا ان کی ازدواجی زندگی متاثر ہوتی ہے۔جہیز کے نقصانات صرف مالی نہیں بلکہ اخلاقی اور سماجی بھی ہیں۔ یہ تمام رویے اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں ۔
بعض لوگ قرض لیتے ہیں، زمینیں بیچتے ہیں اور اپنی ضروریات قربان کر دیتے ہیں تاکہ معاشرے کے طعنے نہ سننے پڑیں۔ اس کے باوجود کئی بیٹیاں جہیز کم ہونے کی وجہ سے ظلم، طعنوں اور گھریلو تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ جہیز کی وجہ سے کئی غریب خاندان اپنی بیٹیوں کی شادی مؤخر کرتے رہتے ہیں۔ بعض لڑکیاں عمر گزر جانے کے باوجود صرف اس لیے رشتۂ ازدواج میں منسلک نہیں ہو پاتیں کہ ان کے والدین مطلوبہ جہیز فراہم کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ یہ صورتحال نہ صرف معاشرتی ناانصافی ہے بلکہ اسلامی تعلیمات کے بھی خلاف ہے۔
اگر ہم سیرتِ نبوی ﷺ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہؓ کا نکاح انتہائی سادگی سے فرمایا۔ وہاں نہ نمود و نمائش تھی، نہ فضول رسومات اور نہ ہی آج کے دور کی طرح بے جا مطالبات۔ یہی اسلامی طرزِ نکاح ہے جس میں آسانی، سادگی اور برکت ہے۔
سوال یہ ہے کہ اس ناسور کے خاتمے میں ہمارا کردار کیا ہونا چاہیے؟ اس ناسور کو ختم کرنے کے لئے قابل عمل تجاویز اور عملی حل کیا ہے ؟
جہیز کا ناسور صرف ایک فرد یا ایک خاندان کی کوشش سے ختم نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے لیے پورے معاشرے کو متحد ہو کر کام کرنا ہوگا۔
سب سے پہلے ہر شخص کو اپنی ذات سے آغاز کرنا چاہیے ہمیں اپنی سوچ بدلنی ہوگی۔ معاشرے کی اصلاح ہمیشہ فرد سے شروع ہوتی ہے۔ اگر ہر شخص یہ عہد کر لے کہ وہ جہیز نہ لے گا اور نہ اس کا مطالبہ کرے گا اور نہ ہی اس رسم کی حوصلہ افزائی کرے گا۔ تو یہ برائی بڑی حد تک ختم ہو سکتی ہے ۔
والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کی تربیت اسلامی اصولوں کے مطابق کریں ۔ ان کی ایسی تربیت کریں جس میں سادگی، قناعت اور اسلامی اقدار کو اہمیت دی جائے۔ اور انہیں یہ سمجھائیں کہ عزت کا معیار دولت اور سامان نہیں بلکہ تقویٰ اور اچھا کردار ہے۔
نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ جہیز کے خلاف عملی موقف اختیار کریں۔ وہ اپنی شادیوں کو آسان بنائیں اور جہیز کے بغیر نکاح کو باعثِ فخر سمجھیں۔ اگر لڑکے اور ان کے خاندان خود جہیز لینے سے انکار کر دیں تو اس برائی کا بڑا حصہ ختم ہو سکتا ہے۔جو نوجوان خود جہیز لینے سے انکار کرتا ہے، وہ دراصل ایک خاندان کو معاشی بوجھ سے بچاتا اور معاشرے میں ایک مثبت مثال قائم کرتا ہے۔
اساتذہ اسکولوں اور کالجوں میں طلبہ کو جہیز کے نقصانات سے آگاہ کریں اور ان کے اندر یہ شعور پیدا کریں کہ معاشرے کی اصلاح ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔
علماء کرام مساجد، مدارس اور دینی اجتماعات میں نکاح کی سادگی اور جہیز کی خرابیوں پر روشنی ڈالیں۔ جمعہ کے خطبات اور دینی مجالس کے ذریعے عوام میں بیداری پیدا کی جا سکتی ہے۔ یعنی علمائے کرام، اساتذہ، خطباء اور میڈیا پر بھی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات کو عام کریں، سادہ نکاح کی ترغیب دیں اور جہیز کے نقصانات سے لوگوں کو آگاہ کریں۔
حکومت اور سماجی اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ سادہ شادیوں کی حوصلہ افزائی کریں اور ایسے پروگرام ترتیب دیں جو اس لعنت کے خاتمے میں مددگار ثابت ہوں۔
محلوں، قصبوں اور دیہاتوں کی سطح پر بھی اصلاحی مہمات چلائی جا سکتی ہیں۔ مقامی کمیٹیاں تشکیل دی جا سکتی ہیں جو سادہ شادیوں کی حوصلہ افزائی کریں۔
شادی کی تقریبات میں غیر ضروری اخراجات اور جہیز کی نمائش کو ختم کیا جائے اگر کسی علاقے کے لوگ اجتماعی طور پر یہ فیصلہ کر لیں کہ جہیز نہیں لیا جائے گا تو یہ برائی تیزی سے کم ہو سکتی ہے۔
سوشل میڈیا، اخبارات، رسائل اور الیکٹرانک میڈیا کو بھی چاہیے کہ وہ جہیز کے خلاف شعور بیدار کریں۔ بغیر جہیز کے کامیاب شادیوں کی مثالیں عام کی جائیں تاکہ لوگوں کی سوچ میں مثبت تبدیلی آئے۔
نوجوان اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس، مضامین کے ذریعے اس پیغام کو پھیلا سکتے ہیں کہ عزت اور خوشی کا تعلق جہیز سے نہیں بلکہ محبت، اخلاق اور باہمی احترام سے ہے۔
سماجی تنظیمیں، فلاحی ادارے اور مقامی رہنما بھی عوامی اجتماعات، سیمینارز اور آگاہی پروگرام منعقد کر سکتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ جہیز کے خلاف موجود قوانین پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنائے اور عوام میں اس حوالے سے شعور پیدا کرے۔
مختصراً، جب گھر، اسکول، مسجد، محلہ، قصبہ، گاؤں، میڈیا اور حکومت سب مل کر اپنا کردار ادا کریں گے تو جہیز جیسی لعنت کا خاتمہ ممکن ہو جائے گا اور ایک ایسا معاشرہ وجود میں آئے گا جہاں شادی آسان اور ہر بیٹی باعزت ہوگی۔
اگر ہر فرد اپنے گھر سے اس اصلاح کا آغاز کرے تو رفتہ، رفتہ یہ برائی ختم ہو سکتی ہے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ معاشرے کی اصلاح حکومتوں سے پہلے افراد کی اصلاح سے شروع ہوتی ہے۔
اختتام:
ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جہیز ایک خطرناک معاشرتی ناسور ہے جس نے نکاح جیسے مقدس رشتے کو بوجھ بنا دیا ہے۔ قرآن و سنت کی تعلیمات ہمیں سادگی، مساوات اور انسانیت، عدل اور آسانی کا درس دیتی ہیں۔ اگر ہم ان تعلیمات پر عمل کریں اور جہیز کے خلاف عملی جدوجہد کریں تو ایک ایسا معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے جہاں نکاح آسان، خاندان خوشحال اور معاشرہ زیادہ پرامن اور متوازن ہو۔ اگر ہم قرآن و سنت کی تعلیمات کو اپنالیں تو اس ناسور کا خاتمہ ممکن ہے۔
ہمیں یہ عہد کرنا ہو گا کہ نہ ہم جہیز لیں گے، نہ جہیز کا مطالبہ کریں گے اور نہ ہی اس رسم کی حوصلہ افزائی کریں گے۔ یہی ایک مسلمان، ایک ذمہ دار شہری اور ایک باکردار انسان کا کردار ہے۔ جب ہمارا کردار بدلے گا تو معاشرہ بھی بدلے گا، اور تب ہی ہم ایک ایسے معاشرے کی تعمیر کر سکیں گے جہاں بیٹی کو رحمت سمجھا جائے، بوجھ نہیں۔
"جہیز کا خاتمہ قانون سے نہیں، شعور، کردار اور اسلامی تعلیمات پر عمل سے ممکن ہے۔
نتیجہ:
جہیز ایک ایسی معاشرتی برائی ہے جس نے بے شمار خاندانوں کی خوشیوں کو متاثر کیا ہے اور معاشرے میں کئی مسائل کو جنم دیا ہے۔ بظاہر یہ ناسور بہت پرانا اور گہرا دکھائی دیتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ لاعلاج نہیں۔ اگر ہم اپنی سوچ بدلیں، اسلامی تعلیمات کو اپنائیں، سادہ شادیوں کو فروغ دیں اور جہیز لینے اور دینے سے اجتناب کریں تو اس برائی کا خاتمہ ممکن ہے۔ معاشرے کی اصلاح کا آغاز ہر فرد کو اپنی ذات سے کرنا ہوگا۔ جب افراد، خاندان اور معاشرہ مل کر اس کے خلاف کھڑے ہوں گے تو یقیناً ایک بہتر اور پاکیزہ معاشرہ وجود میں آئے گا جہاں عزت و وقار کا معیار کردار ہوگا، دولت نہیں ۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی زندگیوں کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے اور اس معاشرتی برائی کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔