ہمارا دین اسلام پاکیزہ اور آسان دین ہے _ اسلام نے نکاح کو آسان اور زنا کو مشکل بنایا ہے _ لیکن افسوس کہ آج ہمارے معاشرے میں کئی غیر اسلامی رسم و رواج نے جنم لے لیا ہے جن میں سب سے خطرناک رسم جہیز ہے _ جہیز نے بے شمار غریب خاندانوں کو پریشانی، قرض اور ذلت میں مبتلا کر دیا ہے اسی لیے جہیز کو ایک معاشرتی ناسور کہا جاتا ہے_
ہمھیں چاہۓ ہم اس پر غور و فکر کریں اور اس کا حل تلاش کرے
اس کے لئے ہمھیں سمجھنا ہوگا کہ جہیز کیا ہے یہ برائی کس طرح پروان چڑھی ہے اور اس سے بچنے میں ہمارا کیا کردار ہوسکتا ہے
*جہیز*
جہیز عربی زبان کے لفظ 'جَهَّزَ' سے نکلا ہے جس کا مطلب سامان تیار کرنا ہے _
جہیز کا معنی ہوتا ہے وہ سامان جو عورت کے گھر کی ضرورتیں ہیں تو گھر کی ضرورتیں اس کے شوہر کے ذمے ہیں جس کی وہ بیوی ہے ، باپ کے ذمے نہیں ہے لوگ سمجھتے جہیز اس سامان کو کہتے ہیں جو لڑکی کے والدین شادی کے موقع پر اپنی بیٹی کو یا داماد کے گھر والوں کو دیتے ہیں _ اگرچہ بعض اوقات یہ سامان خوشی سے دیا جاتا ہے لیکن اکثر معاشرے میں یہ ایک لازمی رسم بن چکا ہے اور اس کا مطالبہ کیا جاتا ہے جو ظلم اور ناانصافی ہے _
اسلام نے لڑکی والوں پر جہیز کو فرض نہیں کیا، بلکہ شوہر پر مہر کو لازم قرار دیا ہے_ لہٰذا جہیز ایک معاشرتی رسم ہے شرعی فریضہ نہیں _
اسلام میں کسی ایسے رسم کی گنجائش نہیں جو لوگوں پر بوجھ بن جائے اور انہیں قرض و پریشانی میں ڈال دے
اگر کوئی شخص لڑکی والوں سے جہیز کا مطالبہ کرتا ہے تو وہ گویا دوسروں کے مال کی طرف رغبت کر رہا ہے جبکہ قرآن خودداری قناعت اور اللہ پر بھروسہ کی تعلیم دیتا ہے_ لہٰذا مسلمان کو نکاح میں مطالبات کے بجائے سادگی اور قناعت اختیار کرنی چاہیے
*نبی کریم ﷺ اور جہیز*
نبی کریم ﷺ نے اپنی بیٹیوں کی شادیوں میں جہیز کا وہ تصور نہیں دیا جو آج ہمارے معاشرے میں رائج ہے۔ آپ ﷺ نے نکاح کو آسان بنایا اور سادگی کو پسند فرمایا
*بی بی فاطمہ کا جہیز یا؟؟؟؟*
لوگوں کے ذہن میں یہ دلیل آتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کو جہیز دیا تھا وہ اس کو بطور دلیل کے پیش کرتے ہیں کہتے ہیں فاطمہ الزہرا کا یہ جہیز تھا آپ مجھے بتائیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی چار بیٹیاں ہیں ایک بیٹی تو نہیں ہے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ عدل کرنے والا کون ہے ؟ اگر جہیز دیا ہوتا تو حضور چاروں کو دیتے _ یہ تو نہیں تھا کہ ایک کو جہیز دیتے اور تین کو محروم فرما دیتے جب تین کو نہیں دیا تو اس کا معنی ہے یہ جہیز نہیں تھا
پھر یہ کیا تھا؟ حضرت علی کرم اللہ وجہہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت میں تھے بچپن سے حضرت علی حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہی جوان ہوئے _ ان کو گویا بیٹے کی طرح پالا تھا اب حضرت علی جب جوان ہوئے تو ان کے نکاح کا مسئلہ تھا اگر حضرت فاطمتہ الزہرا سے نکاح نہ ہوتا کسی اور عورت سے ہوتا تو حضرت علی کو گھر کا سامان کس نے دینا تھا ؟ (سامعین۔ حضور پاک نے) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹا جو بنارکھا تھا جب فاطمتہ الزہرا سے نکاح کر دیا تو پھر ساتھ سامان بھی دینا تھا
اگر زہرا نہ آتی کوئی اور آتی سامان تو تب بھی دینا تھا _حقیقت اس کی یہ تھی اور ہم سمجھتے ہیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زہرا کو جہیز عطا فرما دیا
اللہ پاک ہمیں یہ بات سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین )
اگر زیادہ جہیز عزت اور فضیلت کی چیز ہوتی تو رسول اللہ ﷺ اس میں سب سے آگے ہوتے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹیوں کو جہیز دیا ہی نہیں
*صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا عمل*
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے سادگی کے ساتھ نکاح کیے _ ان کے ہاں جہیز کا مطالبہ نہیں کیا جاتا تھا_ کئی صحابہ ایسے تھے جن کے پاس مہر ادا کرنے کے لیے بھی زیادہ مال نہیں تھا، لیکن پھر بھی ان کے نکاح آسانی سے کر دیے گئے
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے دور میں نکاح سادگی، تقویٰ اور مہر کی بنیاد پر ہوتے تھے _ جہیز کے مطالبات، نمود و نمائش اور لڑکی والوں پر مالی بوجھ ڈالنے کا کوئی تصور نہ تھا _ یہی وجہ ہے کہ ان کے معاشرے میں نکاح آسان اور برکت والے تھے
*نکاح میں آسانی کی فضیلت*
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ أَعْظَمَ النِّكَاحِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُ مَؤُونَةً
سب سے زیادہ برکت والا نکاح وہ ہے جس میں سب سے کم خرچ ہو
(مسند أحمد)
عورت سے مال کی وجہ سے نکاح نہ کرنے کی تلقین
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ... فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ
عورت سے چار چیزوں کی بنا پر نکاح کیا جاتا ہے... پس دیندار عورت کو ترجیح دو
(صحیح البخاری، صحیح مسلم)
سب سے بہتر نکاح
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
خَيْرُ النِّكَاحِ أَيْسَرُهُ
بہترین نکاح وہ ہے جو سب سے زیادہ آسان ہو
سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جس میں خرچ کم ہو
*ایک مسئلہ*
اگر والدین اپنی بیٹی کو اپنی خوشی سے کچھ سامان یا تحفہ دینا چاہیں تو یہ جائز ہے لیکن اسے شرط بنانا یا اس کا مطالبہ کرنا درست نہیں
فقہاء نے لکھا ہے کہ لڑکی والوں سے زبردستی مال یا سامان کا مطالبہ کرنا ظلم ہے
چاروں ائمہ کرام رحمہم اللہ کے نزدیک نکاح کے لیے جہیز ضروری نہیں _ اسلام نے شوہر پر مہر کو لازم کیا ہے، لڑکی والوں پر جہیز کو نہیں _ اس لیے جہیز کا مطالبہ شرعی فریضہ نہیں بلکہ ایک معاشرتی رسم ہے جس سے حتی المقدور بچنا چاہیے
*جہیز کے نقصانات*
غریب والدین قرض کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں _
بیٹیوں کی شادیاں تاخیر کا شکار ہوتی ہیں _
معاشرے میں احساسِ کمتری پیدا ہوتا ہے _
گھریلو جھگڑے اور طلاق کی شرح بڑھتی ہے _
نکاح جیسی عبادت رسم و رواج کی نذر ہو جاتی ہے _
حضرت عمر نے نکاح میں بے جا اخراجات اور تکلفات سے بچنے کی تلقین فرمائی تاکہ لوگوں پر بوجھ نہ پڑے
حضرت عمرؓ نے نکاح کو آسان بنانے کی تلقین فرمائی اور رسول اللہ ﷺ کی سنت بھی یہی ہے کہ نکاح میں سادگی اختیار کی جائے _
آج اگر ہم جہیز، رسم و رواج اور نمود و نمائش کو چھوڑ دیں تو ہزاروں گھر آسانی سے آباد ہو سکتے ہیں _
اگرچہ آج جہیز بہت عام ہو چکا ہے، لیکن اس سے بچنا ممکن ہے۔ چند عملی طریقے یہ ہیں:
1. شروع ہی میں شرط واضح کر دیں
رستہ طے کرتے وقت صاف الفاظ میں کہہ دیا جائے:
"ہم نکاح سنت کے مطابق کریں گے، جہیز نہ لیں گے اور نہ اس کا مطالبہ کریں گے۔"
2. سادگی کو عزت سمجھیں
معاشرے کے ڈر سے نہیں بلکہ اللہ کی رضا کے لیے سادہ نکاح کیا جائے۔ آج بہت سے گھر صرف رسم و رواج کی وجہ سے قرض میں ڈوب جاتے ہیں۔
3. نوجوان عہد کریں
لڑکے خود اعلان کریں:
"مجھے جہیز نہیں چاہیے، مجھے نیک اور بااخلاق شریکِ حیات چاہیے۔"
جہیز کی رسم کے خاتمے میں سب سے بڑا کردار نوجوانوں کا ہے۔
4. تحفہ اور جہیز میں فرق سمجھیں
اگر والدین اپنی خوشی سے بیٹی کو کچھ دینا چاہیں تو یہ تحفہ ہے، لیکن مطالبہ، دباؤ یا شرط کے تحت دیا جانے والا سامان جہیز کی رسم کا حصہ بن جاتا ہے۔
5. علماء اور خاندان آگاہی پھیلائیں
نکاح کے خطبات، اجتماعات اور گھریلو نشستوں میں سادگی نکاح کی اہمیت بیان کی جائے
*ایک خوبصورت پیغام*
جہیز سے گھر نہیں بستے، بلکہ محبت، تقویٰ، حسنِ اخلاق اور باہمی احترام سے بستے ہیں۔ اگر ہر نوجوان ایک بیٹی کا نکاح بغیر جہیز کے کر لے تو یہ رسم چند سالوں میں ختم ہو سکتی ہے