🏆 جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

Afifa
08 Jun 2026
جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار--- ---------------------------------------- جہیز ایک ایسا سماجی ناسور ہے جس نے ہمارے معاشرے کی جڑوں کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیا ہے۔ یہ وہ رسم ہے جو بظاہر محبت، عزت اور خوشی کے نام پر شروع ہوتی ہے مگر رفتہ رفتہ ایک بھاری بوجھ، ایک نفسیاتی دباؤ اور ایک ظالمانہ روایت میں بدل جاتی ہے۔ اسلام جو انسانیت کی فلاح، عدل اور آسانی کا دین ہے، اس نے نکاح جیسے مقدس بندھن کو انتہائی سادہ، پاکیزہ اور بابرکت بنایا ہے، مگر افسوس کہ ہم نے اپنی جہالت، رسم و رواج کی غلامی اور دکھاوے کی نفسیات کے سبب اسے پیچیدہ اور مشکل بنا دیا ہے۔ جہیز اسی بگاڑ کی ایک نمایاں شکل ہے جس نے معاشرتی توازن کو متاثر کیا ہے۔
اصل میں جہیز اگر ایک سادہ تحفہ ہو، بغیر کسی دباؤ اور شرط کے، تو اسے کسی حد تک معاشرتی نرمی اور خاندانی محبت کے اظہار کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، لیکن جب یہی عمل ایک لازمی تقاضا، سماجی معیار اور عزت و بے عزتی کا پیمانہ بن جائے تو یہ ظلم کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ لڑکی کی قابلیت، کردار اور دین داری کے بجائے اس کے ساتھ آنے والے سامان کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ یہ طرزِ فکر نہ صرف اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے بلکہ انسانی عقل اور فطرت کے بھی منافی ہے۔
قرآن مجید نے انسانی تعلقات کی بنیاد عدل، تقویٰ اور آسانی پر رکھی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ "اللہ تمہارے ساتھ آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا" (البقرہ)۔ یہ اصول صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے تمام معاملات، خصوصاً نکاح جیسے اہم معاشرتی بندھن پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ خود آسانی کا حکم دیتا ہے تو پھر انسانوں کا یہ رویہ کہ وہ شادی کو مشکل سے مشکل تر بنا دیں، کس طرح درست ہو سکتا ہے؟ اسی طرح قرآن میں نیکی اور عزت کا معیار مال و دولت نہیں بلکہ تقویٰ قرار دیا گیا ہے۔ "بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے" (الحجرات)۔ اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ کسی بھی انسان کی اصل قدر اس کے اخلاق اور کردار میں ہے، نہ کہ اس کے لائے گئے جہیز یا مال و اسباب میں۔
نبی کریم ﷺ کی حیاتِ طیبہ ہمارے لیے کامل نمونہ ہے۔ آپ ﷺ نے نہ صرف اپنی امت کو سادگی کی تعلیم دی بلکہ عملی طور پر بھی اسے ثابت کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جو سب سے کم خرچ والا ہو۔ یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اسلام شادی کے عمل کو بوجھ نہیں بلکہ سہولت بنانا چاہتا ہے۔ حضرت فاطمہؓ کی شادی کا واقعہ اس بات کی روشن مثال ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی سب سے پیاری بیٹی کے لیے بھی سادگی کو اختیار کیا۔ نہ غیر ضروری سامان، نہ رسم و رواج کا ہجوم، نہ معاشرتی نمائش بلکہ ایک پاکیزہ، سادہ اور بابرکت بندھن قائم ہوا۔ اگر یہ اسلام کا معیار ہے تو پھر آج ہمارا معیار اتنا بگڑا ہوا کیوں ہے؟
جہیز کی لعنت نے معاشرے میں کئی سنگین مسائل کو جنم دیا ہے۔ سب سے پہلا نقصان یہ ہے کہ لڑکی کو ایک بوجھ سمجھا جانے لگا ہے۔ بعض گھرانوں میں بیٹی کی پیدائش پر خوشی کے بجائے پریشانی پیدا ہو جاتی ہے کہ اس کی شادی کے وقت کتنا خرچ برداشت کرنا پڑے گا۔ یہ سوچ نہایت ظالمانہ اور غیر انسانی ہے۔ دوسرا بڑا نقصان یہ ہے کہ غریب اور متوسط طبقہ شدید مالی دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔ لوگ اپنی زمینیں بیچ دیتے ہیں، قرض لیتے ہیں اور زندگی بھر اس بوجھ کو اٹھاتے ہیں صرف اس لیے کہ معاشرتی رسومات پوری کر سکیں۔ یہ صورتحال نہ صرف اقتصادی تباہی کا سبب بنتی ہے بلکہ ذہنی دباؤ اور خاندانی انتشار کو بھی جنم دیتی ہے۔
اس کے علاوہ جہیز کی وجہ سے شادیوں میں تاخیر ایک عام مسئلہ بن چکا ہے۔ کئی لڑکیاں صرف اس لیے بروقت شادی نہیں کر پاتیں کہ ان کے والدین مطلوبہ جہیز مہیا نہیں کر سکتے۔ اس تاخیر کے نتیجے میں کئی نفسیاتی اور سماجی پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔ بعض اوقات یہی مسئلہ جھگڑوں، طلاق اور گھریلو تشدد تک جا پہنچتا ہے، جو کہ ایک صحت مند معاشرے کی تباہی کے مترادف ہے۔
اسلام نے نکاح کو آسان بنانے کا حکم دیا ہے تاکہ معاشرہ پاکیزہ اور متوازن رہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ نکاح کو آسان بناؤ ۔ جب شادی جیسے پاکیزہ عمل کو ہم مشکل بنا دیتے ہیں تو اس کے نتیجے میں معاشرے میں برائیاں جنم لیتی ہیں۔ اس لیے جہیز کی رسم نہ صرف ایک سماجی برائی ہے بلکہ اخلاقی انحطاط کا ذریعہ بھی ہے۔
ہمارے معاشرے کی اصلاح کے لیے سب سے اہم چیز فکر کی تبدیلی ہے۔ جب تک سوچ نہیں بدلتی، نظام نہیں بدل سکتا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ لڑکی کوئی سودا نہیں جس کے ساتھ سامان کا تقابل کیا جائے، بلکہ وہ ایک عزت دار انسان ہے جس کا مقام اس کے کردار اور دین میں ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی بیٹیوں کو محبت اور اعتماد کے ساتھ رخصت کریں نہ کہ بوجھ سمجھ کر۔ لڑکوں کو بھی چاہیے کہ وہ جہیز کی کوئی شرط نہ رکھیں اور نکاح کو سنت کے مطابق آسان بنائیں۔
اسی طرح معاشرتی سطح پر بھی اصلاح کی ضرورت ہے۔ اگر ہم اجتماعی طور پر یہ عہد کر لیں کہ ہم سادہ شادیاں کریں گے، فضول خرچی سے بچیں گے اور رسم و رواج کی غلامی کو چھوڑ دیں گے تو یہ ناسور ختم ہو سکتا ہے۔ علماء کرام کا کردار بھی یہاں نہایت اہم ہے کہ وہ مسلسل اس برائی کے خلاف آواز بلند کریں اور لوگوں کو قرآن و سنت کی اصل تعلیمات سے روشناس کرائیں۔ حکومت بھی قوانین اور آگاہی مہم کے ذریعے اس برائی کے خاتمے میں کردار ادا کر سکتی ہے، لیکن اصل تبدیلی دلوں اور ذہنوں میں آنی چاہیے۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے ہمیں جو نظام دیا ہے وہ مکمل، خوبصورت اور متوازن ہے۔ اگر ہم اس پر عمل کریں تو نہ صرف جہیز جیسی برائیاں ختم ہو سکتی ہیں بلکہ ایک پُرامن، خوشحال اور باوقار معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے۔ افسوس کہ ہم نے دین کی اصل روح کو چھوڑ کر رسموں کو اپنا دین بنا لیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم واپس اس راستے کی طرف آئیں جو ہمیں سادگی، عدل اور انسانیت کی طرف لے جاتا ہے۔
اگر ہم نے آج بھی اپنی سوچ نہ بدلی تو یہ ناسور مزید گہرا ہوتا جائے گا، لیکن اگر ہم نے قرآن و سنت کی روشنی میں اصلاح کر لی تو آنے والی نسلیں ایک بہتر اور پاکیزہ معاشرہ دیکھ سکیں گی جہاں عزت کا معیار مال نہیں بلکہ کردار ہوگا، اور شادی ایک بوجھ نہیں بلکہ رحمت بن جائے گی۔ان شاء اللہ العزیز، اگر ہم اخلاص کے ساتھ اپنی سوچ اور عمل کی اصلاح کریں گے تو جہیز جیسی برائیوں کا خاتمہ ممکن ہوگا اور ہمارا معاشرہ سادگی، عدل اور اسلامی اقدار کا حقیقی نمونہ بن جائے گا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے معاشرے کو جہیز جیسی ظالمانہ رسم سے نجات عطا فرمائے، ہمارے دلوں میں قرآن و سنت کی حقیقی تعلیمات کی محبت پیدا کرے، اور ہمیں نکاح کو آسان، بابرکت اور سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق بنانے کی توفیق دے۔ اے اللہ! والدین کو اپنی اولاد کے حقوق احسن طریقے سے ادا کرنے کی ہمت عطا فرما، نوجوانوں کو سادگی، تقویٰ اور اچھے اخلاق کی راہ پر چلنے کی توفیق دے، اور ہمارے معاشرے سے فضول رسم و رواج، نمود و نمائش اور بے جا توقعات کا خاتمہ فرما۔ ہمیں عدل، رحم، محبت اور باہمی احترام کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرما، تاکہ ہماری آنے والی نسلیں ایک پاکیزہ، خوشحال اور باوقار معاشرے میں پروان چڑھ سکیں۔ آمین یا رب العالمین۔
© صدائے قلم پلیٹ فارم - تمام حقوق محفوظ ہیں۔
© 2026 SADA E QALAM. ALL RIGHTS RESERVED.