*مضمون*
*"جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار"*
*تعارف:-* جہیز ان تحائف اور اثاثوں کو کہا جاتا ہے جو لڑکی کے والدین کی جانب سے لڑکی اور اس کے شوہر کو دیئے جاتے ہیں۔ نقد رقم، زیورات، فرنیچر، گاڑی اور دیگر اشیاء ہیں جو دی جاتی ہیں۔ اگرچہ یہ لفظ بیٹی کو رخصت کرتے وقت والدین کی جانب سے محبت کے تحفے کے طور پر استعمال ہوتا تھا لیکن آج کے دور میں یہ ایک بھیانک سماجی برائی اور لعنت بن چکا ہے۔
*جہیز کا رواج اور اس کی وجوہات:-* یہ رواج قدیم زمانے سے چلا آ رہا ہے کچھ لوگ اسے لڑکے کا حق قرار دیتے جبکہ کچھ اسے معاشرتی دباؤ اور ریشہ دوانی کا ذریعہ بناتے ہیں۔ آج کل متوسط اور غریب طبقے پر جہیز کا بوجھ انتہائی بھاری ہے۔لڑکی کے والدین کو قرض لینا پڑتا ہے، گھر بیچنا پڑتا ہے یا وہ زندگی بھر کی جمع پونجی خرچ کر دیتے ہیں۔لڑکے والے بے جھجھک گاڑی، بنگلہ، فلیٹ، لاکھوں روپے نقد اور سونے کے سیٹ کا مطالبہ کرتے ہیں اور اگر ان کا مطالبہ پورا نہ ہو تو شادی ٹوٹ جاتی ہے یا بعد میں لڑکی کو تنگ کیا جاتا ہے۔ شادی کے موقعے پر لڑکے والوں کی جانب سے اشاروں کنایوں میں یا کھلے عام ہی جن اشیاء کا مطالبہ کیا جاتا ہے وہ مطالبات اکثر لڑکی والوں کی حیثیت سے بڑھ کر ہوتے ہیں جس کی بدولت ان کے والدین یہ مطالبات پورے کرنے کے لئے اپنی کل جمع پونجی لٹا دیتے ہیں یا پھر بھاری قرض لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں..
کیسے جہیز دے کیسے کرے شادیاں
جس گھر میں ہوں دو چار بیٹیاں
*معاشرتی اور معاشی اثرات:-* اس لعنت کے معاشرے پر انتہائی تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
*غریب والدین کی بے بسی :-* اسی جہیز نامی لعنت کی بدولت ہی غریب اور متوسط طبقے کے والدین آج بیٹی کی پیدائش کو رحمت کے بجائے بوجھ سمجھتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ معاشرے کی مانگ کو پوری نہیں کر سکتے بقول شاعرؔ...
ماں باپ کا گھر بکا تو بیٹی کا گھر بسا
ہے کتنی نامراد یہ رسمِ جہیز بھی
*شادیوں میں تاخیر :-* آج بہت سی بیٹیوں کی عمریں گزری جا رہی ہیں اور ان کا رشتہ نہیں ہو پا رہا ہے کیوں؟ کیونکہ ان کے والدین میں اس قدر جہیز دینے کی استطاعت نہیں۔ کیونکہ وہ اپنا آپ بیچ کر بھی لڑکے کے والدین کی خواہش پوری نہیں کر سکتے اور اپنے والدین کا یہ درد اُن بیٹیوں کو اندر سے گُھلا دیتا ہے...
بوڑھی ہوئی غریب کی بیٹی شباب میں
غربت نے رنگ و روپ نکھرنے نہیں دیا
*گھریلو تشدد اور طلاق:-* ہمارے معاشرے کے پڑھے لکھے اور خود کو بلند خیالات کے حامل بتلانے والے بعض حضرات تو اپنی بلند خیالی کے باوجود اتنے پست کردار ہیں کہ اگر لڑکی انکی مانگ کے مطابق جہیز کی تمام اشیاء لے کر نہ آئی تو اسکا استحصال کرتے ہیں، اس پہ بے دریغ تشدد کرتے ہیں، اسے ذہنی و جسمانی اذیتیں پہنچائی جاتی ہیں حتی کہ بات طلاق اور پھر خودکشی تک آ جاتی ہے۔
*لڑکیوں کی پیدائش میں کمی:-* اسی کے سبب بہت سے والدین بیٹی جیسی رحمت کو اب زحمت سمجھنے لگے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ بعض جگہوں پہ پیدائش سے قبل ہی بچی کا تشخص یعنی پہچان کرا کر اسے ضائع کر دیا جاتا ہے ۔ یہ والدین ایک مصیبت سے خود کو بچانے کی کوشش کے دوران دوسرے بڑے گناہ میں خود کو ملوث کر لیتے ہیں۔
*لڑکیوں کی تعلیم اور ترقی میں رکاوٹ:-* اب والدین بچی کی تعلیم پہ خرچ کرنے کے بجائے اس کی شادی اور جہیز جمع کرنے پہ زیادہ توجہ دیتے ہیں اور نتیجتا وہ بچی تعلیم و تربیت سے محروم رہ جاتی ہے اور کہیں نہ کہیں اس میں گھر سنبھالنے کی وہ اعلی صلاحیات نہیں اجاگر نہیں ہو پاتیں جو ایک تعلیم یافتہ بچی میں ہوتی ہیں۔
*حل اور تجاویز:-* جہیز کی لعنت سے نجات حاصل کرنے کے لئے ہمیں یہ حل اور تجاویز اختیار کرنے کی ضرورت ہے...
● *سادہ شادیاں:-* شادیاں سادگی اور اسلامی اصولوں کے مطابق کی جانی چاہیے۔
● *شعورِ بیداری:-* نوجوانوں کو خود آگے بڑھ کر جہیز کے بائیکاٹ کا عہد کرنا چاہئے اور بغیر جہیز کے شادیاں کرنے کی مثالیں قائم کرنی چاہئے۔ سادہ شادیوں کی حوصلہ افزائی اور جہیز فری شادیوں کی مثالیں عام کرنی چاہئے۔
*نتیجہ-* جہیز کی رسم دراصل انسانی اور اخلاقی اقدار کی تذلیل ہے۔ جب تک ہم اس فرسودہ روایت اور نمود و نمائش کی سوچ کو جڑ سے نہیں اکھاڑ پھینکیں گے معاشرے میں حقیقی سکوں اور برابری قائم نہیں ہو سکتی۔
*غرض اس لعنت کے خاتمے کے لئے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔*