جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار
تمہید :
اسلام ایک ایسا مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسانی زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس دین نے انسان کو عدل، مساوات، محبت اور باہمی احترام کا درس دیا ہے۔ نکاح اسلام میں ایک مقدس اور بابرکت بندھن ہے جس کے ذریعے نہ صرف دو افراد بلکہ دو خاندان آپس میں جڑتے ہیں۔ اسلام نے نکاح کو آسان بنانے اور معاشرے میں پاکیزگی و عفت کو فروغ دینے کی تعلیم دی ہے، لیکن افسوس کہ وقت گزرنے کے ساتھ بعض غیر اسلامی رسم و رواج مسلمانوں کے معاشرے میں داخل ہوگئے ہیں۔ انہی برائیوں میں سے ایک "جہیز" کی رسم ہے، جو آج ایک خطرناک معاشرتی ناسور بن چکی ہے۔ اس رسم نے شادی جیسے مقدس رشتے کو کاروبار، نمود و نمائش اور مالی بوجھ میں تبدیل کر دیا ہے۔
"نکاح آسان کرو" یہ اسلامی تعلیمات کا وہ سنہرا اصول ہے جو ایک پاکیزہ معاشرے کی بنیاد فراہم کرتا ہے، لیکن افسوس ہمارے معاشرے میں شادی جیسے مقدس رشتے کو جہیز کی لعنت نے مشکل بنا دیا ہے۔ جہیز ایک ایسا معاشرتی ناسور بن چکا ہے جو نہ صرف بے شمار خاندانوں کی خوشیاں نگل رہا ہے بلکہ اسلامی تعلیمات سے دوری کی بھی ایک واضح علامت ہے۔
اسلام نے نکاح کو سادگی، محبت اور باہمی رضامندی پر قائم کیا ہے۔
ہر معاشرہ کچھ ایسی روایات کا شکار ہو جاتا ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ اتنی مضبوط ہو جاتی ہیں کہ لوگ انہیں دین اور ثقافت کا حصہ سمجھنے لگتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں ان کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ جہیز بھی ایسی ہی ایک رسم ہے جس نے ہمارے معاشرے میں گہری جڑیں پکڑ لی ہیں۔ بظاہر یہ محبت اور تعاون کا نام دیا جاتا ہے، مگر حقیقت میں اس نے بے شمار خاندانوں کو پریشانی، قرض اور ذہنی اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہیز کو ایک معاشرتی ناسور کہا جاتا ہے۔
جہیز سے مراد وہ سامان، نقدی، زیورات یا دیگر اشیاء ہیں جو لڑکی کے والدین شادی کے موقع پر اپنی بیٹی یا داماد کے گھر والوں کو دیتے ہیں۔ اگر والدین اپنی خوشی اور استطاعت کے مطابق اپنی بیٹی کو کچھ تحائف دیں تو یہ جائز ہے، لیکن جب جہیز کو لازمی قرار دیا جائے یا اس کا مطالبہ کیا جائے تو یہ ایک غیر شرعی اور ظالمانہ عمل بن جاتا ہے۔
اسلام نے انسان کو آسانی، عدل اور اعتدال کا درس دیا ہے۔ شادی کو ایک مقدس بندھن قرار دیا گیا ہے جس کا مقصد خاندان کی تشکیل اور معاشرے میں پاکیزگی کو فروغ دینا ہے۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
"وَأَنْكِحُوا الْأَيَامَىٰ مِنْكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ" (سورۃ النور: 32)
ترجمہ: "تم میں جو بے نکاح ہیں ان کا نکاح کر دیا کرو اور اپنے نیک غلاموں اور لونڈیوں کا بھی۔"
یہ آیت نکاح کو آسان بنانے کی ترغیب دیتی ہے، جبکہ جہیز کی رسم اس آسانی کو مشکل میں بدل دیتی ہے۔ آج بہت سے والدین اپنی بیٹیوں کی شادی صرف اس لیے مؤخر کر دیتے ہیں کہ وہ جہیز کا انتظام نہیں کر سکتے۔
اسلام نے شادی میں عورت کے لیے مہر کو حق قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً"
ترجمہ: "پس عورتوں کو ان کے مہر ادا کرو، یہ ان کا مقررہ حق ہے۔"
یہ اسلامی تعلیم اس بات کی واضح دلیل ہے کہ شادی میں مالی ذمہ داری مرد پر عائد ہوتی ہے، نہ کہ لڑکی کے خاندان پر۔
رسول اللہ ﷺ نے ہمیشہ نکاح کو آسان بنانے کی تلقین فرمائی۔
حدیث میں ہے ایک شخص نے نکاح کی خواہش ظاہر کی تو آپ ﷺ نے فرمایا:
"جاؤ، اگرچہ لوہے کی ایک انگوٹھی ہی تلاش کر کے لاؤ۔"
(صحیح البخاری)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک صحابیؓ کے پاس مہر کے لیے کچھ نہ تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر لوہے کی انگوٹھی بھی مل جائے تو لے آؤ۔ اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نکاح میں دولت اور سامان کو نہیں بلکہ اخلاص اور نیک نیتی کو اہمیت دیتا ہے۔ اسلام نکاح میں سادگی اور آسانی کو پسند کرتا ہے۔
اگر مہر کے لیے ایک معمولی انگوٹھی کافی ہو سکتی ہے تو لاکھوں روپے کے جہیز اور قیمتی سامان کے مطالبات کس طرح درست قرار دیے جا سکتے ہیں؟
صحیح مسلم میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:
"اللہ تمہاری صورتوں اور مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔"
اگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک انسان کی قدر اس کے اعمال سے ہے تو پھر معاشرے میں جہیز کو عزت اور مرتبے کا معیار کیوں بنایا جائے؟
جہیز کی لعنت نے معاشرے میں کئی خرابیاں پیدا کی ہیں۔ غریب والدین اپنی بیٹیوں کی شادی کے لیے برسوں تک رقم جمع کرتے ہیں۔ بعض لوگ قرض لیتے ہیں، بعض اپنی زمین یا زیورات فروخت کر دیتے ہیں۔ یوں ایک خوشی کا موقع پریشانی اور آزمائش میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
اس رسم کا ایک اور نقصان یہ ہے کہ اس سے معاشرے میں احساسِ کمتری پیدا ہوتا ہے۔ جو خاندان زیادہ جہیز دیتا ہے اسے نمایاں سمجھا جاتا ہے اور جو استطاعت نہیں رکھتا اسے کمتر نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ یہ رویہ اسلامی مساوات کے اصول کے خلاف ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔" (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
جہیز کے مطالبات بھی ایک طرح کی اذیت ہیں، کیونکہ ان سے دوسروں کو تکلیف اور پریشانی پہنچتی ہے۔ ایک سچا مسلمان کبھی ایسا رویہ اختیار نہیں کرتا جس سے کسی کے دل کو دکھ پہنچے۔
جب کسی لڑکی کی قدر اس کے کردار، تعلیم اور اخلاق کے بجائے اس کے ساتھ آنے والے سامان سے کی جائے تو یہ انسانی عظمت کی توہین ہے۔ ایک بیٹی رحمت ہے، کوئی تجارتی سامان نہیں کہ اس کی قیمت فرنیچر، گاڑی یا قیمتی اشیاء سے لگائی جائے۔
قرآنِ مجید نے نکاح کے موقع پر عورت کے حق یعنی مہر کا ذکر کیا ہے، نہ کہ جہیز کا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً"
(سورۃ النساء: 4)
ترجمہ: "اور عورتوں کو ان کے مہر خوش دلی کے ساتھ ادا کرو۔"
اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام نے مالی ذمہ داری مرد پر عائد کی ہے۔ اگر جہیز اسلامی تعلیمات کا حصہ ہوتا تو قرآنِ کریم ضرور اس کا حکم دیتا، لیکن پورے قرآن میں اس کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔
اگر ہم معاشرے کے زمینی حقائق کو دیکھیں تو
جہیز کی رسم نے ہمارے معاشرے میں بے شمار مسائل کو جنم دیا ہے۔ غریب والدین اپنی بیٹیوں کی شادی کے لیے قرض لیتے ہیں، جائیدادیں فروخت کرتے ہیں اور ساری عمر کی جمع پونجی خرچ کر دیتے ہیں۔ بعض خاندان صرف اس وجہ سے اپنی بیٹیوں کی شادی میں تاخیر کرتے ہیں کہ وہ مطلوبہ جہیز فراہم کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
مزید برآں، جہیز کی کمی کی وجہ سے بہت سی خواتین شادی کے بعد ذہنی اور جسمانی تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔ بعض اوقات انہیں طعنے دیے جاتے ہیں، اور بعض افسوسناک واقعات میں قتل تک کر دیا جاتا ہے۔ یہ تمام رویے ظلم اور ناانصافی کے زمرے میں آتے ہیں
اسلام نے انسان کی عزت کو مال و دولت سے نہیں بلکہ تقویٰ اور کردار سے جوڑا ہے۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
"إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ" (سورۃ الحجرات: 13)
ترجمہ: "بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔"
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ انسان کی قدر و منزلت اس کے تقویٰ سے ہے، نہ کہ اس دولت یا سامان سے جو وہ اپنے ساتھ لاتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بعض لوگ لڑکی کی شخصیت سے زیادہ اس کے جہیز کو اہمیت دیتے ہیں۔
اسلام نے نکاح کو آسان اور پاکیزہ عمل قرار دیا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"نکاح میری سنت ہے۔" (صحیح بخاری)
آپ ﷺ نے اپنی زندگی میں سادگی کو اختیار فرمایا اور امت کو بھی اسی کی تعلیم دی۔ آپ ﷺ کے زمانے میں شادیوں میں آج کی طرح فضول خرچی، نمائش اور سامان کی لمبی فہرستیں نہیں ہوتی تھیں۔ اصل توجہ اچھے اخلاق، دین داری اور باہمی موافقت پر ہوتی تھی۔
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جس شخص کے پاس دین اور اخلاق ہو، اس کے ساتھ نکاح کر دو۔"
یہ تعلیم اس بات کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ شادی کا معیار دولت اور جہیز نہیں بلکہ دین اور کردار ہونا چاہیے۔
جہیز کے مسئلے نے ہمارے معاشرے میں کئی سنگین مسائل کو جنم دیا ہے۔ بہت سے والدین بیٹی کی پیدائش پر خوش ہونے کے بجائے پریشان ہو جاتے ہیں، کیونکہ انہیں آنے والے وقت میں جہیز کے اخراجات کا خوف ہوتا ہے۔ بعض خاندان سالہا سال تک قرضوں کی ادائیگی میں لگے رہتے ہیں۔ کچھ والدین اپنی ضرورت کی چیزیں بیچ دیتے ہیں، صرف اس لیے کہ معاشرہ انہیں کمتر نہ سمجھے۔
اس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ بعض اوقات شادی کے بعد بھی جہیز کی کمی کو لے کر لڑکیوں کو طعنے دیے جاتے ہیں۔ کہیں ذہنی اذیت دی جاتی ہے، کہیں تعلقات خراب ہوتے ہیں اور کہیں ایک ہنستا بستا گھر بکھر جاتا ہے۔ یہ تمام رویے اسلامی تعلیمات کے سراسر خلاف ہیں۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ" (سورۃ النساء: 19)
ترجمہ: "اور عورتوں کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی بسر کرو۔"
یہ حکم ہمیں سکھاتا ہے کہ بیوی کے ساتھ حسنِ سلوک کیا جائے، نہ کہ اس کے مال یا جہیز کی بنیاد پر اس کی عزت یا بے عزتی کی جائے۔
جہیز صرف ایک مالی مسئلہ نہیں بلکہ ایک فکری بیماری بھی ہے۔ جب معاشرے میں دکھاوا، مقابلہ بازی اور جھوٹی شان و شوکت بڑھ جاتی ہے تو ایسی رسومات پروان چڑھتی ہیں۔ ایک خاندان دوسرے کی نقل کرتا ہے اور یوں یہ سلسلہ نسل در نسل چلتا رہتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اس ناسور کو ختم کرنے میں ہمارا کردار کیا ہونا چاہیے؟اس ناسور کو ختم کرنے کے لئے قابل عمل تجاویز اور عملی حل کیا ہے ؟
جہیز ایک ایسی سماجی برائی ہے جس نے بے شمار خاندانوں کو پریشانی، قرض اور ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس ناسور کے خاتمے کے لیے معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
سب سے پہلے ہمیں اپنے دل و دماغ سے یہ خیال نکالنا ہوگا کہ جہیز عزت کی علامت ہے۔ عزت کا تعلق انسان کے اخلاق، علم اور کردار سے ہے، نہ کہ اس کے گھر کے سامان سے۔
والدین کا کردار:
والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کو اسلامی تعلیمات کے مطابق پروان چڑھائیں۔ بیٹوں کو یہ سکھائیں کہ وہ اپنے والدین کی خواہشات کے نام پر کسی غریب خاندان پر بوجھ نہ ڈالیں۔ یعنی والدین اپنے بیٹوں کی ایسی تربیت کریں کہ وہ جہیز کو اپنا حق نہ سمجھیں۔
بیٹیوں کے والدین بھی اپنی حیثیت سے بڑھ کر جہیز دینے کی کوشش نہ کریں بلکہ سادگی کو اختیار کریں۔بیٹیوں کو یہ احساس دلائیں کہ ان کی اصل پہچان ان کا کردار اور دین داری ہے، نہ کہ قیمتی سامان۔ اگر والدین اپنے بچوں میں اسلامی تعلیمات، قناعت اور سادگی پیدا کریں تو یہ برائی کم ہو سکتی ہے۔
نوجوانوں کا کردار:
جو نوجوان شادی کرنے والے ہیں، انہیں کھلے دل سے اعلان کرنا چاہیے کہ وہ جہیز نہیں لیں گے۔ اگر نوجوان خود اس رسم کو مسترد کر دیں تو جہیز کا مطالبہ خود بخود کم ہو جائے گا۔ ایک نوجوان کا یہ فیصلہ کئی خاندانوں کے لیے مثال بن سکتا ہے۔
نوجوان نسل اس تبدیلی کی سب سے بڑی طاقت بن سکتی ہے۔ اگر ایک نوجوان کھلے الفاظ میں اعلان کر دے کہ وہ جہیز نہیں لے گا تو وہ صرف ایک خاندان ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔
اساتذہ کا کردار:
اساتذہ طلبہ کی اخلاقی تربیت کرتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ کلاس روم میں جہیز کی برائیوں پر گفتگو کریں اور طلبہ میں یہ شعور پیدا کریں کہ عزت اور خوشی کا تعلق جہیز سے نہیں بلکہ اچھے اخلاق اور کردار سے ہے۔
علمائے کرام کا کردار:
علمائے کرام اپنے خطبات اور دروس میں اسلام کی سادہ نکاح کی تعلیمات کو عام کریں اور واضح کریں کہ جہیز کا مطالبہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ ان کی بات لوگوں پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔
مساجد، مدارس، تعلیمی ادارے اور میڈیا بھی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر مسلسل عوام میں شعور بیدار کیا جائے تو آہستہ آہستہ یہ برائی کم ہو سکتی ہے۔
سوشل میڈیا کا کردار:
آج سوشل میڈیا رائے عامہ بنانے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ نوجوان جہیز کے خلاف آگاہی مہم چلا سکتے ہیں، مثبت پیغامات، ویڈیوز اور تحریریں شیئر کر سکتے ہیں۔ بغیر جہیز ہونے والی شادیوں کو نمایاں کر کے دوسروں کے لیے مثال بنایا جا سکتا ہے۔
معاشرے کا کردار:
معاشرے کو چاہیے کہ جہیز لینے والوں کی تعریف کے بجائے ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کرے جو سادہ اور بغیر جہیز شادی کرتے ہیں۔ اگر سماج اپنی سوچ بدل لے تو یہ رسم زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی۔ہمیں ان خاندانوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے جو سادگی سے نکاح کرتے ہیں اور جہیز کو اپنی زندگی کا حصہ نہیں بناتے۔ یہی وہ عملی قدم ہے جو معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔
نتیجہ
جہیز کا خاتمہ صرف قانون سے نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی کردار سے ممکن ہے۔ والدین، اساتذہ، علماء، نوجوان، سوشل میڈیا اور پورا معاشرہ اگر اپنی ذمہ داری محسوس کرے تو اس ناسور کو جڑ سے ختم کیا جا سکتا ہے۔ ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ نہ جہیز لیں گے، نہ اس کا مطالبہ کریں گے اور نہ ہی اس رسم کی حوصلہ افزائی کریں گے۔ یہی ایک خوشحال، اسلامی اور باوقار معاشرے کی بنیاد ہے۔
آخر میں یہ کہنا درست ہوگا کہ جہیز ایک ایسی زنجیر ہے جس نے شادی جیسے خوبصورت رشتے کو بوجھ بنا دیا ہے۔ اسلام نے ہمیں آسانی، محبت اور انصاف کا راستہ دکھایا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی سوچ کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالیں اور اس رسمِ بد کے خلاف عملی جدوجہد کریں۔
ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ اپنی ذات سے اس تبدیلی کا آغاز کریں گے۔ ہم نہ جہیز لیں گے، نہ اس کا مطالبہ کریں گے اور نہ ہی اس رسم کو عزت کا معیار سمجھیں گے۔ جب معاشرے کا ہر فرد اپنی ذمہ داری کو سمجھے گا تو یقیناً یہ ناسور ختم ہوگا اور نکاح دوبارہ اپنی اصل اسلامی سادگی اور برکت کے ساتھ قائم ہو سکے گا۔
"جہیز کا خاتمہ صرف ایک رسم کا خاتمہ نہیں، بلکہ ایک ایسے معاشرے کی تعمیر ہے جہاں بیٹی کی عزت اس کے کردار سے ہو، اس کے سامان سے نہیں۔"
اللہ تعالیٰ ہمیں جہیز جیسی معاشرتی برائی کے خاتمے میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمارے معاشرے کو سادگی، قناعت اور اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے والا بنائے۔ آمین۔