جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار
تمہید :
انسانی معاشرے کی تعمیر و ترقی میں خاندان بنیادی حیثیت رکھتا ہے، اور خاندان کی بنیاد نکاح پر قائم ہوتی ہے۔ اسلام نے نکاح کو نہ صرف ایک مقدس عبادت قرار دیا ہے بلکہ اسے معاشرتی استحکام، اخلاقی پاکیزگی اور انسانی فلاح کا ذریعہ بھی بنایا ہے۔ قرآنِ مجید اور احادیثِ نبوی ﷺ میں نکاح کو آسان بنانے اور اس میں سادگی اختیار کرنے کی بار بار تلقین کی گئی ہے۔ لیکن افسوس کہ آج ہمارے معاشرے میں کئی غیر اسلامی رسم و رواج نے اس مقدس عبادت کو مشکل بنا دیا ہے۔ ان رسموں میں سب سے خطرناک اور تباہ کن رسم "جہیز" ہے، جو ایک معاشرتی ناسور کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ اس نے نہ صرف ہزاروں خاندانوں کو معاشی مشکلات میں مبتلا کیا ہے بلکہ شادی جیسے مقدس رشتے کو بھی کاروبار اور لین دین کا ذریعہ بنا دیا ہے۔
اسلام میں نکاح باہمی رضامندی، محبت، تقویٰ اور حسنِ اخلاق کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ شریعتِ اسلامیہ نے نکاح کے موقع پر مرد کو عورت کا مہر ادا کرنے کا پابند بنایا ہے، جبکہ عورت یا اس کے خاندان پر کسی قسم کی مالی ذمہ داری عائد نہیں کی۔
اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
"وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً"
(النساء: 4)
ترجمہ: "اور عورتوں کو ان کے مہر خوش دلی کے ساتھ ادا کرو۔"
یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اسلام میں مالی ذمہ داری مرد پر ہے، نہ کہ عورت کے والدین پر۔ اگر جہیز دینا یا لینا اسلامی حکم ہوتا تو قرآنِ کریم ضرور اس کی وضاحت کرتا، لیکن پورے قرآن و سنت میں کہیں بھی جہیز کے مطالبے کی اجازت نہیں ملتی۔
بلکہ سنتِ نبوی ﷺ سادگی کا درس دیتا ہے
رسول اللہ ﷺ نے اپنی پوری زندگی میں نکاح کو آسان بنانے کی تعلیم دی۔ صحیح البخاری میں حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نکاح کی خواہش ظاہر کی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"الْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ"
(صحیح البخاری)
ترجمہ: "جاؤ اور تلاش کرو، اگرچہ لوہے کی ایک انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو۔"
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نکاح میں تکلفات، نمود و نمائش اور مالی بوجھ کو پسند نہیں کرتا بلکہ آسانی اور سادگی کو ترجیح دیتا ہے۔
اسی طرح صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ... فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ"
(صحیح مسلم)
ترجمہ: "عورت سے چار چیزوں کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے: مال، حسب و نسب، حسن اور دین؛ پس تم دین دار عورت کو اختیار کرو۔"
یہ حدیث اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اسلام کے نزدیک شادی کا معیار مال و دولت یا جہیز نہیں بلکہ دین داری، کردار اور اخلاق ہیں۔
جہیز ایک سماجی اور اخلاقی برائی ہے اگر ہم معاشرے کے زمینی حقائق کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جہیز کی رسم نے ہمارے معاشرے میں بے شمار مسائل پیدا کر دیے ہیں۔ غریب والدین اپنی بیٹیوں کی شادی کے لیے قرضوں کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔ بعض لوگ اپنی زمینیں، مکانات اور جمع پونجی صرف اس لیے خرچ کر دیتے ہیں کہ معاشرے میں ان کی عزت برقرار رہے۔ نتیجتاً شادی جو خوشی اور رحمت کا ذریعہ ہونی چاہیے تھی، پریشانی اور آزمائش بن جاتی ہے۔
جہیز کے مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں اکثر خواتین کو طعن ، ذہنی اذیت اور جسمانی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بعض اوقات یہ ظلم اتنا بڑھ جاتا ہے کہ ازدواجی زندگی تباہ ہو جاتی ہے۔ اسلام ہر قسم کے ظلم کو سختی سے منع کرتا ہے۔
"جہیز" آج ایک معاشرتی ناسور کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اس نے نہ صرف لاکھوں خاندانوں کو معاشی مشکلات میں مبتلا کیا ہے بلکہ شادی جیسے آسان عمل کو بھی پیچیدہ اور مہنگا بنا دیا ہے۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً" (سورۃ الروم: 21)
ترجمہ: "اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو، اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی۔"
اس آیت میں نکاح کا مقصد محبت، سکون اور رحمت بتایا گیا ہے، جبکہ جہیز کی رسم اکثر اوقات محبت کے بجائے لالچ، حسد اور نفرت کو جنم دیتی ہے۔
اسلام میں شادی کے موقع پر عورت کا حق مہر مقرر کیا گیا ہے، نہ کہ جہیز۔
جہیز کے نام پر ناجائز مطالبات درحقیقت ان پر ظلم کرنے کے مترادف ہیں۔
فضول خرچی اور نمود و نمائش :
جہیز کی موجودہ رسم نے شادیوں کو مقابلہ بازی اور دکھاوے کا میدان بنا دیا ہے۔ قیمتی فرنیچر، گاڑیاں اور دیگر سامان کی نمائش کو عزت کا معیار سمجھا جانے لگا ہے، حالانکہ اسلام اسراف اور فضول خرچی سے منع کرتا ہے۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
"إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ"
(الإسراء: 27)
ترجمہ: "بے شک فضول خرچ لوگ شیطانوں کے بھائی ہیں۔"
یہ آیت ہمیں اعتدال، سادگی اور میانہ روی کا درس دیتی ہے، جبکہ جہیز کی رسم ان تعلیمات کے بالکل برعکس ہے۔
عنوان کا دوسرا حصہ ہمارا کردار اس ناسور کو ختم کرنے کے لیے قابل عمل تجاویز اور عملی حل :
جہیز ایک ایسی معاشرتی برائی ہے جو صرف ایک خاندان کو نہیں بلکہ پورے معاشرے کو متاثر کرتی ہے۔
معاشرتی تبدیلی صرف نعروں سے نہیں آتی بلکہ عملی اقدامات سے آتی ہے۔ اگر ہم واقعی جہیز کے خاتمے کے خواہش مند ہیں تو ہمیں اپنی زندگی میں اس کا آغاز کرنا ہوگا۔
اس لعنت کے خاتمے کے لیے ہر فرد کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی ہوگی۔ سب سے پہلے نوجوان نسل کو آگے بڑھ کر یہ عہد کرنا چاہیے کہ وہ اپنی شادیوں میں جہیز کا مطالبہ نہیں کریں گے۔ جب لڑکے خود جہیز لینے سے انکار کریں گے تو اس رسم کی بنیاد کمزور ہو جائے گی۔
والدین کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت اسلامی اصولوں کے مطابق کریں اور انہیں یہ سمجھائیں کہ انسان کی عزت و وقار کا معیار دولت یا سامان نہیں بلکہ کردار اور تقویٰ ہے۔ بیٹیوں کے والدین کو بھی معاشرتی دباؤ کا شکار ہونے کے بجائے سادگی کو اختیار کرنا چاہیے۔
والدین کو چاہیے کہ وہ رشتے تلاش کرتے وقت جہیز کو معیار نہ بنائیں بلکہ دین داری، اخلاق اور تعلیم کو ترجیح دیں۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے والدین پر واضح کر دیں کہ انہیں جہیز کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس ایک فیصلے سے کئی خاندانوں کی مشکلات کم ہو سکتی ہیں۔
اساتذہ تعلیمی اداروں میں طلبہ کو جہیز کی معاشی اور سماجی برائیوں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ لوگوں کو قرآن و سنت کی اصل تعلیمات سے آگاہ کریں۔ نصیحت اور تربیت کے ذریعے نئی نسل میں ایسی سوچ پیدا کی جا سکتی ہے جو اس رسم کو قبول نہ کرے۔
اسی طرح علماء کرام اپنے خطبات اور دروس میں سادہ نکاح کی اہمیت کو اجاگر کریں اور لوگوں کو اسلام کی حقیقی تعلیمات سے روشناس کرائیں۔
سوشل میڈیا کے اس دور میں نوجوان مثبت مہمات چلا سکتے ہیں، جہیز کے خلاف آگاہی ویڈیوز، مضامین اور پیغامات نشر کر سکتے ہیں۔
میڈیا کو بھی ایسی شادیوں کو نمایاں کرنا چاہیے جن میں سادگی اور اسلامی اقدار کو اپنایا گیا ہو۔
بغیر جہیز شادی کرنے والے خاندانوں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور ان کی مثالوں کو عام کیا جائے تاکہ دوسروں کو بھی ترغیب ملے۔
حکومت اور سماجی تنظیمیں بھی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ جہیز کے خلاف قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے اور عوامی سطح پر شعور بیدار کرنے کے پروگرام منعقد کیے جائیں۔
محلوں، دیہاتوں اور شہروں میں اجتماعی عہد کیا جائے کہ جہیز نہ لیا جائے گا اور نہ دیا جائے گا۔
معاشرے کے ہر فرد کو یہ سوچنا چاہیے کہ اگر وہ خود اس رسم کی حوصلہ افزائی کرتا ہے تو وہ اس برائی کے پھیلاؤ میں شریک ہے، اور اگر اس کے خلاف آواز اٹھاتا ہے تو اصلاحِ معاشرہ میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
اگر معاشرے کا ہر فرد اپنی ذمہ داری محسوس کرے اور اپنی ذات سے اس اصلاح کا آغاز کرے تو جہیز جیسی لعنت کا خاتمہ ناممکن نہیں۔
ایک باشعور اور متحد معاشرہ ہی اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ سکتا ہے۔
ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ جہیز نہ تو عزت کی علامت ہے اور نہ خوشحال زندگی کی ضمانت۔ خوشحال گھر وہ ہے جو محبت، اعتماد، صبر اور تقویٰ کی بنیاد پر قائم ہو اسلام نے ہمیں آسان نکاح اور سادہ زندگی کا راستہ دکھایا ہے۔ اگر ہم اس راستے کو اختیار کر لیں تو جہیز جیسی کئی سماجی برائیاں خود بخود ختم ہو جائیں گی۔
ہمیں عہد کرنا ہو گا کہ ہم اپنی ذات سے اس اصلاح کا آغاز کریں گے، جہیز کو مسترد کریں گے اور آنے والی نسلوں کو ایک ایسا معاشرہ دیں گے جہاں شادی خوشیوں کا ذریعہ ہو، پریشانیوں کا نہیں۔
"جب سوچ بدلتی ہے تو معاشرہ بدلتا ہے، اور جب معاشرہ بدلتا ہے تو ناسور ختم ہو جاتے ہیں۔"
اس معاشرتی ناسور کے خاتمے کے لیے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ جہیز لینے سے انکار کریں۔ قرآن اور سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق سادہ نکاح کو فروغ دیں۔ والدین اپنی بیٹیوں کی تعلیم، تربیت اور کردار سازی پر توجہ دیں، نہ کہ جہیز جمع کرنے پر۔ علماء کرام، اساتذہ اور سماجی رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ قرآن و سنت کی روشنی میں اس برائی کے خلاف عوامی شعور بیدار کریں۔ اگر معاشرے کا ہر فرد اپنی ذمہ داری محسوس کرے تو اس رسم کا خاتمہ ممکن ہے۔
اختتامیہ:
مختصراً یہ کہ جہیز ایک غیر اسلامی، ظالمانہ اور تباہ کن رسم ہے جس نے معاشرے کے امن، خوشحالی اور خاندانی استحکام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ قرآنِ مجید اور سنت نبوی ہمیں سادگی، عدل، تقویٰ اور حسنِ اخلاق کی تعلیم دیتی ہیں۔ اگر ہم رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کو اپنائیں، جہیز کی لعنت کو ترک کریں اور نکاح کو آسان بنائیں تو یقیناً ہمارا معاشرہ اسلامی اقدار کا حقیقی نمونہ بن سکتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اس ناسور کے خلاف عملی جدوجہد کریں اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک پاکیزہ، منصفانہ اور خوشحال معاشرہ قائم کریں۔
نتیجہ:
جہیز بلاشبہ ایک خطرناک اور تباہ کن معاشرتی بیماری ہے جس نے ہمارے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، لیکن یہ کوئی لاعلاج مرض نہیں۔ اگر ہم سب مل کر اخلاص کے ساتھ اس کے خلاف عملی جدوجہد کریں، اسلامی تعلیمات کو اپنائیں، سادہ شادیوں کو فروغ دیں اور جہیز لینے اور دینے سے انکار کر دیں تو اس برائی کا خاتمہ ممکن ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دوسروں کے بدلنے کا انتظار کرنے کے بجائے خود سے اصلاح کا آغاز کریں۔ اگر ہر فرد اپنا کردار ادا کرے تو وہ دن دور نہیں جب ہمارا معاشرہ جہیز جیسی لعنت سے پاک ہو جائے گا اور شادی خوشی، محبت اور آسانی کا ذریعہ بنے گی نہ کہ بوجھ اور پریشانی کا۔
اے اللہ! ہمارے دلوں سے لالچ، نمود و نمائش اور غلط رسم و رواج کی محبت نکال دے، ہمیں سنتِ نبوی ﷺ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما، اور ہمارے معاشرے کو جہیز جیسی لعنت سے نجات دے۔ ہمیں ایسا معاشرہ عطا فرما جہاں رشتوں کی بنیاد مال و دولت نہیں بلکہ دین، اخلاق اور محبت ہو۔ آمین یا رب العالمین۔