🏆 جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

Ali Subhani
08 Jun 2026
جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

"رسم کے نام پر ظلم، محبت کے نام پر تجارت، اور خوشی کے نام پر بربادی اگر کسی ایک لفظ میں سمٹ آئے تو اسے جہیز کہا جا سکتا ہے۔"

تمہید

انسانی معاشرہ تہذیب، اخلاق اور باہمی تعاون کے اصولوں پر قائم ہوتا ہے۔ جب معاشرے میں کوئی ایسی رسم جنم لے جو انصاف، محبت اور انسانی وقار کو مجروح کرنے لگے تو وہ رسم آہستہ آہستہ ایک ناسور بن جاتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں جہیز کی رسم بھی ایک ایسا ہی ناسور ہے جو برسوں سے ہماری معاشرتی، اخلاقی اور اقتصادی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔

شادی، جو دو خاندانوں کے درمیان محبت، اعتماد اور خوشیوں کا بندھن ہوتی ہے، بدقسمتی سے جہیز کی لعنت کی وجہ سے ایک کاروباری معاہدہ بنتی جا رہی ہے۔ آج بیٹی کی پیدائش کے ساتھ ہی بعض والدین کے چہروں پر خوشی کے بجائے فکر کی لکیریں نمودار ہو جاتی ہیں، کیونکہ انہیں مستقبل میں جہیز کے بھاری اخراجات کا خوف ستانے لگتا ہے۔

جہیز کیا ہے؟

جہیز اس سامان یا مالی اثاثے کو کہا جاتا ہے جو شادی کے موقع پر لڑکی کے والدین اپنی بیٹی کو دیتے ہیں۔ اگر یہ تحائف محبت اور اپنی استطاعت کے مطابق ہوں تو یہ قابلِ اعتراض نہیں، لیکن جب یہی عمل معاشرتی دباؤ، مطالبے اور شرط کی شکل اختیار کر لے تو ایک سنگین سماجی مسئلہ بن جاتا ہے۔

آج صورتحال یہ ہے کہ شادی سے پہلے گاڑی، سونا، فرنیچر، الیکٹرانک سامان اور دیگر قیمتی اشیاء کی فہرستیں تیار کی جاتی ہیں۔ گویا رشتے انسانوں کے درمیان نہیں بلکہ مال و دولت کے درمیان طے ہونے لگے ہیں۔

جہیز: ایک معاشرتی ناسور

"ناسور" ایسے زخم کو کہتے ہیں جو وقت کے ساتھ مزید گہرا ہوتا جائے اور پورے جسم کو متاثر کرے۔ جہیز بھی ہمارے معاشرے کے لیے ایسا ہی زخم بن چکا ہے۔

یہ رسم صرف ایک خاندان کو نہیں بلکہ پوری قوم کو متاثر کرتی ہے۔ غریب والدین اپنی بیٹیوں کی شادی کے لیے قرضوں کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔ بعض اپنی زمینیں فروخت کر دیتے ہیں، بعض عمر بھر کی جمع پونجی لٹا دیتے ہیں اور کچھ لوگ سودی قرض لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

اس کے باوجود اکثر ان کی عزت محفوظ نہیں رہتی بلکہ انہیں کم جہیز لانے کے طعنے سننے پڑتے ہیں۔

جہیز کے تباہ کن اثرات

1۔ مالی بوجھ

جہیز غریب اور متوسط طبقے کے لیے ایک عذاب بن چکا ہے۔ بیٹی کی شادی والدین کے لیے خوشی کے بجائے پریشانی کا سبب بن جاتی ہے۔ بہت سے خاندان صرف جہیز کے اخراجات پورے کرنے کے لیے برسوں مقروض رہتے ہیں۔

2۔ شادیوں میں تاخیر

ہزاروں لڑکیاں صرف اس لیے شادی سے محروم رہ جاتی ہیں کہ ان کے والدین مطلوبہ جہیز فراہم نہیں کر سکتے۔ یوں ان کی زندگی کے قیمتی سال انتظار اور بے یقینی کی نذر ہو جاتے ہیں۔

3۔ گھریلو تشدد

جہیز کے کم ہونے یا مطالبات پورے نہ ہونے پر کئی خواتین ذہنی اور جسمانی تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔ بعض کو روزانہ طعنے دیے جاتے ہیں جبکہ بعض افسوسناک واقعات میں انہیں جان سے بھی ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔

4۔ معاشرتی عدم مساوات

جہیز کی رسم نے معاشرے میں امیر اور غریب کے درمیان فرق کو مزید بڑھا دیا ہے۔ دولت مند لوگ اپنی شان و شوکت کا مظاہرہ کرتے ہیں جبکہ غریب لوگ احساسِ کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں۔

اسلام اور جہیز

اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو آسانی، عدل اور اعتدال کا درس دیتا ہے۔ اسلام نے نکاح کو آسان اور سادہ بنانے کی تعلیم دی ہے۔

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"اور عورتوں کو ان کے مہر خوش دلی سے ادا کرو۔"
(سورۃ النساء)

اسلام نے مرد کو عورت کا نان و نفقہ اٹھانے کا ذمہ دار بنایا ہے، نہ کہ عورت کے والدین کو سامان مہیا کرنے کا پابند۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"سب سے زیادہ برکت والا نکاح وہ ہے جس میں سب سے کم خرچ ہو۔"

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ اسلام سادگی اور آسانی کو پسند کرتا ہے، نہ کہ نمود و نمائش اور فضول اخراجات کو۔

جہیز کے فروغ کی وجوہات

جہیز کے پھیلاؤ کی چند بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں:

* معاشرتی دباؤ اور رسم و رواج
* نمود و نمائش کی خواہش
* دولت کی نمائش کا رجحان
* اسلامی تعلیمات سے دوری
* والدین کی خاموشی
* نوجوانوں کا غیر ذمہ دارانہ رویہ

ہمارا کردار

اگر ہم واقعی اس ناسور کا خاتمہ چاہتے ہیں تو ہمیں محض تنقید نہیں بلکہ عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔

نوجوانوں کا کردار

نوجوان عہد کریں کہ وہ شادی کے لیے کبھی جہیز کا مطالبہ نہیں کریں گے۔ وہ اپنی ذات سے اس برائی کے خاتمے کا آغاز کریں۔

والدین کا کردار

والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کی تربیت سادگی، قناعت اور اسلامی اقدار کے مطابق کریں۔ بیٹوں کو یہ سکھائیں کہ بیوی عزت اور محبت کے لیے گھر آتی ہے، سامان کے لیے نہیں۔

علماء اور اساتذہ کا کردار

علماء، خطباء اور اساتذہ کو اپنے خطبات اور دروس میں جہیز کی برائیوں کو اجاگر کرنا چاہیے تاکہ عوام میں شعور پیدا ہو۔

میڈیا کا کردار

میڈیا معاشرے کی سوچ بدلنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اگر میڈیا سادہ شادیوں کو فروغ دے اور جہیز کے خلاف مؤثر مہمات چلائے تو مثبت تبدیلی ممکن ہے۔

ایک دردناک حقیقت

آج بھی ہمارے معاشرے میں بے شمار والدین راتوں کو صرف اس فکر میں جاگتے ہیں کہ بیٹی کی شادی کیسے ہوگی۔ کتنی افسوسناک بات ہے کہ جس بیٹی کو اسلام نے رحمت قرار دیا، ہم نے اسے جہیز کے بوجھ سے جوڑ دیا۔

علامہ اقبالؒ کے اس شعر کا مفہوم یہاں بہت موزوں محسوس ہوتا ہے:

وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں

جب عورت معاشرے کی بنیاد ہے تو پھر اس کی عزت و وقار کو جہیز جیسے فرسودہ نظام کے تابع کیوں کیا جائے؟

نتیجہ

جہیز ایک ایسی معاشرتی بیماری ہے جو صرف خاندانوں کو نہیں بلکہ پوری قوم کو متاثر کرتی ہے۔ اس رسم نے خوشیوں کو غم، محبت کو تجارت اور رشتوں کو لین دین میں تبدیل کر دیا ہے۔ اگر ہم ایک مہذب، اسلامی اور فلاحی معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں جہیز کی لعنت کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا۔

آئیے آج یہ عہد کریں کہ ہم اپنی ذات، اپنے گھر اور اپنے معاشرے سے جہیز کی رسم کا خاتمہ کریں گے اور آنے والی نسلوں کو ایک ایسا معاشرہ دیں گے جہاں بیٹی کی عزت کا معیار جہیز نہیں بلکہ اس کا کردار، تعلیم اور اخلاق ہوں۔

"جہیز کی مانگ مردانگی نہیں، بلکہ انسانی اقدار کی شکست ہے۔"

"بیٹی رحمت ہے، بوجھ نہیں؛ اور اس کی عزت کسی جہیز کی محتاج نہیں۔"
© صدائے قلم پلیٹ فارم - تمام حقوق محفوظ ہیں۔
© 2026 SADA E QALAM. ALL RIGHTS RESERVED.