بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار
بیٹی اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت، گھر کی رونق اور والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے بیٹیوں کی بہترین پرورش پر جنت کی بشارت عطا فرمائی ہے۔ جب ایک بچی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتی ہے تو اس کے دل میں ایک خوشحال گھر اور پاکیزہ ازدواجی زندگی کے خواب انگڑائی لینے لگتے ہیں۔ والدین بھی بیٹی کے اچھے نصیب اور باعزت رخصتی کے خواب دیکھتے ہیں، مگر ہمارے معاشرے میں رائج "جہیز" نامی ناسور ان حسین خوابوں کو نگل رہا ہے۔
ناسور وہ زخم ہے جو خاموشی سے جسم کو کھاتا رہتا ہے۔ جہیز بھی ایسا ہی مہلک ناسور ہے جو خاندانوں کی خوشیوں، والدین کے سکون اور بیٹیوں کی عزت و وقار کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ نکاح، جو اسلام میں عبادت، رحمت اور سکون کا ذریعہ ہے، آج نمود و نمائش اور مالی بوجھ کا عنوان بن چکا ہے۔
ہمارے معاشرے کے متمول گھرانے سادہ طرزِ حیات اختیار کرنے کی بجائے بے جا اسراف اور دکھاوے کی راہ پر گامزن ہیں۔ دوسری طرف اغیار کی نقالی اور مختلف اقوام کی غلط رسوم و رواج نے بھی جہیز کی لعنت کو مہمیز دی، اور یوں دیکھا دیکھی سفید پوش اور غریب گھرانوں سمیت پورا معاشرہ اس فرسودہ رسم کی گرفت میں آ گیا۔ آج حالات یہ ہیں کہ لڑکی کے والدین اپنی بیٹی کے بہتر مستقبل کی خاطر اکثر اس رسم کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں اور لڑکے والوں کے مطالبات پورے کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ بسا اوقات لڑکے والے لڑکی والوں کی مالی تنگی اور مخدوش حالات سے آگاہ ہونے کے باوجود بھی جہیز کا تقاضا کرتے ہیں، گویا یہ ان کا حق ہو۔ نتیجتاً سفید پوش طبقہ معاشرے میں اپنا بھرم قائم رکھنے کے لیے قرضوں کے بوجھ تلے دب جاتا ہے۔ بڑھاپے میں عمر بھر کی جمع پونجی لٹا دینے کے باوجود والدین قرض کی زنجیروں میں جکڑے رہتے ہیں۔ یہ سب کچھ صرف اس لیے ہوتا ہے کہ آج جہیز کے بغیر بیٹی کی شادی کا تصور بہت سے لوگوں کے نزدیک محض ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔
ذرا سوچیے! ایک باپ اپنی بیٹی کی پرورش میں برسوں کی محبت، محنت اور دعائیں صرف کرتا ہے، مگر رخصتی کے وقت اس کے کردار، تربیت اور خوبیوں کے بجائے اس کے ساتھ آنے والے سامان کو دیکھا جاتا ہے۔ یہ طرزِ فکر نہ صرف اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے بلکہ انسانی شرافت کے بھی منافی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اچھی بیٹیاں جہیز کے صندوقوں سے نہیں بلکہ بہترین تربیت، اعلیٰ اخلاق اور پاکیزہ کردار سے پہچانی جاتی ہیں۔ جس معاشرے میں انسان کی قدر سامان سے زیادہ ہو، وہاں خوشحال خاندان اور مضبوط نسلیں پروان چڑھتی ہیں۔
ہماری معاشرتی گراوٹ کے ماتم کے لیے یہی بات کافی ہے کہ لڑکی کو جہیز کے ترازو میں تولا جائے۔ عورت کو جہیز کے ترازو میں تولنا اس کے تقدس کو مجروح اور اس کی ہستی کو بے مایہ ثابت کرنے کی ایک مذموم کوشش ہے۔ نہ جانے کب تک عورت کے وقار کو جہیز کے نام پر قربان کیا جاتا رہے گا اور کب تک اس کی عزت و عظمت کو سامانِ دنیا سے مشروط سمجھا جاتا رہے گا۔
رسولِ اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ ہمارے لیے مینارۂ ہدایت ہے۔ آپ ﷺ نے جب حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے فرمایا تو وہاں سادگی کا حسن، اخلاص کی خوشبو اور برکت کی بہار تھی؛ نہ نمود و نمائش کا شور تھا اور نہ تکلفات کا بوجھ۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ گھروں کی بنیاد سامانِ دنیا پر نہیں بلکہ ایمان، محبت، حسنِ اخلاق اور تقویٰ پر استوار ہوتی ہے۔
اس کے برعکس آج جہیز نے معاشرتی اقدار کا رخ موڑ دیا ہے۔ لڑکی کی دینداری، سلیقہ مندی، حیا اور کردار جیسی بیش قیمت صفات ثانوی حیثیت اختیار کر گئی ہیں، جبکہ دولت اور سامان کو معیارِ فضیلت بنا لیا گیا ہے۔ یہ طرزِ فکر حقیقت سے فرار اور سراب کی جستجو کے مترادف ہے۔ یاد رکھیے! جہیز سے گھر تو سجائے جا سکتے ہیں، مگر خوشیاں نہیں خریدی جا سکتیں؛ جبکہ محبت، اخلاص اور تقویٰ خالی گھروں کو بھی جنت کا نمونہ بنا دیتے ہیں۔
وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اس فرسودہ رسم کے خلاف شعور بیدار کریں، سادگی کو شعار بنائیں اور اسلامی تعلیمات کو اپنی زندگیوں میں جگہ دیں۔ والدین، اساتذہ، علماء، سماجی رہنما اور نوجوان سب اس ذمہ داری میں شریک ہیں۔ اگر ہر خاندان یہ عزم کر لے کہ وہ نہ جہیز کا مطالبہ کرے گا اور نہ اس کی نمائش کو عزت و وقار کا معیار بنائے گا تو اس ناسور کا خاتمہ ممکن ہے۔
آئیے عہد کریں کہ ہم اپنی بیٹیوں کی قدر ان کے اخلاق، کردار، تعلیم اور دینداری سے کریں گے، نہ کہ فرنیچر، برتنوں اور سامان کے انبار سے۔ جس دن معاشرہ یہ حقیقت سمجھ لے گا، اسی دن جہیز کا ناسور دم توڑ دے گا اور نکاح دوبارہ رحمت، برکت، محبت اور آسانی کا عنوان بن جائے گا۔ تب بیٹیوں کی رخصتی والدین کے لیے قرض اور پریشانی کا سبب نہیں بلکہ حقیقی خوشی، سکون اور سعادت کا پیغام بنے گی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔