*جہیز ایک ناسور اور ہمارا کردار*
*تمہید:*
انسان کی زندگی میں شادی ایک ایسا مبارک بندھن ہے جسے اسلام نے عبادت کا درجہ دیا ہے۔ نکاح آدھا ایمان ہے، سنتِ رسول ﷺ ہے، اور معاشرے کی بنیاد ہے۔ مگر افسوس کہ ہم نے اس پاکیزہ رشتے کو رسم و رواج، دکھاوے اور لالچ کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ انہیں رسموں میں سب سے بھیانک لعنت "جہیز" ہے۔جہیز شادی کے موقع پر لڑکی کے والدین یا اہل خانہ کی طرف سے دی جانے والی نقدی، کپڑے اور گھریلو سامان کو کہا جاتا ہے۔ اگر چہ یہ رسم اصل میں اپنی بیٹی کو محبت کی نشانی کے طور پر دینے کا نام تھی؛ لیکن آج یہ سماجی برائی، لعنت اور غریب والدین کے لیے ایک بڑا معاشی بوجھ بن چکی ہے۔
جہیز وہ ناسور ہے جس نے ہزاروں گھروں کو اجاڑا، لاکھوں بیٹیوں کی زندگیاں تباہ کیں، اور باپ کے کندھوں کو عمر بھر کے لیے جھکا دیا۔ جہیز در حقیقت ایک لعنت ہے جو ہم سے چمٹ گئی ہے، ہم نے اس لعنت کو تمدن سمجھ کر قبول کر لیا ہے، چونکہ اس میں عیش و عشرت کے سامان کی فراوانی نظر آتی ہے، مفت کی دولت مل جاتی ہے اور مالدار طبقوں نے اس کو اپنے اموال کی نمائش کا ذریعہ بنا لیاہے، دولت مندوں نے اللہ کی دی ہوئی نعمت کو حرص وطمع پیدا کرنے کا آلہ بنا لیا ہے، زیادہ سے زیادہ جہیز دے کر در اصل دولت کی نمائش کرنی ہوتی ہے؛ مگر اس نمائش نے آج ہم کو اتنا ذلیل و خوار کر دیا ہے ہمیں اس کا اندازہ بھی نہیں ہے، ہم نے اپنی بدقسمتی کی بناء پر رسم و رواج اور خرافات کی پابندی اور جہیز کی قید لگا کر نکاح اور شادی کو اتنا مہنگا کر دیا ہے کہ کتنی لڑکیوں نے اس خوف سے خود کشی کر لی، کتنے والدین غربت کی وجہ سے اپنی پیاری بچیوں کی شادی نہیں کر سکتے اس لیے کہ ان کی جہیز دینے کی حیثیت نہیں ہے_
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: *يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ*
_اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے، تنگی نہیں چاہتا۔_ [سورۃ البقرہ: 185]
مگر جہیز نے نکاح کو مشکل ترین بنا دیا۔
آج دنیا کی چمک دمک، مال و دولت کی ریل پیل، جاہ و منزلت اور شان شوکت کی ہوس نے انسانوں کو اندھا بنا دیا ہے اور اسی طوفان میں دین و فطرت کو جاننے والا اور اسلامی سادگی کا نقیب و محافظ بھی خس و خاشک کی طرح بہتا چلا جا رہا ہے۔ پیسے والے محض اپنی شان و شوکت ظاہر کرنے کے لیے لاکھوں روپئے پانی کی طرح بہا دیتے ہیں۔ آج جہیز کی لعنت عہدِ جاہلیت اور اس دور کے غیر مہذب معاشرہ کی تاریکی میں پھر ہمیں دھکیل رہی ہے، اس لعنت کے سبب لڑکیوں سے نفرت اور ان کی پیدائش سے عار آج کا مزاج بنتا جا رہا ہے_
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو مگر افسوس....! آج بزرگوں اور نوجوانوں نے جہیز کی لعنت کو اپنے گلے سے لگا کر اس صنفِ نازک کو اسی تاریکی میں دھکیلنا شروع کر دیا ہے جہاں سے اللہ رب العزت نے اپنے کلام پاک میں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فرمان سے نکالا ہے_
_بیٹیوں کو بوجھ سمجھنے والوں کے لیے علامہ اقبال نے کیا خوب کہا:_
_وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ_
_اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں_
*جہیز کیا ہے اور کیسے ناسور بنا؟*
جہیز کے لغوی معنی ہیں "سامان"۔ اسلام میں والدین اگر خوشی سے بیٹی کو کوئی تحفہ دیں تو منع نہیں، مگر ہمارے معاشرے میں جہیز "تحفہ" نہیں رہا، "حق" بن گیا ہے۔ لڑکے والے اسے اپنا حق سمجھ کر مانگتے ہیں اور لڑکی والے مجبوری میں دیتے ہیں۔
اس ناسور نے معاشرے کو کئی طرح سے برباد کیا ہے:
*مالی اور معاشی تباہی:*
ایک غریب باپ اپنی بیٹی کی پیدائش کے دن سے ہی جہیز کے لیے پیسے جوڑنا شروع کر دیتا ہے۔ وہ اپنی خواہشات مار دیتا ہے، قرض لیتا ہے، سود پر رقم اٹھاتا ہے، کبھی کبھی زمین اور گھر تک بیچ دیتا ہے۔ پھر بھی شادی کے دن لڑکے والوں کا منہ ٹیڑھا ہی رہتا ہے۔ "فریج تو ڈبل ڈور نہیں لائے، گاڑی کہاں ہے، فرنیچر سستا ہے"۔ یہ طعنے باپ کو قبر تک لے جاتے ہیں۔
اسلام میں جبری جہیز کا کوئی تصور نہیں ہے، لڑکی والوں سے سامان یا نقد رقم کا مطالبہ کرنا یا اس کے بغیر رشتہ نہ دینا، بارات لوٹا دینا حرام اور رشوت کے مترادف ہے_
قرآن کہتا ہے: *إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ*
_بے شک فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں۔_ [سورۃ بنی اسرائیل: 27]
شادیوں میں لاکھوں کا جہیز اور دکھاوا، یہ فضول خرچی ہی تو ہے۔
*بیٹیوں پر ظلم:*
جہیز کے ڈر سے لوگ بیٹی کی پیدائش پر ماتم کرتے ہیں۔ بیٹی کو بوجھ مت سمجھو، رحمت سمجھو انہیں زیور نہیں زیورِ تعلیم دو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "*بیٹیوں کو برا مت کہو کیونکہ میں بھی بیٹیوں والا ہوں*"[طبرانی]
جاہلیت کے دور کی طرح اب بھی کئی جگہ بیٹیوں کو زندہ درگور کیا جاتا ہے، یا پیٹ میں ہی مار دیا جاتا ہے۔ جو زندہ رہ جائیں انہیں تعلیم سے محروم رکھا جاتا ہے کہ "آخر جہیز ہی تو دینا ہے، پڑھا کر کیا کریں گے"۔
اللہ تعالیٰ نے جاہلیت کے اس عمل کی مذمت کی: *وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُم بِالْأُنثَىٰ ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا وَهُوَ كَظِيمٌ*
_اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہو جاتا ہے اور وہ غم سے بھر جاتا ہے۔_ [سورۃ النحل: 58]
جہیز کا ڈر اسی جاہلیت کی باقیات ہے۔
*شادیوں میں تاخیر اور رکاوٹ:*
لاکھوں لڑکیاں 30-35 سال کی عمر تک کنواری بیٹھی رہتی ہیں۔ وجہ صرف ایک جہیز پورا نہیں ہو رہا۔ لڑکے والے رشتہ دیکھنے آتے ہیں، پورا گھر دیکھتے ہیں، لسٹ بناتے ہیں، اور چلے جاتے ہیں۔ اس انتظار میں لڑکیوں کی جوانیاں ڈھل جاتی ہیں، جہیز کی لعنت نے غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑ دی ہے، بیٹی کی شادی والدین کے لیے ایک خوفناک خواب بن گئی ہے_
*گھریلو تشدد اور قتل:*
شادی ہو بھی جائے تو مصیبت ختم نہیں ہوتی۔
جہیز کی طلب پوری نہ ہونے پر لڑکیوں کو سسرال میں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، جہیز کم لانے کا طعنہ روز ملتا ہے۔ طلاق دے دی جاتی ہے اور بعض اوقات انہیں زندہ جلا دینے کے دلخراش واقعات بھی پیش آتے ہیں_
کیا یہی ہے ہماری غیرت؟ کہ ہم دوسرے کی بیٹی کو اس کے سامان سے تولیں؟
اللہ کا حکم ہے: *وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ*
_اور ان عورتوں کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی گزارو۔_ [سورۃ النساء: 19]
جہیز کے طعنے دینا، مارنا "معروف" نہیں، ظلم ہے۔
*معاشرتی دکھاوا اور مقابلہ بازی:*
اس لعنت کو فروغ دینے کی سب سے بڑی وجہ کمزور تربیت، لالچ، اور معاشرتی نمائش ہے_"فلاں کی بیٹی کو 50 تولہ سونا ملا، ہماری بیٹی کو بھی چاہیے"۔ اس مقابلے نے متوسط اور غریب طبقے کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ شادی اب خوشی کا موقع نہیں، ٹینشن کا بازار بن گئی ہے۔
*اسلام جہیز کے بارے میں کیا کہتا ہے؟*
اسلام نے شادی کو آسان ترین بنایا ہے۔ اسلام میں جہیز کا کوئی تصور نہیں۔ بلکہ اسلام نے لڑکی کو "مہر" کا حق دیا ہے۔
شادیوں میں جن جاہلانہ اور غیر اسلامی رسوم کا رواج ہو چکا ہے ان میں ایک جہیز ہے جو مہر کی ضد میں شریعت اسلامی کے خلاف پروان چڑھ چکی ہے_
لیکن مہر براے نام اور سادگی سے رکھ لیا جاتا ہے، جبکہ جہیز جو حرام ہے نقد وصول ہوتا ہے، اس مالِ حرام کی نمائش ہوتی ہے جسے لوگ دیکھنے کے لیے آتے ہیں، اور اس کا چرچا ہوتا ہے، دولت مندوں کی دولت کی تشہیر ہوتی ہے_
قرآن میں واضح حکم ہے: *وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً*
_اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دو۔_ [سورۃ النساء: 4]
اللہ نے حکم دیا کہ لڑکا لڑکی کو دے، لڑکی والوں پر ایک روپے کا بوجھ نہیں ڈالا۔
*بیٹی کو وراثت سے محروم کرنا اور جہیز کا دباؤ:*
اسلام میں بیٹی کا بھی وراثت میں حصہ مقرر ہے جس کا گواہ خود قرآن ہے، اسلام اس رویے کی نفی کرتا ہے جہاں والدین بیٹی کو وراثت سے محروم کر دیں اور اس کی بجائے انہیں شادی میں سارا اثاثہ بطور جہیز دینے پر مجبور کریں_ بیٹیوں کو حصۂ مقررہ دے کر ان کا مستقبل محفوظ کریں، شریعت کے مطابق ان کا حق ادا کریں_
*سادگی اور حسن اخلاق کی: ترغیب*
رسول اللہ ﷺ نے نکاح میں سادگی کو پسند فرمایا ہے _
آپ نے فرمایا:*"سب سے بہترین نکاح وہ ہے جس میں سب سے کم خرچ ہو۔"* [مسند احمد، بہیقی، مشکوۃ] نیز یہ کہ عورت سے نکاح اس کے مال و دولت کے بجائے اس کے دین و اخلاق کو دیکھ کر کیا جانا چاہیے_
نبی کریم ﷺ نے اپنی لاڈلی بیٹی حضرت فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کیا۔ جہیز میں کیا دیا؟ ایک چادر، ایک مشکیزہ، اور ایک چکی۔ اور وہ بھی حضرت علی کی زرہ بیچ کر اس کی قیمت سے خریدا گیا۔ نہ کوئی ڈیمانڈ، نہ کوئی بارات کا کھانا۔
*ہمارا کردار - یہ ناسور کیسے ختم ہو؟*
یہ لعنت حکومت یا کسی ایک ادارے سے ختم نہیں ہوگی۔ اسے ہم نے پھیلایا ہے، ہم ہی ختم کریں گے۔
*والدین کا کردار:*
والدین اپنے بچوں کو سمجھائیں کہ جہیز کے نام پر بھیک لینے کی بجائے خود محنت کریں اور اپنی خواہشات کو پورا کریں اور لڑکی کے والدین اپنی بیٹی کو یہ سمجھائیں کہ جس گھر میں وہ جا رہی ہے وہاں اپنے باپ کے گھر والی سہولتیں نا ڈھونڈھے بات بات پر، اپنے شوہر کے کم پیسے والا ہونے پر، اپنے باپ کے گھر والی سہولتیں میسر نہ ہونے پر اور جہیز لینے سے انکار کرنے پر طعن و تشنیع کا نشانہ نہ بنائے، صبر و شکر اور محبت و اخلاص کے ساتھ اس گھر کے آنگن کو زینت بخشے اور نہ لڑکے کے والدین اور اس کی بہنیں لڑکی کو جہیز نہ ملنے کا طعنہ دیں_
بعض دفعہ تو یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ لڑکے کے والدین خصوصا والدہ اور بہنیں جن کے گھروں میں فریج، کولر، واشنگ مشین وغیرہ وغیرہ نہیں ہوتا وہ یہ کہتی ہیں کہ کیا کریں گے ہم منگوا کر؟ بہو آئے گی تو لے کر آئے گی واللہ کتنی گھٹیا ہے یہ سوچ....! اور بعض دفعہ یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ شادی سے پہلے ایک یا دو کمرے ایکسٹرا خالی کر دیۓ جاتے ہیں کہ یہ جہیز کے سامان رکھنے کے لیۓ ہے_
*نوجوان لڑکوں کا کردار:*
آج کے نوجوان جہیز کے بازار میں بک کر اسلامی حیثیت کا جنازہ نکال رہے ہیں اور لڑکی والے بھی جھوٹی شان و شوکت کو برقرار رکھنے کے لیے دولت پانی کی طرح بہا رہے ہیں، حالانکہ اسلام نے اس فطری اور انسانی ضرورت کو بھی سادگی کے ساتھ انجام دینے کی تاکید کی ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ سب سے بابرکت شادی وہ ہے جس میں کم مال خرچ ہو اور دشواریوں میں مبتلا نہ ہونا پڑے_
آج کے نوجوان کا عام مزاج بن گیا ہے کہ تمام قیمتی اشیاء جن کی خریداری پر ان کی قدرت و وسعت نہ ہو ان کو جہیز کے نام پر حاصل کیا جائے۔ اپنی ڈگری، خاندان، حسب و نسب حتی کہ تعلیم کا معاوضہ جہیز کے نام پر حاصل کرتے ہیں _
اے نوجوانو! تم اس معاشرے کی کمر ہو۔ اگر تم طے کر لو کہ جہیز نہیں لینا، تو کل سے یہ لعنت ختم ہو سکتی ہے_
*علماء، اساتذہ اور میڈیا کا کردار:*
مسجد کے منبر سے، اسکول کے اسٹیج سے جہیز کے خلاف آواز اٹھنی چاہیے۔ نکاح پڑھانے والے مولوی صاحب اعلان کریں کہ ہم جہیز والی شادیوں میں نکاح نہیں پڑھائیں گے، نکاح سنت کے مطابق اور بغیر جہیز کے ہونا چاہیے_
*معاشرے اور برادری کا کردار:*
ہم نے الٹی گنگا بہا دی ہے۔ جو سادگی سے شادی کرے اسے "کنجوس" کہتے ہیں۔ ہمیں یہ سوچ بدلنی ہے۔ برادری میں اعلان ہو کہ جو جہیز لے گا، اس کی شادی میں کوئی نہیں جائے گا۔
*حکومت اور قانون کا کردار:*
حکومت کی جانب سے جہیز کے لین دین کو روکنے کے لیے سخت قوانین بنائے جانے چاہئیں پولیس اور عدالتیں جہیز مانگنے والوں کو سخت سزا دیں۔
*نتیجہ:*
جہیز ایک ناسور ہے جو ہماری نوجوان نسل اور معاشرے کے اخلاقی اقتدار کو تباہ و برباد کر رہا ہے_اس لعنت سے چھٹکارا پانے کے لیۓ ہمیں ذاتی سطح پر پہل کرنی ہوگی اور جہیز کے مطالبے کے بغیر شادی کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنی ہوگی تاکہ معاشرے میں بیٹیوں کو رحمت سمجھا جائے نہ کہ زحمت_ امت مسلمہ میدان عمل میں آؤ جہیز کی لعنت کو ٹھوکر مارو_آؤ عہد کریں کہ ہم اس لعنت کے خلاف دیوار بن جائیں گے نہ جہیز لیں گے، نہ دیں گے، نہ ایسی شادی میں شریک ہوں گے، سادگی کو اپنائیں گے، سنت کو زندہ کریں گے کیونکہ بیٹی کا رشتہ سامان سے نہیں، احساس سے جڑتا ہے۔
_وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ_
_جو اللہ سے ڈرے گا، اللہ اس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا راستہ بنا دے گا اور اسے وہاں سے رزق دے گا جہاں سے اس کا گمان بھی نہ ہو۔_ [سورۃ الطلاق: 2-3]
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: *"تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہو۔"* [ترمذی: 3895] اور بیوی بھی گھر والی ہے، جہیز لانے والی نوکرانی نہیں۔
ہمیں ہوش میں آ جانا چاہیۓ ورنہ بربادی ہماری قسمت بن جاے گی، اللہ ہمیں اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کی توفیق دے اللہ تبارک تعالی ہمیں جہیز کی لعنت سے بچاے اور نکاح کو سادگی سے انجام دینے کی توفیق عطا فرماے_ (آمین ثم آمین)