جہیز ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار
اسلام نے نکاح کو ایک پاکیزہ، آسان اور بابرکت عمل قرار دیا ہے۔ نکاح کا مقصد دو خاندانوں کو جوڑنا، محبت و الفت کو فروغ دینا اور ایک صالح معاشرہ کو تشکیل دینا ہے، لیکن افسوس کہ آج بہت سے معاشروں میں شادی جیسا مقدس عمل رسم و رواج، دکھاوے اور غیر ضروری مطالبات کی نذر ہو چکا ہے۔ انہی برائیوں میں سے ایک بڑی برائی جہیز ہے، جس نے معاشرے میں ایسی جڑیں مضبوط کر لی ہیں کہ غریب خاندانوں کے لیے بیٹی کی شادی خوشی کے بجائے پریشانی اور بوجھ بن گئی ہے۔
جہیز سے مراد وہ سامان یا قیمتی اشیاء ہیں جو لڑکی کے والدین اپنی بیٹی کو شادی کے وقت دیتے ہیں۔ اگر یہ محبت اور خوشی کے طور پر بغیر کسی دباؤ اور مطالبے کے دیا جائے تو یہ ایک الگ بات ہے، لیکن جب اسے رسم، دباؤ یا معاشرتی مجبوری بنا دیا جائے تو یہی جہیز ایک خطرناک ناسور بن جاتا ہے۔ آج کئی جگہوں پر لڑکے والوں کی طرف سے گاڑی، مکان، زیورات، قیمتی سامان اور نقد رقم کا مطالبہ کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں لڑکی کے والدین پریشانی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔
جہیز کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ اس نے بیٹی کو رحمت کے بجائے بعض لوگوں کی نظر میں بوجھ بنا دیا ہے۔ بعض خاندان بیٹی کی پیدائش پر خوشی کے بجائے مستقبل کے اخراجات کے خوف میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ یہ سوچ اسلامی تعلیمات کے بالکل خلاف ہے، کیونکہ اسلام نے بیٹیوں کو عزت، محبت اور رحمت کا مقام دیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے بیٹیوں کی اچھی پرورش اور ان کے ساتھ حسن سلوک پر بڑی فضیلتیں ارشاد فرمائی ہیں۔
جہیز کے بڑھتے ہوئے رجحان نے معاشرے میں کئی مسائل پیدا کیے ہیں۔ غریب طبقہ اپنی بیٹیوں کی شادی کے لیے کئی سالوں تک پیسے جمع کرتا ہے، بعض اوقات۔ سودی قرض لینے پر مجبور ہو جاتا ہے اور کئی خاندان اسی بوجھ کی وجہ سے پریشانیوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ دوسری طرف نمود و نمائش کی وجہ سے شادیوں میں فضول خرچی بڑھتی جا رہی ہے۔ لوگ دوسروں سے مقابلہ کرنے کے لیے اپنی حیثیت سے بڑھ کر خرچ کرتے ہیں، جس سے معاشرتی برائیاں جنم لیتی ہیں۔
اس مسئلے کی ایک وجہ ہماری سوچ کا بدل جانا بھی ہے۔ ہم نے اچھے اخلاق، دینداری، تعلیم اور کردار کو ترجیح دینے کے بجائے مال و دولت اور ظاہری چیزوں کو معیار بنا لیا ہے۔ ایک اچھا رشتہ وہ نہیں جس میں زیادہ سامان ملے بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ لڑکا اور لڑکی نیک، بااخلاق اور باکر دار ہوں۔ ایک مضبوط خاندان محبت، اعتماد اور اچھے کردار سے بنتا ہے، نہ کہ قیمتی سامان سے۔
جہیز کے خاتمے کے لیے سب سے اہم کردار خود ہماری ذات کا ہے۔ اصلاح کا آغاز دوسروں سے نہیں بلکہ اپنے گھر سے ہونا چاہیے۔ ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ ہم اپنی شادیوں کو آسان بنائیں گے اور جہیز کے مطالبات سے مکمل پرہیز کریں گے۔ لڑکے والوں کو چاہیے کہ وہ بیٹی والوں پر بوجھ نہ ڈالیں بلکہ نکاح کو آسان بنائیں۔ اگر کوئی شخص جہیز لینے سے انکار کرتا ہے تو وہ صرف ایک رسم نہیں توڑتا بلکہ ایک غلط معاشرتی روایت کے خلاف عملی قدم اٹھاتا ہے۔
والدین کا کردار بھی بہت اہم ہے۔ انہیں چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کی تربیت اس انداز میں کریں کہ وہ مال و دولت کے بجائے اخلاق و دینداری کو اہمیت دیں۔ بیٹوں کو یہ تعلیم دی جائے کہ وہ بیوی کو سامان کے ساتھ نہیں بلکہ عزت اور محبت کے ساتھ گھر لائیں۔ اسی طرح بیٹیوں کو بھی تعلیم اور خود اعتمادی دی جائے تاکہ وہ معاشرے میں مضبوط کردار ادا کر سکیں۔
علماء، اساتذہ اور سماجی رہنماؤں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مسئلے پر لوگوں میں شعور پیدا کریں۔ مساجد، مدارس اور تعلیمی اداروں کے ذریعے یہ پیغام عام کیا جائے کہ سادگی والی شادی ہی بابرکت ہوتی ہے۔ لوگوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ معاشرتی اصلاح صرف تقریروں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ممکن ہے۔
ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ جو رقم جہیز اور دکھاوے پر خرچ کی جاتی ہے، اگر اسے تعلیم، ضرورت مندوں کی مدد یا کسی مفید کام میں لگایا جائے تو معاشرہ کتنا بہتر ہو سکتا ہے۔ ایک بیٹی کو قیمتی سامان سے زیادہ ایک اچھے ماحول، محبت اور عزت کی ضرورت ہوتی ہے۔
آخر میں ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ جہیز ایک ایسا معاشرتی ناسور ہے جو صرف قوانین سے ختم نہیں ہوگا بلکہ ہماری سوچ اور عمل کی تبدیلی سے ختم ہوگا۔ اگر ہر خاندان یہ فیصلہ کر لے کہ نہ جہیز مانگیں گے اور نہ اس رسم کو بڑھاوا دیں گے تو چند ہی سالوں میں معاشرہ اس برائی سے نجات پا سکتا ہے۔ ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایسا معاشرہ بنانا ہے جہاں بیٹی رحمت سمجھی جائے، شادی آسان ہو اور خاندان محبت و اخلاق کی بنیاد پر قائم ہوں۔
آئیے! ہم سب مل کر عہد کریں کہ جہیز کی لعنت کو ختم کریں گے اور سادگی، سنت اور اسلامی تعلیمات کے مطابق نکاح کو فروغ دیں