🏆 جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

محمد احسان
09 Jun 2026
*جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار*

*حرف اول*

انسانی معاشرہ محبت، خلوص، ایثار اور باہمی احترام جیسی اقدار پر پروان چڑھتا ہے۔ یہی اوصاف خاندانوں کو استحکام بخشتے، رشتوں کو دوام عطا کرتے اور معاشرے کو امن و سکون کا گہوارہ بناتے ہیں۔ لیکن جب مادّہ پرستی، نمود و نمائش اور فرسودہ رسم و رواج انسانی فکر پر غالب آ جائیں تو تعلقات کی پاکیزگی متاثر ہونے لگتی ہے اور انسانی قدروں کی جگہ مفادات لے لیتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں "جہیز" اسی فکری انحطاط کی ایک نمایاں علامت ہے، جو ایک سادہ سماجی روایت سے بڑھ کر ایک سنگین معاشرتی مسئلہ بن چکی ہے۔ اس نے نکاح جیسے مقدس بندھن کی روح کو مجروح کیا، بے شمار خاندانوں کی خوشیاں سلب کیں، غریب والدین کو قرض اور پریشانی کے بوجھ تلے دبا دیا اور بہت سی بیٹیوں کے لیے شادی کو ایک کٹھن مرحلہ بنا دیا۔ اس رسم نے انسان کی قدر و منزلت کو کردار و اخلاق کے بجائے مال و دولت سے وابستہ کر کے رشتوں کی معنویت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

یہ مسئلہ محض چند اشیاء کے لین دین تک محدود نہیں، بلکہ ایک ایسی سماجی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جس نے نکاح جیسی پاکیزہ عبادت کو بھی مادی تقاضوں اور معاشرتی دباؤ کی زنجیروں میں جکڑ دیا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ اس ناسور کے اسباب و نتائج اور اس کے تدارک میں اپنے کردار کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے، تاکہ اصلاحِ معاشرہ کی کوئی مؤثر صورت سامنے آسکے۔


*جہیز کی حقیقت اور اس کا ارتقاء*

جہیز سے مراد وہ سامان، مال یا گھریلو اشیاء ہیں جو شادی کے موقع پر لڑکی کے والدین اپنی بیٹی کو دیتے ہیں۔ اگر یہ عمل محبت، استطاعت اور خیر خواہی کی بنیاد پر ہو تو اس میں کوئی قباحت نہیں، لیکن جب یہی چیز مطالبے، دباؤ، تفاخر اور سماجی جبر کی شکل اختیار کر لے تو ایک سنگین مسئلہ بن جاتی ہے۔
برصغیر میں یہ رسم رفتہ رفتہ اپنی اصل حدود سے تجاوز کرتی گئی۔ جو چیز کبھی تحفہ اور تعاون سمجھی جاتی تھی، وہ بعد میں خاندانوں کی عزت، سماجی مرتبے اور معاشی حیثیت کا پیمانہ بن گئی۔ نتیجتاً نکاح جیسا مقدس بندھن بھی مال و دولت کی منڈی کا منظر پیش کرنے لگا۔


*جہیز کے فروغ کے اسباب*

ہر بیماری کے پیچھے کچھ اسباب ہوتے ہیں، اور جب تک ان اسباب کا علاج نہ کیا جائے، مرض ختم نہیں ہوتا۔
جہیز کے فروغ کا سب سے بڑا سبب مادّہ پرستی ہے۔ آج انسان کے علم، اخلاق اور کردار کے بجائے اس کے بینک بیلنس اور ظاہری ٹھاٹھ باٹھ کو اہمیت دی جاتی ہے۔ اسی سوچ نے شادی کو بھی ایک معاشی معاملہ بنا دیا ہے۔
دوسرا سبب معاشرتی دباؤ اور اندھی تقلید ہے۔ ایک خاندان دوسرے کی نقل میں اپنی حیثیت سے بڑھ کر اخراجات کرتا ہے اور یوں ایک غلط روایت نسل در نسل منتقل ہوتی رہتی ہے۔
تیسرا سبب دینی تعلیمات سے دوری ہے۔ جب قرآن و سنت کی تعلیمات پس پشت ڈالی جائیں اور رسم و رواج کو معیار بنا لیا جائے تو معاشرہ بے شمار برائیوں کا شکار ہو جاتا ہے۔
اس کے علاوہ حرص، لالچ، تفاخر اور دکھاوے کی خواہش بھی اس ناسور کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

*جہیز کے تباہ کن اثرات*

جہیز کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس نے بیٹی کو رحمت کے بجائے بوجھ بنا دیا ہے۔ ایک باپ جو اپنی بیٹی کی خوشیوں کے خواب دیکھتا ہے، وہی شادی کے وقت قرض، پریشانی اور ذہنی اذیت کا شکار ہو جاتا ہے۔
کتنے ہی والدین اپنی زمینیں فروخت کرتے ہیں، زیورات گروی رکھتے ہیں اور قرضوں کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔ بعض اوقات تو پوری زندگی ان قرضوں کی ادائیگی میں گزر جاتی ہے۔
جہیز کی لعنت نے بے شمار لڑکیوں کی شادی میں تاخیر پیدا کی ہے۔ بہت سی بیٹیاں صرف اس لیے گھر بیٹھی رہ جاتی ہیں کہ والدین مطالبات پورے کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
اس سے بھی زیادہ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ بعض گھروں میں جہیز کی کمی کو بنیاد بنا کر بہوؤں کو ذہنی اور جسمانی اذیت دی جاتی ہے۔ طعنے، تشنیع، تحقیر اور گھریلو تشدد کے بے شمار واقعات اسی لعنت کا نتیجہ ہیں۔ ان گنت معصوم زندگیاں اس ناسور کی آگ میں جھلس کر راکھ ہو گئیں۔
یوں جہیز صرف ایک رسم نہیں بلکہ ایک ایسا سماجی زہر بن چکا ہے جو معاشرے کے امن، محبت اور خاندانی استحکام کو ہلاک کر رہا ہے۔

*اسلامی نقطۂ نظر*

اسلام نے نکاح کو راحت، تسکین قلب، محبت و رحمت اور پاکیزگی کا ذریعہ قرار دیا۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے:
﴿وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَّ رَحْمَةً﴾
"اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہی میں سے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی۔" (الروم: 21)
شریعت نے جہیز کو نکاح کی شرط قرار نہیں دیا اور نہ ہی اس کے مطالبے کی اجازت دی ہے، بلکہ مرد کو عورت کا کفیل، قوام اور اس کے نفقہ و سکنیٰ وغیرہ کا ذمہ دار بنایا ہے۔ نکاح کو سادہ، آسان اور بابرکت بنانے کی تعلیم دی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«أَعْظَمُ النِّكَاحِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُ مَؤُونَةً»
"سب سے زیادہ بابرکت نکاح وہ ہے جس میں کم سے کم خرچ ہو۔"
عہدِ نبوی ﷺ کے نکاح سادگی، تقویٰ اور اخلاص کا نمونہ تھے۔ وہاں دولت نہیں بلکہ کردار کو ترجیح دی جاتی تھی۔ یہی اسلامی مزاج ہے اور یہی معاشرتی اصلاح کا راستہ ہے۔


*ہمارا کردار اور عملی اقدام*

جہیز کے خاتمے کے لیے سب سے پہلے نوجوانوں کو آگے آنا ہوگا۔ اگر نوجوان جہیز لینے سے انکار کر دیں تو اس ناسور کی جڑیں ہلنا شروع ہو جائیں گی۔
والدین کو چاہیے کہ وہ بیٹیوں کے لیے سامان جمع کرنے کے بجائے ان کی تعلیم، تربیت اور کردار سازی پر توجہ دیں، کیونکہ بہترین جہیز عمدہ اخلاق اور صالح تربیت ہے۔
علمائے کرام، اہلِ قلم اور سماجی رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ اپنے خطبات، دروس اور تحریروں کے ذریعے عوام میں شعور بیدار کریں اور سادگیِ نکاح کی تحریک کو عام کریں۔
معاشرے کے صاحبِ حیثیت افراد پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنی شادیوں کو سادہ بنائیں، کیونکہ قومیں صرف نصیحتوں سے نہیں بلکہ عملی نمونوں سے بدلتی ہیں۔


*عملی تجاویز*

جہیز لینے اور اس کا مطالبہ کرنے کو سماجی معیوب سمجھا جائے۔
سادہ نکاح اور کم خرچ شادیوں کو فروغ دیا جائے۔
مساجد، مدارس اور تعلیمی اداروں میں اس موضوع پر شعور بیدار کیا جائے۔
نوجوانوں میں "بغیر جہیز نکاح" کی تحریک چلائی جائے۔
والدین اپنی اولاد کی تربیت میں قناعت، خود داری اور اسلامی اقدار کو شامل کریں۔

*نتیجہ*

حاصلِ کلام یہ ہے کہ جہیز محض ایک رسم نہیں بلکہ ایک ایسا معاشرتی ناسور ہے جس نے ہماری اخلاقی اقدار، خاندانی نظام اور انسانی رشتوں کو گہرے زخم دیے ہیں۔ اس نے غریب خاندانوں کی خوشیاں چھین لیں، والدین کو قرض کے بوجھ تلے دبا دیا اور بے شمار بیٹیوں کے خواب چکنا چور کر دیے۔

اس لیے آئیے! عہد کریں کہ ہم جہیز کے خلاف صرف تقریریں نہیں کریں گے بلکہ اپنے عمل سے اس ظالمانہ رسم کا خاتمہ کریں گے، نکاح کو دوبارہ اس کی اصل روح یعنی سادگی، محبت، تقویٰ اور باہمی احترام کی بنیاد پر استوار کریں گے، تاکہ بیٹی رحمت سمجھی جائے، بوجھ نہیں؛ نکاح عبادت سمجھا جائے، تجارت نہیں؛ اور ہمارا معاشرہ محبت، عدل اور اسلامی اقدار کا حقیقی گہوارہ بن جائے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں شریعت و سنت کے مطابق نکاح کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے، ہمارے معاشرے کو اس ناسور سے پاک فرمائے ، اور اس کے خاتمے کے لیے اپنا عملی کردار ادا کرنے کی توفیق بخشے۔ آمین۔
© صدائے قلم پلیٹ فارم - تمام حقوق محفوظ ہیں۔
© 2026 SADA E QALAM. ALL RIGHTS RESERVED.