تمہید:
انسانی معاشرہ محبت، ہمدردی اور باہمی تعاون کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ اسلام نے نکاح کو ایک انتہائی مقدس، سادہ اور بابرکت بندھن بنایا ہے تاکہ معاشرے میں پاکیزگی اور سکون عام ہو۔ لیکن افسوس کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم نے اس پاکیزہ رشتے کو رسم و رواج کی بیڑیوں میں جکڑ دیا ہے۔ انہی رسومات میں سے ایک سب سے ہولناک اور دردناک رسم "جہیز" ہے۔ جہیز، جو کبھی شاید خوشی کا ایک چھوٹا سا تحفہ ہوا کرتا تھا، آج ایک ایسی لازمی شرط اور لعنت بن چکا ہے جس نے اسے ایک معاشرتی ناسور کی شکل دے دی ہے۔ یہ ایک ایسا خاموش قاتل ہے جو غریب والدین کی عزت، سفید پوشی اور معصوم لڑکیوں کے خوابوں کو ہر روز زندہ درگور کر رہا ہے۔
جہیز کی تاریخی حقیقت اور موجودہ شکل:
اگر ہم تاریخ کے جھروکوں میں جھانکیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جہیز کی موجودہ شکل اسلامی تعلیمات کا حصہ کبھی نہیں رہی۔ اسلام میں مرد کو "قوام" (سرپرست) بنایا گیا ہے اور شادی کے تمام مالی اخراجات، بشمول مہر اور ولیمہ، مرد کے ذمے ہیں۔ حضور اکرم ﷺ نے اپنی چہیتی بیٹی سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا کو جو مختصر سا سامان دیا تھا، وہ جہیز کی کوئی لازمی رسم نہیں تھی، بلکہ وہ ایک شفیق باپ کا اپنی بیٹی کے لیے انتہائی سادگی کے ساتھ کیا گیا انتظام تھا، کیونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ خود آپ ﷺ کی سرپرستی میں تھے۔ آج ہم نے اس سادگی کا جنازہ نکال کر اسے ایک منافع بخش کاروبار بنا دیا ہے۔ شادی اب دو خاندانوں کا ملاپ نہیں، بلکہ بازار کی ایک منڈی بن چکی ہے، جہاں لڑکے کی تعلیم، نوکری اور حیثیت کے حساب سے جہیز کی قیمت طے کی جاتی ہے۔ گاڑی، نقد رقم، مہنگے فرنیچر اور الیکٹرانکس کی فرمائشیں اب ڈھکے چھپے الفاظ میں نہیں، بلکہ پورے فخر اور "حق" سمجھ کر کی جاتی ہیں۔
ایک معاشرتی ناسور (جہیز کے بھیانک اثرات):
جہیز کو ناسور اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ اپنے اندر کئی دوسری برائیوں کو جنم دیتا ہے۔ اس ایک رسم کی وجہ سے ہمارا پورا معاشرتی تانا بانا بکھر رہا ہے:
غریب اور سفید پوش والدین کی بے بسی: ایک باپ جو اپنی بیٹی کو پال پوس کر بڑا کرتا ہے، وہ معاشرے میں تب سر جھکا کر جینے پر مجبور ہو جاتا ہے جب اس کے پاس لڑکے والوں کی فرمائشیں پوری کرنے کے لیے وسائل نہیں ہوتے۔ کتنے ہی والدین ایسے ہیں جو بیٹیوں کی شادی کے لیے سود پر قرض لینے پر مجبور ہوتے ہیں اور زندگی بھر اس دلدل سے نکل نہیں پاتے۔
معصوم لڑکیوں کی بڑھتی عمریں: معاشرے میں لاکھوں لڑکیاں صرف اس لیے بن بیاہی بیٹھی ہیں کیونکہ ان کے والدین کے پاس جہیز دینے کی استطاعت نہیں۔ یہ صورتحال معاشرے میں نفسیاتی مسائل اور بے راہ روی کو جنم دے رہی ہے۔
شادی کے بعد کے مظالم: اگر کسی طرح شادی ہو بھی جائے اور جہیز لڑکے والوں کی امیدوں کے مطابق نہ ہو، تو معصوم لڑکی کو طعنے، ذہنی اذیت اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اخبارات اور سوشل میڈیا ایسی خبروں سے بھرے پڑے ہیں جہاں جہیز کم لانے پر لڑکیوں کو خودکشی پر مجبور کیا گیا یا انہیں زندہ جلا دیا گیا۔
اسلامی تعلیمات اور اسوۂ رسول ﷺ:
دینِ اسلام وہ خوبصورت مذہب ہے جس نے عورت پر سے معاشی بوجھ یکسر ختم کر دیا۔ قرآن مجید میں مہر کو عورت کا حق قرار دیا گیا، نہ کہ مرد کا۔ حضورِ اکرم ﷺ کا فرمانِ عالی شان ہے: "سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جس میں سب سے کم خرچ اور سادگی ہو۔" (مسند احمد)۔ آج ہم خود کو مسلمان کہلانے کے باوجود نکاح کو اتنا مشکل بنا چکے ہیں کہ غریب کے لیے حلال راستہ بند اور حرام کے راستے آسان ہوتے جا رہے ہیں۔ ہم نمائش اور ریاکاری میں اتنے اندھے ہو چکے ہیں کہ نبی پاک ﷺ کی سنتوں کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔
ہمارا کردار اور حل کی راہیں:
اس ناسور کو صرف تقریروں یا افسوس کرنے سے ختم نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کے لیے ہم میں سے ہر فرد کو عملی میدان میں اترنا ہوگا:
نوجوان نسل کا عزم (سب سے اہم قدم): اس مہم میں سب سے بڑا اور انقلابی کردار نوجوان لڑکوں کا ہے۔ نوجوانوں کو غیرت اور خودداری کا ثبوت دیتے ہوئے یہ عہد کرنا ہوگا کہ "میں بن مانگے جہیز نہیں لوں گا اور اپنے نکاح کو سنتِ نبوی کے مطابق سادہ رکھوں گا۔" جب لڑکے خود کھڑے ہو کر جہیز کو ٹھکرائیں گے، تو کسی میں ہمت نہیں ہوگی کہ وہ فرمائش کرے۔
علماءِ کرام اور خواتین کا کردار: ہماری ماؤں بہنوں کو چاہیے کہ وہ دوسروں کے جہیز پر نظریں جمانے اور شادیوں میں نمائش کی تعریف کرنے کے بجائے سادگی کو فروغ دیں۔ علماءِ کرام کو منبر و محراب سے اس رسم کے خلاف مسلسل آواز اٹھانی چاہیے اور ایسے نکاح کا بائیکاٹ کرنا چاہیے جہاں جہیز کی نمائش کی جا رہی ہو۔
سماجی بائیکاٹ: جب تک ہم گواہ بن کر ایسے لالچی خاندانوں کا سماجی بائیکاٹ نہیں کریں گے، تب تک قانون بھی بے اثر رہے گا۔ ہمیں لالچی لوگوں کو معاشرے میں عزت دینے کے بجائے ان کی حوصلہ شکنی کرنی ہوگی۔
اختتامیہ:
جہیز ایک ایسی دیمک ہے جو ہماری تہذیب اور اخلاقیات کو چاٹ رہی ہے۔ اگر آج ہم نے بیدار ہو کر اس کے خلاف آواز نہ اٹھائی اور اپنے عمل سے اسے نہ بدلا، تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم "صدائے قلم" کے اس پیغام کو دل سے لگائیں، اپنی سوچ بدلیں اور معاشرے کو یہ باور کروائیں کہ بیٹیاں رحمت ہوتی ہیں، کوئی معاشی بوجھ یا سودے بازی کا سامان نہیں۔ آئیے عہد کریں کہ ہم اپنے معاشرے کو اس ناسور سے پاک کریں گے اور نکاح کو دوبارہ سے آسان اور بابرکت بنائیں گے۔