جہیز ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علی سید المرسلین أما بعد ،
حالیہ زمانے میں اگر ہم اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں
معاشرے میں اٹھیں بیٹھیں اور لوگوں کے حالات کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت ہمارے معاشرے کو تباہ کرنے والی بے شمار بیماریاں اپنے عروج پر ہیں،
لیکن ان تمام بیماریوں میں ایک نہایت خطرناک اور ہلاکت خیز مرض جہیز بھی ہے،
جس نے نہ جانے کتنے گھروں کو برباد کیا
کتنی ماؤں کی گودیں اجاڑیں، کتنے باپوں کی کمر توڑی اور کتنی ہی بیٹیوں کی جوانیاں نگل لیں۔
جہیز ایک ایسی لعنت ہے جس نے خوشیوں بھرے رشتوں کو بوجھ بنا دیا ۔ یہ ایک ایسا ناسور ہے جس نے معاشرے کے جسم کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیا ہے۔ اس فتنے سے نہ امیر محفوظ ہے نہ غریب،
نہ شہری نہ دیہاتی۔ ہر طبقہ اس آگ میں کسی نہ کسی صورت جل رہا ہے۔
شعر
جہیز کی رسم نے گھر گھر میں آگ لگائی ہے
کسی نے بیٹی، کسی نے جوانی گنوائی ہے
نکاح تھا جو کبھی رحمتوں کا اک دریا
جہیز نے اسے سودا گری بنائی ہے
اسلام تو ہمیں آسانیاں پیدا کرنے کا درس دیتا ہے۔ ہمارا دین کسی کو تکلیف پہنچانے کی اجازت نہیں دیتا۔ ذرا سوچئے! اس سے بڑھ کر تکلیف اور کیا ہوگی کہ ایک باپ اپنی جوان بیٹی کو صرف اس وجہ سے گھر بٹھائے رکھے کہ وہ جہیز کا انتظام نہیں کر سکتا؟
کتنے ہی باپ ایسے ہیں جو دن رات محنت کرتے کرتے بوڑھے ہو جاتے ہیں، قرضوں میں ڈوب جاتے ہیں، اپنی صحت گنوا دیتے ہیں، لیکن پھر بھی جہیز کی نام نہاد فہرست پوری نہیں کر پاتے۔
اور کتنی ہی بچیاں ایسی ہیں جو اپنے والدین کی پریشانیاں دیکھ کر اندر ہی اندر گھلتی رہتی ہیں۔ بعض اوقات تو حالات اس قدر سنگین ہو جاتے ہیں کہ کوئی بیٹی خود اپنی زندگی ختم کرنے کی کوشش کرتی ہے، صرف اس لیے کہ اس کے والدین اس کی وجہ سے مزید ذلیل نہ ہوں۔
آخر یہ کیسا معاشرہ ہے؟
یہ کیسی انسانیت ہے؟
اور یہ کیسی غیرت ہے؟
ارے! ایسے انسان نما درندوں کو شرم سے ڈوب مرنا چاہیے جو ایک بیٹی کو قبول کرنے کے بدلے گاڑیوں، موٹر سائیکلوں، لاکھوں روپوں اور قیمتی سامان کا مطالبہ کرتے ہیں۔
تمہیں بلٹ کا شوق ہے؟
تم اسکارپیو میں سفر کرنا پسند کرتے ہو؟
تم تھار کے خواب دیکھتے ہو؟
تو اپنے خون پسینے کی کمائی سے حاصل کرو!
اگر ہمت ہے تو خود محنت کرو ۔ دن رات ایک کرو پسینہ بہاؤ۔ تب جا کر اپنی خواہشات پوری کرو،
حرام خوری پر کیوں زور دیتے ہو؟
فری میں ملنے والی دولت پر نظریں کیوں جماتے ہو؟
یاد رکھو!
مانگ کر لی گئی عزت ۔ عزت نہیں ہوتی
اور جو شخص اپنی خوشحالی کی بنیاد دوسروں کے گھروں کی تباہی پر رکھتا ہے، اس کے حصے میں آخرکار ذلت ہی آتی ہے۔
قرآن کریم کی تعلیم
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾
"گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔
(سورۃ المائدۃ: 2)
جہیز کی لعنت ظلم، تکلیف، قرض اور معاشرتی بگاڑ کو جنم دیتی ہے، لہٰذا اس کی حمایت یا حوصلہ افزائی کسی صورت درست نہیں۔
ہم مسلمان ہیں!
ہم اسلام کے نام لیوا ہیں۔
ہمارا دین تمام ادیان پر غالب اور کامل دین ہے۔
ہمارے رہنما، ہمارے قائد، ہمارے مقتدا، ہمارے آقا و مولا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔
ہماری کامیابی صرف اور صرف آپ ﷺ کی سیرتِ طیبہ کی پیروی میں ہے۔
جب ہم نبی کریم ﷺ کی مبارک زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں تو کہیں بھی موجودہ دور کے جہیز کا تصور نظر نہیں آتا۔
بلکہ ہمیں ہر جگہ سادگی، آسانی اور رحمت نظر آتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ أَعْظَمَ النِّكَاحِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُ مَؤُونَةً (حدیث)
"سب سے زیادہ بابرکت نکاح وہ ہے جس میں سب سے کم خرچ ہو۔"
(مسند أحمد، رقم: 24595)
اور ایک روایت میں ہے:
خَيْرُ النِّكَاحِ أَيْسَرُهُ
"بہترین نکاح وہ ہے جو سب سے آسان ہو۔
(ابن حبان)
لیکن افسوس!
ہم نے نکاح کو آسان کرنے کے بجائے مشکل بنا دیا۔
ہم نے سنت کو چھوڑ کر رسموں کو اپنایا۔
ہم نے برکتوں کو چھوڑ کر نمود و نمائش کو اختیار کر لیا۔
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح۔
رسول اللہ ﷺ نے اپنی پیاری صاحبزادی حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا۔
آپ ﷺ چاہتے تو دنیا بھر کے خزانے ان پر نچھاور فرما دیتے، لیکن آپ ﷺ نے سادگی اختیار فرمائی تاکہ قیامت تک آنے والی امت کے لیے عملی نمونہ قائم ہو جائے۔
اگر آج ہم واقعی رسول اللہ ﷺ سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں ان کی سنت کو اپنانا ہوگا، نہ کہ معاشرے کی فضول رسموں کو۔
شعر …
محمدؐ کے غلاموں کی یہی پہچان ہوتی ہے
نکاحوں میں سادگی اور دل میں شان ہوتی ہے
جو سنت کو چھوڑ کر رسموں کے پیچھے چل پڑے
وہ خود بھی بھٹک گئے اور دوسروں کو بھی بھٹکا گئے ،
آج نوجوانوں کو مطالبات کرنا بہت آسان لگتا ہے۔
لیکن ذرا رک کر سوچو!
ابھی تم نے تپتی دھوپ میں پتھر نہیں توڑے۔
ابھی تم نے شدید سردی میں ٹھنڈے پانی سے برتن نہیں دھوئے۔
ابھی تم نے فاقوں کے دن نہیں دیکھے۔
ابھی تم نے بچوں کی فیسیں جمع نہیں کروائیں۔
ابھی تم پر خاندان کی ذمہ داریاں نہیں آئیں۔
اسی لیے تمہیں ہر چیز آسان لگتی ہے۔
تم بغیر سوچے سمجھے ایک لمبی فہرست لڑکی والوں کے ہاتھ میں تھما دیتے ہو۔
لیکن ہم نے ایسے گھرانے اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں جن میں باپ دن رات محنت کرتا ہے، جبکہ ماں گھریلو کاموں کے ساتھ ساتھ دوسروں کے برتن، کپڑے اور جھاڑو پونچھا تک کرتی ہے، صرف اس لیے کہ کسی طرح اپنی بیٹی کی شادی کر سکے۔
ذرا سوچو!
کل تمہاری بھی بیٹیاں ہوں گی۔
تمہیں بھی ان کے مستقبل کی فکر ہوگی۔
جب کوئی تم سے لاکھوں روپیوں کا مطالبہ کرے گا، جب کوئی تم سے مہنگی گاڑی مانگے گا، جب تمہارے بسے بسائے گھر پر قرضوں کا بوجھ پڑے گا، تب تمہیں اندازہ ہوگا کہ جہیز کتنی بڑی مصیبت ہے۔
شعر
دوسروں کے درد کا احساس پیدا کیجیے
اپنی بیٹی کا تصور دل میں زندہ کیجیے
جو آج مانگ رہے ہیں وہ کل پچھتائیں گے
وقت کے فیصلے سب کو سمجھ میں آئیں گے
بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ علماء اس موضوع پر بات نہیں کرتے۔
حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
علماء کرام ہمیشہ سے اس برائی کے خلاف آواز بلند کرتے آئے ہیں۔
ان کی تقریریں، تحریریں، فتاویٰ اور نصیحتیں سب اسی بات کی دعوت دیتی ہیں کہ نکاح آسان بنایا جائے اور جہیز جیسی لعنت کو ختم کیا جائے۔
لیکن صرف علماء کے بولنے سے معاشرہ نہیں بدلتا۔
جب تک عوام ساتھ نہ دیں، برائی ختم نہیں ہوتی۔
لہٰذا آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب مل کر عہد کریں:
نہ جہیز لیں گے۔
نہ جہیز دیں گے۔
نہ اس کی حوصلہ افزائی کریں گے۔
نکاح کو آسان بنائیں گے۔
سنتِ رسول ﷺ کو عام کریں گے۔
اور غیر شرعی رسموں سے مکمل کنارہ کشی اختیار کریں گے۔
یاد رکھو!
ہم نے کسی رسم و رواج کی غلامی قبول نہیں کی۔
ہم نے صرف اور صرف محمد عربی ﷺ کی غلامی قبول کی ہے۔
اور غلام کی شان یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے آقا کے ہر حکم کو دل و جان سے قبول کرے۔
ہمارا دین خواہشاتِ نفسانی کا نام نہیں۔
اسلام نفس کو اللہ کے حکم کے تابع کرنے کا نام ہے۔
ہم نے کلمۂ طیبہ پڑھا ہے:
أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدًا عبده ورسوله
لہٰذا ہمیں اپنی زندگی رب کی مرضی کے مطابق گزارنی ہے، نہ کہ معاشرے کی غلط رسموں کے مطابق۔
آؤ! آج عہد کریں کہ ہم اپنے گھروں سے اس ناسور کا خاتمہ کریں گے، نکاح کو آسان بنائیں گے، سنت کو زندہ کریں گے اور آنے والی نسلوں کو جہیز کی لعنت سے محفوظ بنائیں گے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا ربّ العالمین ،