🏆 جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

naila
07 Jun 2026
جہیز ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

انسانی معاشرہ جب رسم و رواج کی زنجیروں میں جکڑ جاتا ہے تو بہت سی ایسی برائیاں جنم لیتی ہیں جو رفتہ رفتہ ناسور بن جاتی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں جہیز بھی ایک ایسی ہی لعنت اور تباہ کن رسم ہے جس نے بے شمار خاندانوں کی خوشیوں کو غم میں بدل دیا ہے۔ بظاہر یہ ایک “رسم” نظر آتی ہے، مگر حقیقت میں یہ غریب والدین کے لیے ایک ایسا بوجھ ہے جو ان کی کمر توڑ دیتا ہے۔
جہیز اسلامی تعلیمات کا حصہ نہیں بلکہ دوسری قوموں کی نقالی کا نتیجہ ہے۔ غیر مسلم معاشروں میں چونکہ لڑکیوں کو جائیداد میں حصہ نہیں دیا جاتا تھا، اس لیے “دان دہیج” کے نام پر کچھ سامان دے کر اپنی ذمہ داری پوری کی جاتی تھی۔ اسلام نے اس تصور کو قبول نہیں کیا، بلکہ عورت کو عزت، وراثت میں حق اور معاشی تحفظ عطا کیا۔ اسلام نے شادی کو آسان بنایا اور مرد کو خاندان کی کفالت کا ذمہ دار قرار دیا۔
افسوس کہ آج مسلمان معاشرہ بھی اسی غیر اسلامی رسم کا شکار ہوچکا ہے۔ “جہیزِ فاطمی” کا نام لے کر اس رسم کو جواز دینے کی کوشش کی جاتی ہے، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی تھے اور آپؐ کی کفالت و سرپرستی میں رہے تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی زرہ فروخت کروا کر مہر اور گھریلو ضرورت کا انتظام فرمایا۔ یہ آج کے رائج معنوں میں جہیز نہیں تھا، بلکہ ایک سرپرست کی جانب سے نکاح میں تعاون اور آسانی پیدا کرنے کی ایک مثال تھی۔
اسلامی تعلیمات کا تقاضا یہ ہے کہ شوہر اپنی بیوی کی ضروریات اور گھر کی ذمہ داری خود اٹھائے۔ آج بھی عرب معاشروں میں عمومی طور پر لڑکی والوں پر جہیز کا بوجھ نہیں ڈالا جاتا بلکہ لڑکا خود شادی اور گھر کے انتظامات کرتا ہے۔ یہی غیرت، خود داری اور اسلامی مزاج کی علامت ہے۔
اسلام میں شادی کے موقع پر لڑکے کی طرف سے لڑکی کو حق مہر (دینے کا پابند بنایا گیا ہے)۔ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:"اور عورتوں کو ان کے مہر خوش دلی کے ساتھ ادا کرو۔" (سورۃ النساء، آیت 4)رسول اللہ ﷺ نے نکاح کو انتہائی آسان بنانے کی تلقین فرمائی ہے تاکہ معاشرے میں پاکدامنی عام ہو اور شادیاں مشکل نہ ہوں۔
آپ ﷺ کا ارشادِ مبارک ہے: "سب سے بہتر نکاح وہ ہے جو سب سے زیادہ آسان ہو۔" (مشکوٰۃ المصابیح)
اس کے برعکس، جہیز کا مطالبہ یا لڑکی والوں پر مالی بوجھ ڈالنا قرآن کی تعلیمات کی صریح خلاف ورزی ہے۔ قرآن میں ظلم، ناانصافی اور دوسروں کا مال ناحق کھانے سے سختی سے منع کیا گیا ہے
لیکن ہمارے یہاں صورتِ حال نہایت افسوسناک ہوچکی ہے۔ جہیز کی وجہ سے غریب والدین اپنی بیٹیوں کے نکاح کے لیے پریشان رہتے ہیں۔ کتنی ہی بچیاں صرف اس لیے گھروں میں بیٹھی رہ جاتی ہیں کہ ان کے والدین جہیز فراہم نہیں کرسکتے۔ معاشرے میں دکھاوے اور مقابلے کی ایسی دوڑ لگی ہوئی ہے کہ لوگ اپنی حیثیت سے بڑھ کر خرچ کرنے پر مجبور ہیں۔ کوئی قرض لیتا ہے، کوئی زیور بیچتا ہے اور کوئی اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی صرف ایک دن کی نمائش پر لٹا دیتا ہے۔ مہندی کی لالی تو چند دنوں میں اتر جاتی ہے مگر جہیز کے قرض کا بوجھ برسوں تک دل و دماغ پر باقی رہتا ہے۔
یہ المیہ صرف معاشی نہیں بلکہ اخلاقی بھی ہے۔ جب شادی جیسے مقدس رشتے کو دولت اور سامان سے جوڑ دیا جائے تو محبت، اخلاص اور سادگی کی روح ختم ہوجاتی ہے۔ بعض اوقات جہیز کی کمی کو بنیاد بنا کر لڑکیوں کو طعنے دیے جاتے ہیں، ان پر ظلم کیا جاتا ہے اور کئی گھرانے برباد ہوجاتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف غیر اسلامی ہے بلکہ انسانیت کے بھی خلاف ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اس ناسور کے خاتمے کے لیے ہمارا کردار کیا ہونا چاہیے؟
سب سے پہلی ذمہ داری علماء، دانشوروں اور سماجی کارکنان کی ہے کہ وہ اس برائی کے خلاف مسلسل آواز بلند کریں۔ مسجدوں کے منبروں، تعلیمی اداروں، مضامین اور تقاریر کے ذریعے لوگوں میں شعور پیدا کیا جائے کہ جہیز باعثِ عزت نہیں بلکہ باعثِ ذلت ہے۔
دوسری اہم ذمہ داری نوجوانوں کی ہے۔ اگر نوجوان یہ عہد کرلیں کہ وہ جہیز نہیں لیں گے تو یہ رسم بڑی حد تک ختم ہوسکتی ہے۔ اصل مردانگی اور خود داری یہی ہے کہ انسان اپنی محنت اور قوتِ بازو پر اعتماد کرے، نہ کہ لڑکی والوں کے مال و اسباب پر۔ وہی نکاح بابرکت ہے جو سادگی، محبت اور آسانی کے ساتھ ہو۔ جس معاشرے میں بیٹی رحمت سمجھی جائے اور نکاح تجارت نہ بنے، وہی معاشرہ حقیقی معنوں میں اسلامی اور مہذب کہلانے کا حق دار ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب اجتماعی طور پر اس لعنت کے خلاف کھڑے ہوں۔ اپنے گھروں سے اس رسم کا خاتمہ کریں، سادہ نکاح کو فروغ دیں اور اپنے عمل سے یہ ثابت کریں کہ عزت انسان کے کردار میں ہوتی ہے، جہیز کے سامان میں نہیں۔ جب معاشرہ اپنی سوچ بدلے گا تبھی بیٹیوں کے چہروں پر حقیقی خوشیوں کی روشنی لوٹے گی اور نکاح آسان ہوگا، بوجھ نہیں
اللہ اس پرعمل کرنے کی تو فیق عطا فرمائے -(آمین ثم آمین )🤲🤲🤲🤲🤲
© صدائے قلم پلیٹ فارم - تمام حقوق محفوظ ہیں۔
© 2026 SADA E QALAM. ALL RIGHTS RESERVED.