جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار
تمہید :
کچھ بیماریاں جسم کو کمزور کرتی ہیں اور کچھ معاشرے کو۔ ایسی ہی ایک بیماری جہیز ہے، جو برسوں سے ہمارے معاشرے کے وجود میں سرایت کیے ہوئے ہے۔ یہ وہ ناسور ہے جسے لوگ برا بھی کہتے ہیں اور غیر محسوس طور پر اسے زندہ بھی رکھتے ہیں۔ شاید ہی کوئی شخص جہیز کی تعریف کرتا ہو، لیکن اس کے باوجود یہ رسم آج بھی ہمارے گھروں، شادیوں اور سوچوں میں موجود ہے۔
افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ جہیز کی صرف زبان سے مذمت کی جاتی ہے، مگر عمل سے اسی آگ میں گھی ڈالا جاتا ہے۔ جہیز کے برقرار رہنے کی سب سے بڑی وجہ لالچ نہیں، بلکہ ہماری خاموشی ، بے عملی اور معاشرتی مصلحت پسندی ہے۔ ہم اسے غلط سمجھتے ہیں مگر اس کے خلاف آواز بلند کرنے سے گریز کرتے ہیں۔
اسلام کا نقطۂ نظر :
اسلام نے نکاح کو عبادت، محبت اور سکون کا ذریعہ بنایا ہے، نہ کہ مالی لین دین کا سودا۔
۱) اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
"وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً"
"اور عورتوں کو ان کے مہر خوش دلی کے ساتھ ادا کرو۔"
(سورۃ النساء: 4)
اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام نے مالی ذمہ داری مرد پر رکھی ہے، نہ کہ لڑکی کے والدین پر۔
۲) قرآنِ کریم میں ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے:
"إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ"
"بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔"
(سورۃ الحجرات: 13)
یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ انسان کی عزت کا معیار دولت، سامان یا ظاہری حیثیت نہیں بلکہ تقویٰ اور کردار ہے۔
۳) اللہ تعالیٰ فضول خرچی سے بھی منع فرماتا ہے:
"وَلَا تُسْرِفُوا ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ"
"اور فضول خرچی نہ کرو، بے شک اللہ فضول خرچی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔"
(سورۃ الأنعام: 141)
۴) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"سب سے زیادہ برکت والا نکاح وہ ہے جس میں خرچ کم ہو۔"
اور ایک اور حدیث میں فرمایا:
۵) "تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہو۔"
(ترمذی)
اگر ہم ان تعلیمات کو سامنے رکھیں تو واضح ہو جاتا ہے کہ جہیز کی موجودہ رسم اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ نہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ جہیز ایک ایسی روایت ہے جس کی بنیاد اسلامی تعلیمات پر نہیں بلکہ معاشرتی رسم و رواج پر قائم ہے۔ اسلام نے نکاح کو آسان بنایا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ بہت سے مسلمان بھی بعض غیر اسلامی رسوم سے متاثر ہو گئے۔ نتیجتاً جہیز جیسی روایت، جو بعض مقامی اور ہندوانہ معاشرتی رسوم کا حصہ تھی، مسلم معاشرے میں بھی داخل ہو گئی۔ حالانکہ ایک مسلمان کا معیار معاشرے کی روایت نہیں بلکہ قرآن و سنت کی تعلیمات ہونی چاہئیں۔
جہیز: اصل مسئلہ سامان نہیں، سوچ ہے
اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ جہیز چند گھریلو اشیاء کا نام ہے، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔
اصل مسئلہ سامان نہیں بلکہ وہ سوچ ہے جس نے انسان کی قدر کو اس کے کردار سے ہٹا کر اس کی مالی حیثیت سے جوڑ دیا ہے۔
ہم زبان سے اخلاق، تعلیم اور اچھے کردار کی تعریف کرتے ہیں، مگر عملی زندگی میں اکثر دولت اور ظاہری حیثیت کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ یہی سوچ بیٹی کو رحمت کے بجائے بوجھ اور شادی کو عبادت کے بجائے ایک مالی معاہدہ بنا دیتی ہے۔ لہٰذا جہیز کا خاتمہ صرف سامان ختم کرنے سے نہیں بلکہ اس ذہنیت کو بدلنے سے ممکن ہے جو انسان کی اصل قدر کو فراموش کر چکی ہے۔
زمینی حقائق: ایک تلخ حقیقت
جہیز کے نقصانات صرف شادی کے دن تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس کے اثرات برسوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔
۱) والدین پر معاشی بوجھ :
بہت سے والدین اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی بیٹی کی شادی پر خرچ کر دیتے ہیں۔ بعض قرض لیتے ہیں، بعض اپنی ضروریات قربان کرتے ہیں اور بعض برسوں تک مالی دباؤ برداشت کرتے ہیں۔
۲) شادیوں میں تاخیر :
بہت سی لڑکیوں کی شادیاں صرف اس لیے مؤخر ہو جاتی ہیں کہ ان کے والدین مطلوبہ اخراجات یا جہیز کا انتظام نہیں کر پاتے۔ اس سے نہ صرف خاندان بلکہ خود لڑکی بھی ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتی ہے۔
۳) گھریلو مسائل اور تشدد :
جہیز کی کمی کو بنیاد بنا کر بعض خواتین کو طعنے دیے جاتے ہیں، ان کی تذلیل کی جاتی ہے اور بعض اوقات تشدد کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ ایسے واقعات معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔
۴) جہیز سے متعلق اموات :
قومی جرائم ریکارڈ بیورو (NCRB) کے مطابق بھارت میں ہر سال ہزاروں خواتین جہیز سے متعلق جرائم اور اموات کا شکار ہوتی ہیں۔ اوسطاً روزانہ ۱۷ سے ۱۸ بیٹیاں اس لعنت کی نذر ہو جاتی ہیں۔
یہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ ایسے خواب ہیں جو ادھورے رہ گئے، ایسی مائیں ہیں جن کی گودیں اجڑ گئیں اور ایسے والدین ہیں جن کی خوشیاں ہمیشہ کے لیے چھن گئیں۔
۵) بیٹی کو بوجھ سمجھنے کی سوچ :
سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ جہیز نے بعض ذہنوں میں بیٹی کو رحمت کے بجائے بوجھ بنا دیا ہے، جبکہ اسلام بیٹی کو رحمت اور جنت کا ذریعہ قرار دیتا ہے۔
ہمارا کردار: تبدیلی کی اصل کنجی
معاشرے کی ہر بڑی تبدیلی ایک فرد کے فیصلے سے شروع ہوتی ہے۔ جہیز کے خلاف صرف گفتگو کرنا کافی نہیں۔ اگر ہم واقعی اس ناسور کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔
۱) بیٹیوں کی تعلیم اور ہنر کو ترجیح دینا :
اکثر والدین بچی کی پیدائش کے ساتھ ہی جہیز کے لیے بچت شروع کر دیتے ہیں۔
والدین کو چاہیے کہ وہ اسی فکر کا کچھ حصہ اس کی تعلیم، شخصیت سازی، ہنر مندی اور خود اعتمادی پر بھی صرف کریں۔
جہیز چند سال بعد پرانا ہو جاتا ہے، لیکن علم اور کردار پوری زندگی ساتھ رہتے ہیں۔
۲) بیٹوں کی تربیت پر توجہ دینا:
جہیز کے خاتمے کا سب سے مؤثر راستہ بیٹوں کی تربیت سے گزرتا ہے۔
اگر ایک لڑکے کو بچپن سے یہ سکھایا جائے کہ عزت محنت سے ملتی ہے، سامان سے نہیں؛ اور شریکِ حیات کوئی مالی پیکیج نہیں بلکہ ایک انسان ہے، تو وہ بڑا ہو کر جہیز کو اپنا حق نہیں سمجھے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر لینے والا نہ ہو تو دینے والا بھی نہیں ہوگا۔
۳) خاموشی توڑنا :
جہیز کی سب سے بڑی طاقت لالچ نہیں، خاموشی ہے۔
ہم میں سے بہت سے لوگ اسے غلط سمجھتے ہیں، مگر مخالفت نہیں کرتے۔ ہم سوچتے ہیں کہ "لوگ کیا کہیں گے" یا "یہ تو رواج ہے"۔
اسی خاموشی نے اس ناسور کو طاقت دی ہے۔ ہمیں اِس خاموشی کو توڑنا ہوگا۔
۴) سادہ شادیوں کو فروغ دینا :
ہمیں شادی کو نمائش کا میدان بنانے کے بجائے سادگی کو عزت دینی ہوگی۔
جس دن سادہ شادی باعثِ فخر بن جائے گی، اس دن فضول اخراجات اور جہیز کی دوڑ کمزور پڑ جائے گی۔
۵) سوشل میڈیا کا مثبت استعمال:
آج سوشل میڈیا رائے عامہ بنانے کی طاقت رکھتا ہے۔
اگر نوجوان مہنگی شادیوں اور قیمتی تحائف کی نمائش کے بجائے بغیر جہیز شادیوں، سادہ نکاح اور مثبت مثالوں کو فروغ دیں تو معاشرتی سوچ بدل سکتی ہے۔
۶) جہیز مانگنے والوں کی حوصلہ شکنی کرنا :
اکثر ہم جہیز لینے والوں پر تنقید تو کرتے ہیں، مگر ان کی شادیوں کی تعریف بھی کرتے ہیں۔
یہ تضاد ختم کرنا ہوگا۔
جب معاشرہ ایسے رویوں کو قابلِ فخر سمجھنا چھوڑ دے گا تو تبدیلی خود بخود شروع ہو جائے گی۔
۷) اپنی ذات سے آغاز کیجیے :
ہم ہمیشہ پوچھتے ہیں:
"معاشرہ کب بدلے گا؟"
مگر اصل سوال یہ ہے:
"میں کب بدلوں گا؟"
ہر بڑی تبدیلی ایک فرد کے فیصلے سے شروع ہوتی ہے، اور معاشرہ انہی افراد سے مل کر بنتا ہے۔
۸) حکومت اور قانون کا مؤثر کردار :
جہیز کے خلاف قوانین موجود ہیں، لیکن صرف قانون بنا دینا کافی نہیں ہوتا بلکہ اس پر مؤثر عمل درآمد بھی ضروری ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ جہیز سے متعلق شکایات کے اندراج اور متاثرہ خواتین کی مدد کے لیے آسان اور محفوظ نظام فراہم کرے۔ جہیز کے نام پر ہونے والے ظلم کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔
تاہم یہ حقیقت بھی یاد رکھنی چاہیے کہ قانون مجرم کو سزا دے سکتا ہے، مگر معاشرے کی سوچ نہیں بدل سکتا؛ سوچ کی تبدیلی کی ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے۔
۹) علماء، اساتذہ اور سماجی رہنماؤں کا کردار :
معاشرے کی فکری اور اخلاقی تربیت میں علماء، اساتذہ اور سماجی رہنماؤں کا اہم کردار ہوتا ہے۔ مساجد کے خطبات، مدارس، اسکولوں اور کالجوں میں جہیز کے نقصانات اور اسلامی تعلیمات کو مسلسل اجاگر کیا جانا چاہیے۔ جب نوجوانوں کو یہ شعور دیا جائے گا کہ نکاح آسانی، محبت اور ذمہ داری کا نام ہے، نہ کہ مالی لین دین کا، تو ان کی سوچ میں مثبت تبدیلی پیدا ہوگی۔
۱۰) رشتہ طے کرتے وقت واضح مؤقف اختیار کرنا :
بہت سے تنازعات غیر ضروری توقعات سے جنم لیتے ہیں۔
اگر رشتہ طے کرتے وقت دونوں خاندان صاف الفاظ میں یہ طے کر لیں کہ شادی سادگی سے ہوگی اور جہیز کی کوئی شرط نہیں رکھی جائے گی تو بہت سے مسائل ابتدا ہی میں ختم ہو سکتے ہیں۔
۱۱) اجتماعی نکاح اور سماجی تعاون کو فروغ دینا :
معاشرے کے صاحبِ حیثیت افراد، سماجی تنظیمیں اور فلاحی ادارے اجتماعی اور سادہ نکاح کی حوصلہ افزائی کریں۔ ایسے اقدامات نہ صرف غیر ضروری اخراجات کم کرتے ہیں بلکہ یہ پیغام بھی دیتے ہیں کہ شادی کی کامیابی کا تعلق دولت اور سامان سے نہیں بلکہ باہمی احترام اور ذمہ داری سے ہے۔ اگر معاشرہ مل کر سادگی کو فروغ دے تو جہیز جیسی رسم کی بنیادیں خود بخود کمزور پڑ سکتی ہیں۔
۱۲) بغیر جہیز شادی کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنا :
معاشرے میں ایسے خاندانوں اور نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے جو بغیر جہیز شادی کا فیصلہ کرتے ہیں۔ عموماً توجہ ان لوگوں پر دی جاتی ہے جو جہیز مانگتے ہیں، جبکہ خاموشی سے اس رسم کو مسترد کرنے والوں کی مثالیں سامنے نہیں آتیں۔ اگر ایسے افراد اور خاندانوں کو سماجی سطح پر سراہا جائے اور ان کے طرزِ عمل کو مثالی قرار دیا جائے تو دوسروں کو بھی اس مثبت رویے کو اپنانے کی ترغیب ملے گی۔ اس طرح بغیر جہیز شادی کرنا ایک غیر معمولی کام نہیں بلکہ ایک قابلِ فخر سماجی روایت بن سکتا ہے۔
نتیجہ :
جہیز صرف ایک رسم نہیں بلکہ ایک ایسی فرسودہ سوچ کا مظہر ہے جو انسان کی قدر کو اس کے کردار کے بجائے اس کے سامان سے جوڑ دیتی ہے۔ اسلام نے نکاح کو آسان بنایا، مگر ہم نے اپنی رسومات، توقعات اور معاشرتی دباؤ سے اسے مشکل بنا دیا۔
اس ناسور کا علاج صرف قانون سازی میں نہیں بلکہ ہماری سوچ، تربیت، ترجیحات اور کردار میں پوشیدہ ہے۔
جس دن ہم بیٹیوں کے لیے جہیز کے صندوقوں کے بجائے علم و ہنر کا سرمایہ جمع کرنا شروع کر دیں گے، جس دن نوجوان جہیز لینے کو حق نہیں بلکہ غلط مطالبہ سمجھیں گے، اور جس دن معاشرہ سامان کے بجائے انسان کی قدر کو اہمیت دے گا، اسی دن اس ناسور کے خاتمے کی حقیقی تبدیلی ممکن ہوگی۔
سوال یہ نہیں ہے کہ "جہیز کب ختم ہوگا؟"
اصل سوال یہ ہے کہ "ہم اس کے خاتمے کے لیے اپنا کردار کب ادا کریں گے؟"
جس دن ہم اس سوال کا دیانت داری سے جواب دے دیں گے، اسی دن اس ناسور کے خاتمے کا سفر شروع ہو جائے گا۔
اللّٰہ تعالیٰ ہمارے معاشرے کو جہیز جیسی فرسودہ رسم سے نجات عطا فرمائے اور نکاح کو آسان بنانے کی توفیق عطا فرمائے ، آمین یا رب العالمین ۔