🏆 جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

shaikh Zeenat Abu Talib
08 Jun 2026
جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار
💠 ایک غریب باپ اپنی بیٹی کی شادی کے لیے برسوں تک پیسہ جمع کرتا رہا۔ اس نے اپنی خواہشات قربان کیں، قرض لیا اور دن رات محنت کی، مگر جب جہیز کے مطالبات پورے نہ ہو سکے تو رشتہ ٹوٹ گیا۔ یہ صرف ایک خاندان کی کہانی نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے ہزاروں گھرانوں کا المیہ ہے۔ جہیز کی رسم نے شادی جیسے مقدس رشتے کو ایک معاشی بوجھ بنا دیا ہے۔💠
◻️ آغازِ کلام اور انسانی معاشرہ
ارشادِ باری ہے:-
"وَأَنْكِحُوا الْأَيَامَى مِنكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ ۚ إِن يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ"
ترجمہ: "اور تم اپنے بے نکاح مردوں اور عورتوں کا نکاح کر دو اور اپنے نیک غلاموں اور لونڈیوں کا بھی۔ اگر وہ محتاج ہوں گے تو اللہ اپنے فضل سے انہیں غنی کر دے گا، اور اللہ بڑی وسعت والا، خوب جاننے والا ہے۔" (سورۃ النور: ٣٢)۔
انسانی معاشرے کی بقا، سکون اور پاکیزگی کا دارومدار نکاح جیسے مقدس بندھن پر ہے۔ اسلام نے شادی کو دو روحوں اور دو خاندانوں کے ملاپ کا ذریعہ قرار دیا ہے، جس کا مقصد محبت، سکون اور نسلِ انسانی کا تحفظ ہے۔ لیکن افسوس کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، ہم نے اس پاکیزہ رشتے کو مادہ پرستی کی بیڑیوں میں جکڑ دیا ہے۔ جہیز ان اشیاء، نقدی اور جائداد کو کہا جاتا ہے جو لڑکی کے والدین شادی کے موقع پر اسے یا اس کے شوہر کو دیتے ہیں۔ موجودہ دور میں جہیز کی رسم ایک بدترین سماجی ناسور بن چکی ہے۔ جو روایت کبھی والدین کی طرف سے بیٹی کے لیے دلی محبت کا ایک رضاکارانہ تحفہ تھی، آج وہ ایک لازمی شرط، زبردستی کا ٹیکس اور غریب خاندانوں کے لیے عذاب بن چکی ہے۔ اس نے شادی جیسے آسان عمل کو ایک مہنگا تجارتی سودا بنا دیا ہے، جہاں لڑکی کی سیرت اور اخلاق نہیں، بلکہ اس کے باپ کی جیب اور بھائی کی کمائی دیکھی جاتی ہے۔

◻️ رسمِ جہیز کا تاریخی پس منظر
تاریخ گواہ ہے کہ جہیز کا آغاز غیر اسلامی تہذیبوں سے ہوا، جہاں بیٹی کو وراثت میں حصہ نہیں دیا جاتا تھا، اس لیے رخصتی کے وقت کچھ الوداعی سامان دے دیا جاتا تھا۔ مسلمانوں نے اس رسم کو بغیر سوچے سمجھے اس طرح اپنایا کہ آج یہ ایک سماجی ناسور بن چکی ہے۔ برصغیر سمیت دنیا کی مختلف تہذیبوں میں جہیز کی رسم مختلف شکلوں میں رائج رہی ہے، لیکن اسلام نے نکاح کو آسان بنایا۔ آج حالت یہ ہے کہ رشتہ طے کرتے وقت لڑکی کی تعلیم، سلیقہ مندی یا دینداری کے بارے میں دریافت کرنے کے بجائے، سب سے پہلے اس کے والد اور بھائی کی آمدنی اور معاشی حیثیت پوچھی جاتی ہے، تاکہ اس سے جہیز کے معیار اور مقدار کا آسانی سے اندازہ لگایا جا سکے۔ جس گھر میں بیٹی پیدا ہوتی ہے، وہیں والدین کے ماتھے پر فکر کی لکیریں نمودار ہو جاتی ہیں، اور بعض لوگ بیٹی کو رحمت کے بجائے زحمت سمجھنے لگتے ہیں۔
کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
غربت نے چھین لی ہے خوشیوں کی ہر بہار
بیٹی کے ہاتھ پیلے ہوئے بھی تو قرض پر

◻️اسلامی قوانین اور مرد کی معاشی ذمہ داری
اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسان پر اس کی استطاعت سے زیادہ بوجھ ڈالنے کی سخت ممانعت کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:-
"لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا"
ترجمہ: "اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔" (سورۃ البقرۃ: ٢٨٦)۔
جہیز کا مطالبہ کرنا یا سماجی دباؤ کے ذریعے لڑکی والوں کو مجبور کرنا، اس قرآنی اصول کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اسلام نے مرد کو عورت کا ذمہ دار اور کفیل بنایا ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:-
"الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ"
ترجمہ: "مرد عورتوں کے محافظ اور نگہبان ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس لیے کہ وہ اپنے وسائل سے خرچ کرتے ہیں۔" (سورۃ النساء: ٣٤)۔
اسلام نے عورت کو مالی بوجھ سے اتنا آزاد رکھا ہے کہ اگر رخصتی سے پہلے طلاق بھی ہو جائے، تب بھی لڑکی والوں سے کچھ مانگنے کے بجائے، قرآن مرد کو حکم دیتا ہے کہ:-
"عَلَی الْمُوْسِعِ قَدَرُہٗ وَ عَلَی الْمُقْتِرِ قَدَرُہٗ"
ترجمہ: "خوش حال مرد اپنی حیثیت کے مطابق اور غریب مرد اپنی حیثیت کے مطابق عورت کو مال دے۔" (سورۃ البقرۃ: ٢٣٦)۔
جب اسلام طلاق جیسے نازک اور تلخ وقت پر بھی مرد پر ہی مالی ذمہ داری ڈالتا ہے، تو شادی کے پہلے یا بعد گھر کا سامان (جہیز) لڑکی والوں سے مانگنا کس طرح جائز ہو سکتا ہے؟

◻️اسوۂ رسول ﷺ اور احادیثِ مبارکہ
نبی کریم ﷺ کی حیاتِ طیبہ اور صحابۂ کرامؓ کی زندگیاں ہمارے لیے بہترین نمونہ ہیں۔ رشتہ طے کرنے کے معاملے میں آپؐ نے مال و دولت کو معیار بنانے سے منع فرمایا۔
آپؐ نے ارشاد فرمایا:-
"عورت سے چار چیزوں کی بنیاد پر نکاح کیا جاتا ہے:
اس کے مال، حسب و نسب، حسن اور دین کی وجہ سے، پس تم دیندار عورت کو ترجیح دو، کامیاب رہو گے۔" (صحیح بخاری، صحیح مسلم)۔
اگر آج ہم اس حدیث پر عمل کریں، تو جہیز کی بنیاد پر رشتے جوڑنے کا رواج خود بخود ختم ہو جائے۔
رسول اللہؐ نے فرمایا:-
"أَعْظَمُ النِّكَاحِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُ مَؤُونَةً"
ترجمہ:"سب سے زیادہ برکت والا نکاح وہ ہے جس میں سب سے کم خرچ اور کم بوجھ ہو۔" (مسند احمد)۔
اسی طرح معاشرتی دباؤ یا شرمندگی کے خوف سے لڑکی والوں کا مال لینا جائز نہیں۔
نبی کریمؐ نے فرمایا:-
"لَا يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ"
ترجمہ: "کسی مسلمان کا مال اس کی دلی رضامندی کے بغیر حلال نہیں۔" (مسند احمد)۔
بعض لوگ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی کے موقع پر موجود چند گھریلو اشیاء کو موجودہ رائج جہیز کے جواز کے طور پر پیش کرتے ہیں، حالانکہ یہ استدلال تاریخی اور شرعی اعتبار سے بالکل درست نہیں۔
سنن النسائی کی مستند روایت کے مطابق، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس مہر ادا کرنے کے لیے کوئی نقد رقم موجود نہ تھی، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے زیرِ کفالت رہنے والے حضرت علیؓ سے ان کی 'زرہ' کے بارے میں دریافت فرمایا، جسے مہر کے طور پر پیش کیا گیا۔ مزید برآں، طبقات ابن سعد کی روایات سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اسی زرہ کو فروخت کر کے حاصل ہونے والے درہم کی رقم سے ہی مہر اور نئے گھر کی بنیادی ضروریات (جیسے چٹائی، مشکیزہ اور مٹی کے برتن) کا انتظام کیا گیا تھا۔
یہ اشیاء کسی لڑکی والے کی طرف سے دیا جانے والا 'جہیز' نہیں تھیں، بلکہ خود لڑکے (حضرت علیؓ) کے اپنے سرمائے سے خریدا گیا گھر کا ابتدائی سامان تھا۔ لہٰذا، اس پاکیزہ رِشتے کو موجودہ دور کی لالچ اور نمائش پر مبنی رسمِ جہیز کے حق میں دلیل بنانا سراسر ناانصافی ہے۔ اسلام نکاح کو آسان بنانے اور فضول اخراجات سے بچنے کی تعلیم دیتا ہے، جبکہ جہیز کی موجودہ رسم اکثر اوقات بوجھ، نمود و نمائش اور معاشرتی پریشانیوں کا سبب بن جاتی ہے۔
حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریمؐ نے عورتوں کے حقوق بیان کرتے ہوئے فرمایا:-
"وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ"
ترجمہ:"اور تم پر عورتوں کا حق یہ ہے کہ تم معروف طریقے کے مطابق ان کے کھانے اور کپڑے کا انتظام کرو۔" (سنن ابی داود)۔

◻️ جہیز کے تباہ کن معاشرتی اثرات
جہیز کی لعنت اپنے اندر کئی سماجی برائیوں اور جرائم کا طوفان چھپائے ہوئے ہے۔ ایک غریب یا سفید پوش باپ اپنی بیٹی کی شادی کے لیے عمر بھر کی جمع پونجی خرچ کر دیتا ہے، قرضوں کے بوجھ تلے دب جاتا ہے، اور زندگی بھر اس سے نجات نہیں پا پاتا۔ اسی خوف سے بعض لوگ بیٹی کی پیدائش پر مایوس ہوتے ہیں، جبکہ یتیم لڑکی سے نکاح کی صورت میں اکثر لوگوں کو جہیز ملنے کے امکانات کم ہوتے ہیں اور اسی خوف اور لالچ کی وجہ سے اکثر لوگ یتیم لڑکیوں سے نکاح کرنے سے کتراتے ہیں۔ ان تمام وجوہات کے سبب لاکھوں تعلیم یافتہ اور باصلاحیت لڑکیاں صرف اس وجہ سے گھروں میں بیٹھی عمر رسیدہ ہو جاتی ہیں کہ ان کے ولیوں کے پاس بھاری جہیز دینے کی استطاعت نہیں ہوتی۔ جہیز کم لانے پر بہوؤں کو طعنے دیے جاتے ہیں، ان پر ظلم کیا جاتا ہے، اور بعض اوقات انہیں موت کے گھاٹ تک اتار دیا جاتا ہے۔
میر تقی میؔر نے اس درد کو یوں بیان کیا ہے:
اب آیا خیال اے آرامِ جاں اس نامرادی میں
کفن دینا ہی بھول گئے ہم اسبابِ شادی میں

◻️دورِ حاضر کے فتنہ انگیز رجحانات
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس صورتحال کا ذمہ دار کون ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ اس سماجی بگاڑ میں دونوں فریقوں کی کوتاہیاں شامل ہیں۔ موجودہ دور میں 'سوشل میڈیا' اور 'ویلا گنگ کلچر' نے اس آگ کو مزید ہوا دی ہے۔ مائیوں، مہندی اور بارات کی مہنگی ترین تقریبات، پرتعیش شادی ہالز کا مقابلہ اور لاکھوں روپے کے برانڈڈ جوڑے صرف اس لیے بنائے جاتے ہیں تاکہ انہیں انٹرنیٹ پر دکھایا جا سکے، جس سے غریب اور متوسط طبقے کی لڑکیاں شدید احساسِ کمتری کا شکار ہو جاتی ہیں اور یہ صورت حال کہیں نہ کہیں جہیز کے لین دین کے فروغ کا سبب بنتی ہے۔
اس کے ساتھ ہی ایک اور شرمناک زمینی حقیقت 'جہیز کی نمائش' ہے۔ شادی کے موقع پر لڑکی کے لائے ہوئے سامان کو باقاعدہ ایک الگ کمرے میں سجا کر مہمانوں کو دکھایا جاتا ہے، جہاں آنے والے لوگ سامان کی برانڈز اور قیمت پر طعن و تشنیع کے تیر چلاتے ہیں، جو لڑکی کے والدین کے دل پر خنجر کی طرح لگتے ہیں۔
آج بعض لڑکے والوں کا یہ گمان ہوتا ہے کہ اگر لڑکی امیر گھرانے سے ہوگی، تو ان کے بیٹے کی معاشی مشکلات آسان ہو جائیں گی۔ بعض لوگ یہ بھی سوچتے ہیں کہ اگر لڑکی ملازمت کرتی ہوگی، تو ان کے بیٹے کی زندگی کا بوجھ ہلکا ہو جائے گا۔ یہ سوچ اسلامی تعلیمات کے بالکل خلاف ہے۔
ایک بڑی منافقت یہ بھی ہے کہ بعض لوگ زبان سے تو کہتے ہیں کہ ”ہمیں کچھ نہیں چاہیے“، لیکن وہ شادی سے پہلے گھر کی بنیادی ضروریات کا انتظام خود نہیں کرتے۔ گویا ان کی اس ’نا‘ میں ایک بڑی ’ہاں‘ چھپی ہوتی ہے، جو لڑکی والوں پر ایک غیر محسوس اور غیر معمولی دباؤ ڈالتی ہے کہ وہ خود ہی سارا سامان لے کر آئیں۔ دوسری طرف، بعض والدین اپنی جھوٹی شان و شوکت اور نمائش کے لیے بھاری جہیز دیتے ہیں تاکہ معاشرے میں ان کی حیثیت نمایاں ہو۔ بعض اوقات لڑکی یا لڑکا خود بھی اس مادہ پرستانہ سوچ کا حصہ بن جاتے ہیں۔
شاعر نے اس بے حسی کی تصویر یوں کھینچی ہے:
بیٹی کا ہاتھ باپ نے جیسے ہی دے دیا
کتنے ہی معاشی گرگ تھے، ٹوٹے جہیز پر

◻️ اصلاحِ معاشرہ اور مرد و خواتین کا کردار
اس ناسور کے خاتمے کے لیے صرف انفرادی نہیں، بلکہ اجتماعی کوششوں کی بھی ضرورت ہے۔ تعلیمی اداروں، مساجد، سماجی تنظیموں اور ذرائع ابلاغ کو چاہیے کہ وہ سادہ نکاح اور جہیز سے پاک شادیوں کے فروغ کے لیے مستقل مہمات چلائیں۔ سوشل میڈیا کے ذریعے ایسے نکاح کی تشہیر کی جائے۔ ایسے خاندانوں کی حوصلہ افزائی کی جائے جو جہیز کے بغیر شادی کا عملی نمونہ پیش کریں۔ اگر لڑکے والے واقعی جہیز کے مخالف ہیں، تو انہیں شادی سے پہلے اپنی استطاعت کے مطابق لڑکی کی ضرورت کی بنیادی اشیاء (بیڈ، پلنگ، الماری وغیرہ) کا انتظام خود کرنا چاہیے تاکہ لڑکی والے کسی تذبذب کا شکار نہ رہیں۔
خواتین کو بھی اس اصلاحی تحریک میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ لڑکیوں کو یہ ذہن بنانا چاہیے کہ وہ اپنے سسرال کا موازنہ اپنے مائکے کی مالی حیثیت سے نہ کریں، بلکہ شوہر کی حلال کمائی پر صبر و شکر کے ساتھ زندگی گزاریں۔ اکثر ایسا دیکھا گیا ہے کہ جب لڑکے والے اخلاقی طور پر جہیز لینے سے منع کر دیتے ہیں، اور بعد میں گھر میں کسی چیز کی کمی محسوس ہوتی ہے، تو لڑکیاں فوراً طعنہ دے دیتی ہیں کہ "اگر حیثیت نہیں تھی تو جہیز کے لیے منع کیوں کیا تھا؟"۔ لڑکیوں کے ایسے طعنے مرد کی غیرت کو مجروح کرتے ہیں اور لڑکے والوں کو دوبارہ جہیز کی طرف راغب کرتے ہیں۔ گھر کی بزرگ خواتین کو بھی آگے بڑھ کر یہ یقین دہانی کرانی چاہیے کہ وہ بہو کو اس کے اخلاق اور کردار کی بنیاد پر قبول کر رہی ہیں، نہ کہ جہیز کی بنیاد پر۔
منبر و محراب سے اسلامی تعلیمات کو عام کیا جاۓ اور قرآن کی اس ہدایت کو اجاگر کیا جاۓ:-
"وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ"
ترجمہ:"اور عورتوں کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی بسر کرو۔" (سورۃ النساء: ١٩)۔

◻️ حقیقی حل اور حاصلِ کلام
ہمارے معاشرے میں ایک عجیب تضاد پایا جاتا ہے کہ بیٹی کو شادی کے موقع پر جہیز دے کر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس کا مستقبل محفوظ کر دیا گیا ہے، جبکہ اسی بیٹی کو اس کا شرعی حقِ وراثت اکثر و بیشتر نہیں دیا جاتا۔ حالانکہ اسلام میں عورت کے معاشی استحکام کا حقیقی حل جہیز نہیں، بلکہ دائمی وراثت ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:-
"لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ"
ترجمہ: "مردوں کے لیے بھی اس مال میں حصہ ہے جو والدین اور قریبی رشتہ دار چھوڑ جائیں، اور عورتوں کے لیے بھی اس مال میں حصہ ہے جو والدین اور قریبی رشتہ دار چھوڑ جائیں۔" (سورۃ النساء: ٧)۔
لہٰذا، اگر معاشرہ واقعی عورت کے معاشی تحفظ کا خواہاں ہے تو اسے جہیز کی عارضی اور فرسودہ رسم کے بجائے وراثت کے دائمی نظام کو درست طریقے سے نافذ کرنا ہوگا۔
آخر میں یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ جہیز ایک ایسا ناسور ہے جس نے ہمارے معاشرے کے اخلاقی، معاشی اور خاندانی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اگر ہم ایک باوقار، خوش حال اور انصاف پر مبنی معاشرہ چاہتے ہیں، تو ہمیں اپنی جھوٹی شان، نمود و نمائش اور روایات کو خیرباد کہنا ہوگا۔ حقیقی تبدیلی تب آئے گی جب ہم دوسروں سے مطالبہ کرنے کے بجائے اپنے گھروں سے اصلاح کا آغاز کریں۔ آئیں عہد کریں کہ ہم نہ جہیز لیں گے، نہ دیں گے، بلکہ اپنی بیٹیوں کو بہترین تعلیم، اعلیٰ تربیت، عزتِ نفس اور ان کا شرعی حقِ وراثت دے کر رخصت کریں گے؛ کیونکہ بیٹیاں بوجھ نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور رحمت ہیں، اور رحمت کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔
جس دن ہم اپنی بیٹیوں کو جہیز کے صندوق کے بجائے تعلیم، اعلیٰ کردار، اعتماد اور شرعی حقوق دے کر رخصت کرنا شروع کر دیں گے، اور بیٹوں کو اس بات کا باور کرائیں گے کہ رب العالمین نے انہیں گھر کا سربراہ بنایا ہے اور سربراہی کی خودداری کا تقاضا ہے کہ وہ اپنے ماتحتوں کی ضروریات کو پورا کرے نہ کہ ان پر منحصر رہے، اسی دن جہیز کا ناسور دم توڑ دے گا۔ ان شاء اللّٰہ
© صدائے قلم پلیٹ فارم - تمام حقوق محفوظ ہیں۔
© 2026 SADA E QALAM. ALL RIGHTS RESERVED.