🏆 جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

عائشہ انصاری
07 Jun 2026
جہیز — ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار
جہیز یہ وہ موضوع ہے جو ہمارے معاشرے کے سینے پر ناسور بن چکا ہے، ایک ایسی رسم جس نے نہ جانے کتنے غریب گھروں کی زندگیوں کو اجیرن بنا دیا ہے
اس رسم کا نام ہے "جہیز"
جہیز کیا ہے؟صرف 4 حرفوں پر مشتمل ایک لفظ ہے،
مگر افسوس
اس مختصر سے لفظ نے لاکھوں خاندانوں کی خوشیوں کو نگل لیا ہے
اسلام نے نکاح کو آسان بنایا، اسے عبادت قرار دیا، مگر ہم نے اپنی رسموں اور خواہشات کے ذریعے اسے مشکل بنا دیا۔ قرآنِ مجید میں کہیں بھی لڑکی والوں پر جہیز لازم نہیں کیا گیا، بلکہ قرآن مجید میں مہر کا ذکر ہے، جو شوہر کی طرف سے بیوی کو دیا جاتا ہے
نبی کریم ﷺ نے فرمایا
"سب سے زیادہ برکت والا نکاح وہ ہے جس میں کم خرچ ہو
جہاں جہیز کا مطالبہ آ جائے وہاں برکت، سادگی اور محبت سب ختم ہو جاتا ہے
ذرا ایک غریب باپ کا تصور کیجیے
جیسے جیسے بیٹی جوان ہوتی ہے، باپ کی پیشانی پر فکر کی لکیریں چمکنے لگتی ہے
باپ کے دل میں ایک ہی سوال گونجتا ہے
میری بیٹی کے جہیز کا انتظام کیسے ہوگا؟
یہ وہ رسم ہے جس نے محبت کے مقدس رشتے کو لین دین کی منڈی بنا دیا ہے۔
باپ قرض لیتا ہے، اپنی جمع پونجی ختم کر دیتا ہے، حتیٰ کہ بعض اوقات اپنا گھر اور زمین تک بیچ دیتا ہے، صرف اس لیے کہ معاشرے کے ظالمانہ تقاضے پورے ہو سکیں۔
اور پھر بھی بعض لوگوں کی خواہشات ختم نہیں ہوتیں۔
کبھی گاڑی چاہیے... کبھی فرنیچر چاہیے... کبھی سونا چاہیے... اور کبھی نقد رقم
آخر کیوں؟
کیا ایک بیٹی کی عزت چند سامانوں سے کم ہے؟
کیا اس کی تربیت، اس کی حیا اور اس کی محبت کسی الماری، فریج یا گاڑی سے کم قیمت ہیں؟
۔کتنی بیٹیاں صرف اس لیے گھر بیٹھی رہ جاتی ہیں کہ ان کے والد جہیز کا انتظام نہیں کر سکتے۔
غریب کی بیٹیاں گھر میں بیٹھی باپ کے چہرے کو تکتی رہتی ہے
" کاش ہمارے ابا بھی امیر ہوتے"
اب شادی عبادت کم اور نمائش زیادہ لگتی ہے۔
میرے خیال سے_
نوجوان اگر چاہیں تو اس لعنت کو ختم کرسکتے ہیں۔
"اللہ تعالیٰ نے نوجوانوں کو قوت، ہمت، عزم اور توانائی عطا فرمائی ہے کہ وہ معاشرے کی برائیوں کے خلاف کھڑے ہو سکیں اور مثبت تبدیلی لا سکیں۔"
وہ یہ اعلان کریں کہ ہمیں جہیز نہیں چاہیے
"ہم اپنی محنت کی کمائی پر فخر کریں گے۔"
"ہم کسی باپ کی مجبوری کو اپنی خوشیوں کی قیمت نہیں بنائیں گے۔"
"ہم سنت کے مطابق سادہ نکاح کریں گے۔"
ہم والدین سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اپنی بیٹیوں کو جہیز کے صندوق نہیں، بلکہ علم، حیا، اور خود اعتمادی کا سرمایہ دیجیے، کیونکہ یہی وہ دولت ہے جو ہمارے گھروں کو جنت بنا سکتی ہے۔
ہر کوئی خود سے یہ وعدہ کریں کہ جہیز نہ لیں گے، نہ دیں گے اور نہ اس کی حوصلہ افزائی کریں گے۔
ہم ایسا معاشرہ بنائیں گے جہاں بیٹی کی عزت اس کے کردار سے ہو، نہ کہ اس کے ساتھ آنے والے سامان سے
ہاتھ پیلے ہو گئے امیروں کی بیٹیوں کے،
ہاتھ ملتی رہ گئیں ہم غریبوں کی بیٹیاں
"واللہ تعالیٰ اعلم"
اللہ تعالیٰ ہمیں جہیز جیسی لعنت کے خاتمے اور سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق آسان نکاح کو فروغ دینے کی توفیق عطا فرمائے
آمین 🤲🏻
© صدائے قلم پلیٹ فارم - تمام حقوق محفوظ ہیں۔
© 2026 SADA E QALAM. ALL RIGHTS RESERVED.